مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
243. من كره الطلاق من غير ريبة
بغیر کسی وجہ کے طلاق دینا جن حضرات کے نزدیک ناپسندیدہ ہے
ترقیم عوامۃ: 19536 ترقیم الشثری: -- 20327
٢٠٣٢٧ - حدثنا ابو بكر قال: نا محمد بن فضيل عن ليث عن شهر بن حوشب قال: تزوج رجل (١) وامراة على عهد النبي ﷺ فطلقها فقال له النبي ﷺ:"طلقتها؟" قال: نعم، قال:"من باس؟" قال: لا يا رسول الله، ثم تزوج اخرى، ثم طلقها، فقال له رسول الله ﷺ: (طلقتها؟) (٢) قال: نعم، قال:"من باس؟"، قال: لا يا رسول الله، [ثم تزوج اخرى ثم طلقها، فقال له رسول الله ﷺ: (اطلقتها؟) (٣) قال: نعم، قال:"من باس؟" قال لا يا رسول الله] (٤) ﷺ فقال رسول الله ﷺ في الثالثة:"إن الله لا يحب كل ذواق من الرجال ولا كل ذواقة من النساء" (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: زيادة (و).
(٢) في [س، ك]: (أطلقها).
(٣) في [جـ]: (أطلقها).
(٤) سقط ما بين المعكوفين من: [س].
(٥) مرسل ضعيف؛ ليث ابن أبي سليم ضعيف، وشهر ليس صحابيًا، أخرجه ابن جرير (٢/ ٥٣٩)، وانظر: علل الدارقطني (١١/ ٣٠).
حضرت شہر بن حوشب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک آدمی نے کسی عورت سے شادی کی، پھر اسے طلاق دے دی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی؟ انہوں نے کہا جی ہاں۔ آپ نے فرمایا کوئی وجہ تھی؟ انہوں نے کہا نہیں۔ انہوں نے پھر کسی عورت سے شادی کی، پھر اسے طلاق دے دی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی؟ انہوں نے کہا جی ہاں۔ آپ نے فرمایا کوئی وجہ تھی؟ انہوں نے کہا نہیں۔ انہوں نے پھر کسی عورت سے شادی کی، پھر اسے طلاق دے دی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی؟ انہوں نے کہا جی ہاں۔ آپ نے فرمایا کوئی وجہ تھی؟ انہوں نے کہا نہیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کو ہر مزے چکھنے والا مرد اور ہر مزے چکھنے والی عورت پسند نہیں ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 20327]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20327، ترقيم محمد عوامة 19536)
ترقیم عوامۃ: 19537 ترقیم الشثری: -- 20328
٢٠٣٢٨ - حدثنا ابو بكر قال: نا وكيع بن الجراح عن (معروف) (١) (عن محارب) (٢) ابن دثار قال: قال رسول الله ﷺ:"ليس شيء مما احل الله ابغض إليه من الطلاق" (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ف]: (معروف).
(٢) سقط من: [أ، ب].
(٣) مرسل؛ محارب ليس صحابيًا، أخرجه البيهقي ٧/ ٣٢٢، وأبو داود ٢١٧٠ و ٢١٧٨، وقد ورد متصلًا من حديث ابن عمر، أخرجه أبو داود (٢١٧٨)، وابن ماجه (٢٠١٨)، والحاكم ٢/ ٢١٤، وتمام (٢٦)، وابن عدي ٤/ ٣٢٣، والبغوي في التفسير ١/ ٢٠٨، والثعلبي ٩/ ٣٣٣، وابن حبان في المجروحين ٢/ ٦٤، وانظر: العلل لابن أبي حاتم ١/ ٤٣١.
حضرت محارب بن دثار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جن چیزوں کو حلال کیا ہے ان میں اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ ناپسندیدہ طلاق ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 20328]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20328، ترقيم محمد عوامة 19537)
ترقیم عوامۃ: 19538 ترقیم الشثری: -- 20329
٢٠٣٢٩ - حدثنا ابو بكر قال: نا حاتم بن إسماعيل عن جعفر عن ابيه قال: قال علي: يا اهل العراق -او يا اهل الكوفة- لا تزوجوا حسنا، فإنه رجل (مطلاق) (١) (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (طلاق).
(٢) منقطع؛ أبو جعفر محمد بن علي لم يدرك عليًا.
حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کے والد روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اہل عراق یا اہل کوفہ کو مخاطب کرکے فرمایا کہ اپنی بیٹیوں کی شادی حسن رضی اللہ عنہ سے نہ کراؤ وہ بہت طلاق دینے والے آدمی ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 20329]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20329، ترقيم محمد عوامة 19538)
ترقیم عوامۃ: 19539 ترقیم الشثری: -- 20330
٢٠٣٣٠ - حدثنا ابو بكر قال: نا حاتم (عن) (١) جعفر عن ابيه قال: قال علي: ما زال الحسن يتزوج ويطلق حتى (خشيت) (٢) ان يكون عداوة في القبائل (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، س، هـ]: (بن).
(٢) في [س، ط، هـ]: (حسبت).
(٣) منقطع أبو جعفر لم يدرك عليًا.
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حسن رضی اللہ عنہ شادی کرتے ہیں اور طلاق دیتے ہیں، یہاں تک کہ مجھے اندیشہ ہے کہ قبائل میں دشمنی کا سبب نہ بن جائیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 20330]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20330، ترقيم محمد عوامة 19539)