مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
10. الرجل يل فع إلى الخياط الثوب فيقطعه
ایک آدمی درزی کو کپڑے دے اور درزی انہیں کاٹ دے تو کیا حکم ہے؟
ترقیم عوامۃ: 20425 ترقیم الشثری: -- 21255
٢١٢٥٥ - حدثنا جرير عن مغيرة عن حماد عن إبراهيم قال: لا باس ان (يتقبل) (١) الخياط (الثياب) (٢) (باجر) (٣) معلوم (يقبلها) (٤) بدون ذلك (٥) ؛ بعد ان يعرفها بشيء (ا) (٦) ويقطع، او يعطيه سلوكا و (إبرا) (٧) ، او يخيط فيها شيئا، فإن لم يعرفها بهذا او بشيء منه فلا ياخذن فضلا.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (يقيل)، وفي [ط، س]: (يتقل).
(٢) سقط من: [أ، ب، هـ، س].
(٣) في [أ، ب، س]: (أجر).
(٤) في [س]: (حدثنا)، وفي [ط]: (يقبلهما)، وفي [هـ]: (أو يقيلها).
(٥) أي أن الخياط يأخذ الثوب على أن يخيطه بمبلغ معلوم، ثم يقوم الخياط بدفعه لخياط آخر ليتولى خياطته بأجرة أقل.
(٦) في [س]: سقطت.
(٧) في [أ، هـ]: (الأبر).
حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ اس بات میں کوئی حرج نہیں کہ درزی کپڑے معلوم اجرت کے بدلے قبول کرے۔ وہ اجرت معلوم کیے بغیر اس صورت میں قبول کرسکتا ہے اگر کسی طرح دس کی علامت لگا لی ہو یا اسے کاٹ دیا ہو یا اسے اس کا کچھ حصہ سوئی سے سی دیا ہو، اگر کوئی علامت نہ لگائی تو زائد کو وصول نہیں کرسکتا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 21255]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21255، ترقيم محمد عوامة 20425)
ترقیم عوامۃ: 20426 ترقیم الشثری: -- 21256
٢١٢٥٦ - حدثنا حفص بن غياث عن الشيباني عن حماد قال: كان لا يرى باسا ان ياخذ الثوب ويعطيه باقل من ذلك بالثلثين (او النصف) (١) إذا قطع او عمل فيه.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (الثلث)، وفي [س]: (اللعب)؛ وفي [أ، ب، ط]: (البعث).
حضرت حماد اس بات میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے کہ درزی کپڑا لے اور دیتے ہوئے دو ثلث اور یا نصف کم کر دے اگر اس نے اس کو کاٹا ہو یا اس میں کچھ کام کیا ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 21256]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21256، ترقيم محمد عوامة 20426)
ترقیم عوامۃ: 20427 ترقیم الشثری: -- 21257
٢١٢٥٧ - حدثنا ابو داود الطيالسي عن ابي (خلدة) (١) قال: سالت عكرمة وابا العالية فقلت: إني رجل خياط (ا) (٢) قطع الثوب و (اواجره) (٣) (باقل) (٤) ⦗٢٦٥⦘ مما آخذه (به) (٥) قالا: تعمل فيه شيئا؟ قلت: نعم! اقطعه واضمه (قالا) (٦) : لا باس.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (جلدة).
(٢) سقط من: [ك].
(٣) في [س]: (أجره).
(٤) سقط من: [ز].
(٥) سقط من: [جـ، س].
(٦) في [جـ]: (قال).
حضرت ابو نضرہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عکرمہ اور حضرت ابو العالیہ سے سوال کیا کہ میں درزی ہوں اور کپڑے سیتا ہوں میں جتنا اس میں سے لیتا ہوں اس سے کم اجرت طے کرتا ہوں، ایسا کرنا ٹھیک ہے؟ انہوں نے فرمایا تم اس میں کوئی کام کرتے ہو؟ میں نے کہا ہاں میں کاٹ کر اسے سیتا ہوں، انہوں نے فرمایا اس میں کوئی حرج نہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 21257]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21257، ترقيم محمد عوامة 20427)
ترقیم عوامۃ: 20428 ترقیم الشثری: -- 21258
٢١٢٥٨ - حدثنا ابو اسامة عن هشام عن محمد في الرجل يدفع (إلى) (١) (الرجل) (٢) الثوب فيؤاجره باقل، قال: لا باس به (إذا) (٣) عمل فيه وقطعه، قال: (يستاذنه) (٤) احب إلي.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [س].
(٢) في [أ، ب]: (رجل).
(٣) في [س]: (أو).
(٤) في [ز]: (يستأنه).
حضرت محمد فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص کسی دوسرے کو کپڑا دے اور اس کی اجرت کپڑے کی قیمت سے کم ہو تو اگر اس نے اس میں کام کیا اور کپڑا کاٹا تو اس میں کوئی حرج نہیں البتہ اجازت لینا بہتر ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 21258]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21258، ترقيم محمد عوامة 20428)
ترقیم عوامۃ: 20429 ترقیم الشثری: -- 21259
٢١٢٥٩ - حدثنا وكيع عن إسرائيل عن جابر عن ابي جعفر قال: في الخياط يدفع الثوب بالنصف او الثلث او الربع، قال: إذا اعانه بشيء فلا باس.
حضرت ابو جعفر فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص درزی کو کپڑے کا نصف، ثلث یا ربع دے اور کسی چیز سے اس کی مدد کرے تو کوئی حرج نہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 21259]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21259، ترقيم محمد عوامة 20429)