مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
55. في الرجل يساوم الرجل بالشيء (ولا) يكون عنده
ایسی چیز کا معاملہ کرنا جو آدمی کے پاس موجود نہ ہو
ترقیم عوامۃ: 20874 ترقیم الشثری: -- 21725
٢١٧٢٥ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا هشيم عن ابي بشر عن يوسف بن ماهك عن حكيم بن حزام قال: قلت: يا رسول الله! الرجل ياتيني ويسالني البيع ليس عندي (ما) (١) ابيعه منه، (ابتاعه) (٢) له من السوق؟ قال: فقال: لا تبع ما ليس عندك (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط (ما) من [أ، ب، س، هـ].
(٢) في [أ، و]: (ابتاع).
(٣) منقطع؛ يوسف لا يروي عن حكيم، أخرجه أحمد (١٥٣١١)، والترمذي (١٢٣٢)، وأبو داود (٣٥٠٣)، والنسائي (٧/ ٢٨٩)، وابن ماجه (٢١٨٧)، وأبو داود (٣٥٠٣)، والطيالسي (١٣٦٠)، والطحاوي في شرح المشكل (٢٠٤)، والبيهقي ٥/ ٣١٧، والطبراني (٣٠٩٩)، وعبد الرزاق (١٤٢١٤)، والخطيب ١١/ ٤٢٥.
حضرت حکیم بن حزام فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول 5! ایک آدمی میرے پاس آتا ہے اور مجھ سے اس چیز کی بیع کا سوال کرتا ہے جو میرے پاس موجود نہیں ہے، کیا میں اس سے معاملہ کرکے وہ چیز بازار سے لے کر اسے بیچ سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں، اس چیز کو نہ بیچو جو تمہارے پاس نہ ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 21725]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21725، ترقيم محمد عوامة 20874)
ترقیم عوامۃ: 20875 ترقیم الشثری: -- 21726
٢١٧٢٦ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا يحيى بن زكريا عن حجاج عن الحكم عن ابي رزين قال: قلت لمسروق ياتيني الرجل يطلب مني السمن (والزيت) (١) ، وليس عندي اشتريه ثم ادعوه له؟ قال: لا! ولكن اشتره فضعه عندك، فإذا جاءك فبعه منه.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من [أ، ب، س، ز، ط، هـ].
حضرت ابو رزین کہتے ہیں کہ ایک آدمی میرے پاس آتا ہے اور مجھ سے کہتا ہے کہ مجھے گھی اور تیل چاہئے، یہ چیزیں میرے پاس نہیں ہوتیں، کیا میں اس سے معاملہ کرکے منگوا سکتا ہوں؟ انہوں نے فرمایا نہیں، ان چیزوں کو خرید کر اپنے پاس رکھو، پھر جب وہ آئے تو اسے بیچ دو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 21726]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21726، ترقيم محمد عوامة 20875)
ترقیم عوامۃ: 20876 ترقیم الشثری: -- 21727
٢١٧٢٧ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابن ابي زائدة عن حجاج عن عبد الملك (ابن) (١) (اياس) (٢) ان عامرا وإبراهيم اجتمعا فسالهما عن رجل يطلب من الرجل المتاع وليس عنده فيشتريه ثم يدعوه إليه، فقال إبراهيم: يكره ذلك، وقال عامر: لا باس، إن شاء ان يتركه تركه.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (عن).
(٢) في [ط]: (عباس).
حضرت عبد الملک بن ایاس فرماتے ہیں کہ حضرت عامر اور حضرت ابراہیم ایک جگہ جمع ہوئے، ان دونوں سے سوال کیا گیا کہ اگر کوئی شخص کسی دوسرے سے سامان کا مطالبہ کرے، وہ سامان اس کے پاس نہ ہو تو کیا وہ اس سے معاملہ کرکے ان چیزوں کو منگوا سکتا ہے؟ حضرت ابراہیم نے اس معاملہ کو مکروہ قرار دیا، جبکہ حضرت عامر نے فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں، اگر وہ بعد میں یہ معاملہ چھوڑنا چاہے تو چھوڑ سکتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 21727]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21727، ترقيم محمد عوامة 20876)
ترقیم عوامۃ: 20877 ترقیم الشثری: -- 21728
٢١٧٢٨ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابن ابي زائدة عن عبد الملك عن عطاء في رجل يريد من الرجل البيع ليس عنده، (فإذا) (١) تواطآ على الثمن اشتراه؟ قال: لا يشتريه إلا على (غير) (٢) مواطاة من صاحبه.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط، هـ]: (فإن).
(٢) سقط من [أ، ب، هـ].
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص کسی آدمی سے کوئی ایسی چیز خریدنا چاہے جو اس کے پاس معلوم نہ ہو، وہ دونوں ثمن پر اتفاق کرلیں تو کیا وہ اس کو خرید کردے سکتا ہے؟ انہوں نے فرمایا وہ دوسرے سے معاہدہ مکمل کرنے سے پہلے اسے خریدے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 21728]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21728، ترقيم محمد عوامة 20877)
ترقیم عوامۃ: 20878 ترقیم الشثری: -- 21729
٢١٧٢٩ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابن المبارك عن الزهري عن سعيد بن المسيب انه كان يكره بيع (المراوضة) (١) ان تواصف الرجل بالسلعة ليست عندك، وكره ان (يري) (٢) (للرجل) (٣) الثوب ليس (له، فيقول) (٤) من حاجتك هذا؟ (يشتريه ليبيعه) (٥) منه.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (المواصفة، والمواصفة أن).
(٢) في [هـ]: (تري).
(٣) في [جـ]: (الرجل).
(٤) في [هـ]: (لك فتقول).
(٥) في [هـ]: (تشتريه لتبيعه).
حضرت سعید بن مسیب بیع مراوضہ کو مکروہ قرار دیتے تھے، جس کی صورت یہ ہوتی کہ آدمی ایسی چیز کا معاملہ کرے جو اس کے پاس موجود نہ ہو، انہوں نے اس بات کو بھی مکروہ قرار دیا کہ ایک آدمی دوسرے کے پاس کپڑا دیکھے اور اس سے پوچھے کہ کیا تمہیں اس کی ضرورت ہے؟ پھر اس سے اس لئے خریدے تاکہ اسے بیچ دے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 21729]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21729، ترقيم محمد عوامة 20878)
ترقیم عوامۃ: 20879 ترقیم الشثری: -- 21730
٢١٧٣٠ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع عن الحكم (بن) (١) ابي الفضل قال: قلت للحسن: الرجل ياتيني فيساومني بالحرير ليس عندي، قال: فاتي ⦗٣٨٤⦘ (السوق) (٢) ثم ابيعه قال: هذه (المواصفة) (٣) فكرهه.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (عن).
(٢) في [أ، س، ز، هـ]: (السوم).
(٣) في [ز]: (المواضعة)، وفي [و]: (المراصعة).
حضرت حکم بن ابی فضل کہتے ہیں کہ میں نے حضرت حسن سے سوال کیا کہ ایک آدمی میرے پاس آتا ہے اور مجھ سے ایسے ریشم کا معاملہ کرتا ہے جو میرے پاس موجود نہیں، پھر میں بازار سے خرید کرا سے فروخت کرتا ہوں کیا یہ درست ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ یہ مواصفہ ہے اور انہوں نے اسے مکروہ قرار دیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 21730]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21730، ترقيم محمد عوامة 20879)
ترقیم عوامۃ: 20880 ترقیم الشثری: -- 21731
٢١٧٣١ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع عن محمد بن شريك عن ابن ابي مليكة قال: اشترى رجل من رجل طعاما، بعضه عنده وبعضه ليس عنده، (فسال) (١) ابن عباس وابن (عمرو) (٢) ، (فقالا) (٣) : ما كان عنده فهو جائز، وما كان ليس عنده فليس بشيء (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ز]: (فقال).
(٢) في [س]: (عمر).
(٣) في [ط، هـ]: (قال).
(٤) صحيح.
حضرت ابن ابی ملیکہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے دوسرے آدمی سے غلہ خریدا، کچھ بائع کے پاس تھا اور کچھ نہیں تھا، اس نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما م سے اس بارے میں سوال کیا توا نہوں نے فرمایا کہ جو اس کے پاس تھا اس میں بیع جائز ہے اور جو اس کے پاس نہیں تھا اس کی بیع جائز نہیں ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 21731]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21731، ترقيم محمد عوامة 20880)