مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
244. ما قالوا في الرجل يحلف (بطلاق) امرأته في الشيء فيختلفان
اگر کوئی شخص کسی چیز کے متعلق کرکے اپنی بیوی کو طلاق دینے کی قسم کھائے اور پھر دونوں کا اختلاف ہوجائے توکیا حکم ہے؟
ترقیم عوامۃ: 19540 ترقیم الشثری: -- 20331
٢٠٣٣١ - حدثنا ابو بكر قال: نا عبد الاعلى قال: سئل عن رجل قال لامراته: إن لم اكن دفعت إليك كذاوكذا فانت طالق ثلاثا، قال: فحدثنا سعيد عن قتادة انه قال: إن كانت له بينة، وإلا فقد بانت منه.
حضرت عبد الاعلیٰ رحمہ اللہ سے ایک آدمی کے بارے میں سوال کیا گیا کہ اس نے اپنی بیوی سے کہا کہ اگر میں تجھے اتنا مال نہ دوں تو تجھے تین طلاقیں، اس کا کیا حکم ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ حضرت سعید رحمہ اللہ، حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ کا فرمان نقل کرتے ہیں کہ اگر آدمی کے پاس گواہی ہو تو ٹھیک ورنہ عورت بائنہ ہوجائے گی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 20331]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20331، ترقيم محمد عوامة 19540)
ترقیم عوامۃ: 19541 ترقیم الشثری: -- 20332
٢٠٣٣٢ - حدثنا ابو بكر قال: نا يعلى بن عبيد عن عبد الملك بن ابي سليمان عن عطاء في امراة قال لها زوجها: إن لم انفق عليك عشرة دراهم كل شهر فانت طالق ثلاثا، فقالت المراة: قد مضت ثلاثة اشهر (لم تنفق علي شيئا، قال: القول ما قال الرجل، إلا ان تقيم المراة البينة انه) (١) لم ينفق عليها.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ز].
حضرت عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی سے کہا کہ اگر میں تجھ پر ہر مہینے دس درہم خرچ نہ کروں تو تجھے تین طلاق۔ عورت نے دعویٰ کیا کہ اس نے تین مہینے سے مجھ پر کچھ خرچ نہیں کیا۔ اس صورت میں آدمی کا قول معتبر ہوگا البتہ اگر عورت خرچ نہ کرنے پر گواہی قائم کردے تو اس کی بات مانی جائے گی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 20332]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20332، ترقيم محمد عوامة 19541)
ترقیم عوامۃ: 19542 ترقیم الشثری: -- 20333
٢٠٣٣٣ - حدثنا ابو بكر قال: نا هشيم عن ابي إسحاق الكوفي عن الشعبي في رجل قال لغريمه: إن لم (اقضك) (١) حقك قبل غروب الشمس فامراته طالق قال: فلقيه من الغد، فزعم انه لم يعطه شيئا قال: فقالت له امراته: (قد) (٢) طلقتني قال: فخاصمته إلى الشعبي، فقال الشعبي: اما امراتك فندينك (فيها) (٣) ، واما الرجل فبينتك (٤) انك دفعت إليه ماله، وإلا فاعطه حقه.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س، ز، ك]: (أقصك)، وفي [أ، ب]: (أقض).
(٢) سقط من: [ط].
(٣) في [جـ]: (فها).
(٤) في [ز، ك]: (فيها).
حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک شخص نے اپنے قرض خواہ سے کہا کہ اگر میں نے غروب شمس سے پہلے تیرا حق ادا نہ کیا تو میری بیوی کو طلاق۔ پھر وہ اس سے اگلے دن ملا اور اس نے کہا کہ اس نے کوئی چیز ادا نہیں کی۔ اس کی عورت نے اس سے کہا کہ تو نے مجھے طلاق دے دی ہے۔ پھر وہ یہ مقدمہ لے کر حضرت شعبی رحمہ اللہ کے پاس گئی۔ حضرت شعبی رحمہ اللہ نے کہا کہ جہاں تک تمہاری بیوی کا سوال ہے تو وہ ہم تمہاری دین داری پرچھوڑتے ہیں اور جہاں تک آدمی کی بات ہے تو تم گواہی لاؤ کہ تم نے اس کا حق ادا کردیا ہے ورنہ اس کا حق ادا کرو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 20333]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20333، ترقيم محمد عوامة 19542)