مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
33. في الخلاص في البيع
بیع میں خلاص کا بیان
ترقیم عوامۃ: 20643 ترقیم الشثری: -- 21481
٢١٤٨١ - حدثنا هشيم عن إسماعيل بن سالم قال: سمعت الشعبي يقول: ليس الخلاص بشيء، من باع (مبيعا) (١) (فاستحق) (٢) (فهو) (٣) لصاحبه، وعلى البائع الثمن الذي اخذه به، [ليس عليه اكثر من ذلك.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (بيعانا)، وفي [أ، ب، هـ]: (بيعا).
(٢) في [س، ط، هـ]: (استحق).
(٣) سقط من: [أ، ب، هـ].
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ خلاص کوئی چیز نہیں، جس نے کوئی چیز بیچی اور پھر اس میں کوئی شریک نکل آیا تو بائع سے صرف وہ ثمن لی جائے گی جو ا سنے وصول کی تھی، زیادتی کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 21481]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21481، ترقيم محمد عوامة 20643)
ترقیم عوامۃ: 20644 ترقیم الشثری: -- 21482
٢١٤٨٢ - حدثنا اسباط بن محمد عن مطرف عن عامر (عن) (١) (شريح) (٢) قال: لا (يشترط) (٣) ] (٤) الخلاص إلا احمق، (سلم) (٥) كما (بعت او اردد كما) (٦) اخذت.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ز، س، ك]: (بن).
(٢) في [ط]: (سريح).
(٣) في [س]: (يشتري).
(٤) سقط ما بين المعكوفين من: [جـ].
(٥) في [هـ]: (سلمه).
(٦) سقط من: [ط].
حضرت شریح فرماتے ہیں کہ خلاص کی شرط تو کوئی احمق ہی لگائے گا، یا تو مبیع کو اسی طرح واپس کردو جس طرح بھی تھی یا رکھ لو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 21482]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21482، ترقيم محمد عوامة 20644)
ترقیم عوامۃ: 20645 ترقیم الشثری: -- 21483
٢١٤٨٣ - حدثنا الضحاك بن مخلد عن ابن جريج عن عطاء انه كان لا يرى الخلاص شيئا.
حضرت عطاء کے نزدیک بھی خلاص کی کوئی شرعی حیثیت نہیں ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 21483]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21483، ترقيم محمد عوامة 20645)
ترقیم عوامۃ: 20646 ترقیم الشثری: -- 21484
٢١٤٨٤ - حدثنا إسماعيل بن إبراهيم عن عثمان البتي عن الحسن ان عليا كان (يحبس) (١) في (الخلاص) (٢) (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (بحسن)، وفي [هـ]: (يحسن).
(٢) في [أ، ب]: (الخلاصة).
(٣) حسن؛ عثمان صدوق.
حضرت عثمان بتی فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ خلاص کے لیے خیر کیا کرتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 21484]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21484، ترقيم محمد عوامة 20646)
ترقیم عوامۃ: 20647 ترقیم الشثری: -- 21485
٢١٤٨٥ - حدثنا يحيى بن يعلى التيمي عن منصور عن الحكم عن علي ان رجلا (ترك) (١) امراته و (ابنا) (٢) له و (جارية) (٣) فباعت امراته وابنه الجارية (فوطئها) (٤) الذي ابتاعها فولدت، ثم (جاء صاحب) (٥) الجارية فتعلق بها، (فخاصمه) (٦) إلى علي فقال علي: باعت امراتك وابنك وقد ولدت من الرجل، سلم البيع، فقال الرجل: انشدك (الله) (٧) لما قضيت بكتاب الله، فقال: خذ جاريتك وولدها، وقال (للآخر) (٨) : خذ المراة والابن بالخلاص، فلما (اخذ) (٩) سلم الآخر البيع (١٠) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) أي سافر.
(٢) في [أ، ب، ك]: (ابن).
(٣) في [س]: (جاوريته)، وفي [أ، هـ]: (جاريته).
(٤) في [س، ط]: (فوطنها).
(٥) في [أ، ب]: (حاضت).
(٦) في [س]: (فحاصمه).
(٧) سقط من [أ، ب، هـ].
(٨) في [س، ط]: (الآخر).
(٩) في [أ، ب، س، هـ]: (أخذا).
(١٠) منقطع؛ الحكم لم يدرك عليًا.
حضرت حکم فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی اور اپنے بیٹے کے لیے ایک باندی چھوڑی، اس کی بیوی اور بیٹے نے اس باندی کو فروخت کردیا، خریدار نے اس باندی کے ساتھ جماع کیا اور اس کی اولاد بھی ہوئی، اس کے بعد باندی کا مالک آگیا اور اس نے باندی کو حاصل کرنا چاہا، یہ مقدمہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس پیش ہوا، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا کہ تیری باندی کو تیری بیوی اور تیرے بیٹے نے فروخت کردیا ہے، اور خریدار کا اس سے بچہ بھی ہوگیا ہے تم بیع کو باقی رکھو، اس نے کہا کہ میں آپ کو اللہ کا واسطہ دیتا ہوں، آپ نے اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ نہیں فرمایا، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس آدمی سے فرمایا کہ اپنی باندی اور اس کے بچے کو لے جاؤ، پھر آپ نے دوسرے آدمی سے فرمایا کہ عورت اور اس کے بیٹے سے خلاص لے لو، جب ان سے خلاص لے لیا گیا تو دوسرے آدمی نے بیع کو سپرد کردیا۔ ٭ حدیث نمبر ٢٠٦٤٧ سے خلاص کا معنی یہ معلوم ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی چیز کو بیچ دے اور خریدنے والا اس کو استعمال کرنے لگے۔ پھر اس چیز میں کوئی حقدار نکل آئے تو بائع سے اس چیز کی اصل قیمت بھی لی جائے گی اور جھگڑے کو ختم کرنے کے لیے اضافی تاوان بھی وصول کیا جائے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 21485]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21485، ترقيم محمد عوامة 20647)
ترقیم عوامۃ: 20648 ترقیم الشثری: -- 21486
٢١٤٨٦ - حدثنا إسماعيل بن علية (عن سلمة) (١) بن علقمة عن ابن سيرين قال: كانت القضاة تقضي فيمن باع شيئا ليس له، فهو لصاحبه إذا طلبه (٢) هو (و) (٣) يؤخذ هذا (بالشروى) (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [س].
(٢) في [س]: زيادة (و).
(٣) سقط من: [س].
(٤) في [س، ط، ب]: (بالسروى).
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ قاضی حضرات یہ فیصلہ کیا کرتے تھے کہ جو شخص کسی چیز کو فروخت کرے تو اس پر خلاص لازم نہیں، وہ اس کے صاحب کے لیے ہوگا جب وہ طلب کرے اور اسے مثل ہی لیا جائے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 21486]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21486، ترقيم محمد عوامة 20648)
ترقیم عوامۃ: 20649 ترقیم الشثری: -- 21487
٢١٤٨٧ - حدثنا إسماعيل بن علية عن ايوب ان امراة باعت دارا لزوجها وهو غائب، فلما قدم (ابى) (١) ان يجيز البيع (فخاصمه) (٢) فيها إلى إياس بن معاوية فجعل المشتري يقول: اصلحك الله! انفقت (فيها الفي) (٣) درهم، فقال: (٤) (الفاك) (٥) علي (الفاك علي) (٦) ، (قال) (٧) : (فقضى) (٨) للرجل بداره، وامر (بامراته) (٩) إلى السجن، فلما راى ذلك جوز البيع.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (إلى)، وفي [أ، ب]: (أبي)، وفي [ز، ك]: (أبا).
(٢) في [أ، ب، هـ]: (فخاصمه).
(٣) في [س]: (منها ألف).
(٤) في [س]: زيادة (قال: على).
(٥) في [ط، هـ]: (الفال).
(٦) في [ط، هـ]: (الفال).
(٧) في [جـ، ز، ك]: (على).
(٨) في [ك]: (فقضَا).
(٩) في [هـ]: (امرأته).
حضرت ایوب فرماتے ہیں کہ ایک عورت نے اپنے خاوند کی عدم موجودگی میں اس کا گھر بیچ دیا، جب وہ واپس آیا تو اس نے بیع کو جاری رکھنے سے انکار کردیا۔ مقدمہ حضرت ایاس بن معاویہ کی عدالت میں پیش کیا گیا تو مشتری نے یہ کہنا شروع کردیا کہ اللہ آپ کی اصلاح فرمائے کہ میں نے تو اس پر دو ہزار درہم خرچ کر دئیے ہیں، اس نے کہا کہ تیرے دو ہزار مجھ پر لازم ہیں، تیرے دو ہزار مجھ پر لازم ہیں، حضرت ایاس نے مکان کا فیصلہ اس آدمی کے حق میں کردیا اور عورت کو جیل میں ڈالنے کا حکم دیا جب انہوں نے اس چیز کو دیکھا تو بیع کو جائز قرار دے دیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 21487]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21487، ترقيم محمد عوامة 20649)
ترقیم عوامۃ: 20650 ترقیم الشثری: -- 21488
٢١٤٨٨ - حدثنا معاذ بن معاذ عن ابن عون عن محمد انه كان يرى الخلاص شرطا (قويا) (١) . وكان يشدد فيه.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ك]: (قوما).
حضرت محمد خلاص کو ایک قوی شرط خیال کرتے تھے اور اس میں سختی برتتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 21488]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21488، ترقيم محمد عوامة 20650)
ترقیم عوامۃ: 20651 ترقیم الشثری: -- 21489
٢١٤٨٩ - حدثنا الضحاك بن مخلد عن اشعث عن الحسن انه كان لا يرى الخلاص شيئا.
حضرت حسن کے نزدیک خلاص کی کوئی شرعی حیثیت نہ تھی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 21489]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21489، ترقيم محمد عوامة 20651)