مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
66. في الرجل يدعي الشيء فيقيم عليه البينة (فيستحلف) أنه لم يبع
اگر ایک آدمی کسی چیز کا دعویٰ کرے، پھراس کے خلاف گواہی قائم ہوجائے تواس سے قسم لی جائے گی کہ اس نے اسے نہیں بیچا
ترقیم عوامۃ: 20976 ترقیم الشثری: -- 21833
٢١٨٣٣ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا جرير عن مغيرة عن الحارث في الرجل يدعي الدابة في يد الرجل فيقول: ضلت مني، قال: لا اقول للشهود: إنه لم (يبع ولم يهب) (١) ، ولكن إذا شهدت الشهود انها دابته، ضلت منه، احلفه بالله: ما باع ولا وهب.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، حـ، ط]: (تبع ولم تهب).
حضرت حارث فرماتے ہیں کہ اگر کوئی آدمی کسی آدمی کے پاس موجود سواری کے بارے میں یہ دعویٰ کرے کہ یہ میری سواری ہے جو کہ مجھ سے کھو گئی تھی تو میں گواہوں سے یہ نہیں کہوں گا کہ وہ گواہی دیں کہ نہ اس نے بیچی ہے اور نہ ہبہ کی ہے، بلکہ جب گواہ اس بات پر گواہی دے دیں گے کہ یہ اس کی سواری ہے جو گم گئی تھی تو میں مدعی سے قسم لوں گا کہ اس نے نہ اسے بیچا ہے اور نہ ہبہ کیا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 21833]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21833، ترقيم محمد عوامة 20976)
ترقیم عوامۃ: 20977 ترقیم الشثری: -- 21834
٢١٨٣٤ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا جرير عن اشعث عن ابن سيرين عن شريح قال: إذا شهدت الشهود انها دابته، احلفه بالله: ما اهلكت ولا امرت (مهلكا) (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (مهلكها).
حضرت شریح فرماتے ہیں کہ جب گواہ گواہی دے دیں گے کہ یہ اس کی ہے تو میں اس سے قسم لوں گا کہ وہ قسم کھائے کہ نہ میں نے اسے ہلاک کیا ہے اور نہ میں نے ہلاک کرنے والے کو حکم دیا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 21834]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21834، ترقيم محمد عوامة 20977)
ترقیم عوامۃ: 20978 ترقیم الشثری: -- 21835
٢١٨٣٥ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا حميد بن عبد الرحمن عن حسن بن صالح عن الاسود بن قيس عن حسان بن ثمامة ان حذيفة عرف (جملا له) (١) فخاصم فيه إلى قاض من قضاة المسلمين، فصارت على حذيفة يمين في القضاء، فحلف بالله الذي لا إله إلا هو: ما باع ولا وهب (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (جماله).
(٢) مجهول؛ لجهالة حسان بثمامة، وأخرجه الدارقطني (٤/ ٢٤٢)، والبيهقي (١٠/ ١٧٩)، وبنحوه عبد الرزاق (١٦٠٥٥).
حضرت حسان بن ثمامہ کہتے ہیں کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اپنے ایک اونٹ کو پہچان لیا اور مسلمانوں کے قاضی کے پاس مقدمہ دائر کیا، فیصلے میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ پر قسم لازم ہوئی تو انہوں نے اللہ کی قسم کھائی جس کے سوا کوئی معبود نہیں کہ نہ انہوں نے اسے بیچا ہے اور نہ ہبہ کیا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 21835]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21835، ترقيم محمد عوامة 20978)