🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

276. في مداراة النساء
عورتوں کے ساتھ ہمدردی کرنے کابیان
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 19614 ترقیم الشثری: -- 20412
٢٠٤١٢ - حدثنا ابو بكر قال: نا ابو اسامة قال: نا مسعر عن عمرو بن مرة عن (ابي) (١) (البختري) (٢) قال: اشتكى إبراهيم إلى ربه (درءا) (٣) في ⦗٥٠٨⦘ خلق سارة فاوحى الله (تعالى) (٤) إليه ان المراة كالضلع، فإن (قومتها) (٥) كسرتها، وإن (تركتها) (٦) اعوجت (فالبس) (٧) على ما كان (فيها) (٨) (٩) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [س].
(٢) في [جـ، س، ز، ك]: (البحتري)، وفي [ط]: (بحتري).
(٣) أي: إعراضًا، وفي [أ، ب، ز]: (درى)، وسقط من: [خ].
(٤) سقط من: [جـ، ك].
(٥) في [جـ]: (قومها).
(٦) في [جـ، ك]: (تركها).
(٧) في [س]: (فالبش).
(٨) في [جـ، ك]: (فها).
(٩) منقطع.

حضرت ابو بختری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے حضرت سارہ کے اخلاق کی شکایت کی، اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی فرمائی کہ عورت پسلی کی طرح ہے، اگر تم اسے سیدھا کرنا چاہو گے تو اسے توڑ دو گے اور اگر چھوڑ دو گے توٹیڑھا کردو گے۔ اس کی عادتوں کے باوجود اس کے ساتھ گزارا کرو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 20412]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20412، ترقيم محمد عوامة 19614)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 19615 ترقیم الشثری: -- 20413
٢٠٤١٣ - حدثنا ابو بكر قال: نا (هوذة) (١) بن خليفة قال: نا عوف عن رجل قال: سمعت سمرة بن جندب يخطب على منبر البصرة يقول: سمعت رسول الله ﷺ (يقول) (٢) :"إن المراة خلقت من ضلع، وإنك إن ترد إقامة الضلع (تكسره) (٣) فداوها تعش بها، (فداوها تعش بها) (٤) " (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (هود).
(٢) سقط من: [أ، ط، هـ].
(٣) في [س]: (تكره)، وفي [هـ]: (تكسر).
(٤) سقط من: [هـ].
(٥) مجهول، لإبهام الراوي عن سمرة، أخرجه أحمد (٢٠٠٩٣)، وابن أبي الدنيا في العيال (٤٧٠)، والحارث (٤٩٦/ بغية)، والروياني (٨٥١)، وقد ورد من طريق عوف عن أبي رجاء عن سمرة وأبو رجاء ثقة فيكون صحيحًا، رواه كذلك ابن حبان (٤١٧٨)، والحاكم ٤/ ١٧٤، والبزار (١٤٧٦/ كشف)، والطبراني (٦٩٩٢)، وفي الأوسط (٨٤٨٩).

حضرت سمرہ بن جندب رحمہ اللہ نے بصرہ کے منبر پر حضور 5 کا یہ ارشاد نقل فرمایا کہ عورت کو پسلی سے پیدا کیا گیا ہے، اگر تم پسلی کو سیدھا کرنا چاہو گے توتوڑ دو گے۔ تم اس کے ساتھ ہمدردی کرتے ہوئے زندگی گزارو۔ تم اس کے ساتھ ہمدردی کرتے ہوئے زندگی گزارو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 20413]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20413، ترقيم محمد عوامة 19615)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 19616 ترقیم الشثری: -- 20414
٢٠٤١٤ - حدثنا ابو بكر قال: نا ابو اسامة عن ابي طلق عن ابيه (عن) (١) اوس ابن (ثريب) (٢) قال: اكريت (الحاج) (٣) فدخلت المسجد الحرام، فإذا (عمر (و) (٤) جرير) (٥) قال: فقال عمر (لجرير: يا ابا عمرو) (٦) كيف تصنع (مع) (٧) نسائك؟ فقال: يا امير المؤمنين! إني القى منهن شدة، ما استطيع ان ادخل (بيت) (٨) (إحداهن) (٩) في غير يومها، ولا اقبل (ابن) (١٠) (إحداهن) (١١) في غير (يوم امه) (١٢) إلا غضبن، قال: فقال عمر: إن كثيرا منهن لا (يؤمن) (١٣) بالله ولا (يؤمن) (١٤) للمؤمنين، لعلك ان تكون في حاجة (إحداهن) (١٥) (فتتهمك) (١٦) قال: فقال عبد الله ابن مسعود وهو في القوم: يا امير المؤمنين! اما تعلم ان إبراهيم شكا إلى ⦗٥١٠⦘ (ربه) (١٧) درءا في خلق سارة قال: فقيل له: إن المراة (مثل الضلع) (١٨) إن اقمتها كسرتها وإن تركتها اعوجت، فالبس اهلك على (ما فيهم) (١٩) ، قال: فقال عمر لعبد الله: إن في قلبك من العلم غير قليل، (قالها) (٢٠) ثلاث مرات، زاد فيه بعض ( (اصحابه) (٢١) اظنه) (٢٢) سفيان: ما لم ير عليها (خربة) (٢٣) في دينها (٢٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [س].
(٢) في [أ، ب]: (شريب)، وفي [س]: (شريك).
(٣) في [جـ]: اللحاج)، وفي [هـ]: (الحجاج)؛ وفي المطالب العالية ٨/ ١٩١: (عبد اللَّه بن جرير).
(٤) سقط من: [ط].
(٥) في [ز]: (عمرو وجرير).
(٦) سقط من: [ب].
(٧) في [س]: (من).
(٨) في [س]: (على).
(٩) في [س، هـ]: (إحديهن)، وفي [ط]: (أحدهن).
(١٠) في [أ، ب]: (أنية)، وفي [س، ط، هـ]: (ابنة).
(١١) في [س، هـ]: (إحديهن)، وفي [ط]: (أحدهن).
(١٢) في [أ، ب، س، هـ]: (يومها).
(١٣) في [هـ]: (لؤمنن).
(١٤) في [هـ]: (لؤمنن).
(١٥) في [هـ]: (إحديهن)، وفي [ط]: (أحدهن).
(١٦) في [أ، ب، جـ، ز، ط، ك]: (فتتهمك).
(١٧) في [جـ، ز، ك]: (اللَّه).
(١٨) في [س]: (كالضلع).
(١٩) في [جـ، ز]: (فهم).
(٢٠) في [ط]: (قال لها).
(٢١) في [س، هـ]: (الصحابة).
(٢٢) سقط من: [ط].
(٢٣) في [أ، س، هـ]: (حرمة)، وفي [ع]: (حزبة).
(٢٤) مجهول؛ لجهالة أوس بن ثريب والراوي عنه، أخرجه إسحاق كما في المطالب العالية (١٦٠١) و (٤٠٦١)، والبخاري في التاريخ ٢/ ١٨، والدولابي في الكنى ٢/ ٦٨٩.

حضرت اوس بن ثریب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ حج کے ارادے سے مسجد حرام میں داخل ہوئے تو مسجد میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت جریر رضی اللہ عنہ تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اے ابو عمرو رضی اللہ عنہ! آپ کا اپنی عورتوں کے ساتھ کیسا رویہ ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ مجھے ان کی طرف سے بہت سختی کا سامنا ہے۔ میں ان میں سے کسی کے کمرے میں باری کے بغیر داخل نہیں ہوسکتا۔ اگر میں ان میں سے کسی کے بچے کو بھی اس کی ماں کی باری کے علاوہ کسی اور دن چوم لوں تو وہ غصے میں آجاتی ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ان میں بہت سی عورتیں ایسی ہوتی ہیں جو اللہ پر ایمان نہیں رکھتیں اور نہ مومنین کو مانتی ہیں۔ بلکہ اگر تمہیں ان میں سے کسی کی کبھی ضرورت ہو تو وہ تم پر ہی الزام دھریں گی۔ اس پر حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اے امیر المومنین! کیا آپ نے نہیں سنا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے حضرت سارہ رضی اللہ عنہا کے اخلاق اور ان کی نافرمانی کی شکایت کی تھی تو ان سے کہا گیا تھا کہ عورت پسلی کی طرح ہے، اگر تم اسے سیدھا کرنا چاہو گے تو توڑ دو گے اور اگر اسے چھوڑ دو گے تو ٹیڑھا کردو گے۔ ان کی عادتوں کے باوجود ان کے ساتھ گزارہ کرو۔ یہ سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے تین مرتبہ حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ تمہارے دل میں بہت زیادہ علم ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 20414]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20414، ترقيم محمد عوامة 19616)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 19617 ترقیم الشثری: -- 20415
٢٠٤١٥ - حدثنا ابو بكر قال: نا حسين بن علي عن زائدة عن ميسرة عن ابي حازم عن ابي هريرة عن النبي ﷺ قال:"استوصوا بالنساء (١) ، فإن المراة خلقت من ضلع، وإن اعوج شيء في الضلع اعلاه، (إن) (٢) ذهبت تقيمه كسرته وإن (تركته) (٣) لم (يزل) (٤) اعوج، استوصوا بالنساء (٥) " (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، هـ]: زيادة (خيرًا).
(٢) في [جـ]: (إني).
(٣) في [ط]: (تركه).
(٤) في [ط]: (يزل).
(٥) في [س، هـ]: زيادة (خيرًا).
(٦) صحيح؛ أخرجه البخاري (٣٣٣١)، ومسلم (١٤٦٨).

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ عورتوں کے ساتھ بھلائی کرو، عورت کو پسلی سے پیدا کیا گیا ہے، پسلی میں بھی سب سے ٹیڑھا حصہ اوپر والا ہے، اگر تم اسے سیدھا کرنا چاہو گے توتوڑ دو گے۔ اگر تم اسے چھوڑ دو گے تو وہ اور ٹیڑھی ہوتی جائے گی۔ عورتوں کے ساتھ بھلائی کرو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 20415]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20415، ترقيم محمد عوامة 19617)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 19618 ترقیم الشثری: -- 20416
٢٠٤١٦ - حدثنا ابو بكر قال: نا (عبيدة) (١) بن حميد عن (ركين) (٢) عن نعيم بن حنظلة قال: قدم جرير بن عبد الله على عمر فشكا إليه ما يلقى من النساء من سوء اخلاقهن، قال: فقال عمر: إني القى مثل ما تلقى منهن، إني لآتي، قال -السوق او الناس- اشتري منهم الدابة او الثوب، فتقول المراة: إنما انطلق ينظر إلى (فتياتهم) (٣) او يخطب إليهم، قال: فقال عبد الله بن مسعود: او ما تعلم (ما) (٤) شكا إبراهيم من درء في خلق سارة، فاوحى الله إليه، إنما هي من ضلع، فخذ الضلع فاقمه، فإن استقام وإلا فالبسها على ما (فيها) (٥) (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، س، ط، ك]: (عبدة).
(٢) في [س، ط]: (دكين)، وفي [أ، ب، جـ، ز، ك]: (الركين).
(٣) في [ط]: (فتاتهم).
(٤) في [هـ]: (أن).
(٥) في [جـ، ك]: (فها).
(٦) حسن إلى عمر، نعيم بن حنظلة صدوق، أخرجه يعقوب في المعرفة ٢/ ٣١٦، وابن عساكر ٣٣/ ١٤٩.

حضرت نعیم بن حنظلہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہایک مرتبہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنی بیویوں کی بداخلاقی کی شکایت کی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جس پریشانی کا سامنا تمہیں ہے مجھے بھی ہے۔ میں جب کبھی بازار جاؤں یا لوگوں سے ملوں، کوئی جانور یا کپڑا خریدوں تو کہنے لگتی ہیں کہ یہ بازار لڑکیوں کو دیکھنے جاتا ہے اور انہیں نکاح کا پیام دیتا ہے! یہ سن کر حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے حضرت سارہ رضی اللہ عنہا کے اخلاق اور ان کی نافرمانی کی شکایت کی تھی تو ان سے کہا گیا تھا کہ عورت پسلی کی طرح ہے، اگر تم اسے سیدھا کرنا چاہو گے تو توڑ دو گے اور اگر اسے چھوڑ دو گے تو ٹیڑھا کردو گے۔ ان کی عادتوں کے باوجود ان کے ساتھ گزارہ کرو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 20416]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20416، ترقيم محمد عوامة 19618)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں