مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
67. في الحنطة بالشعير اثنين بواحد
کیا گندم کے بدلے دگنی جو لی جاسکتی ہے؟
ترقیم عوامۃ: 20979 ترقیم الشثری: -- 21836
٢١٨٣٦ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا جرير عن مغيرة قال: كان الحجاج يعطي الناس الرزق فيقول: (اصحاب دار) (١) الرزق: من شاء اخذ اربعة اجربة شعير بجريبين (من) (٢) حنطة الذي له، (فسالنا) (٣) إبراهيم والشعبي فقالا: لا باس به.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، هـ]: (لأصحاب).
(٢) سقط من: [جـ، و]، وفي [أ، ز، ط]: (بجريبي حنطة).
(٣) في [أ، ط]: (فسألها)، وفي [هـ]: (فسألوا).
حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ حجاج لوگوں میں غلہ تقسیم کرنے کو کہتا تھا کہ جو چار جرب جو کے بدلے د و جرب گندم لینا چاہے توا سے دے دو، میں نے اس بارے میں حضرت ابراہیم اور حضرت شعبی سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 21836]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21836، ترقيم محمد عوامة 20979)
ترقیم عوامۃ: 20980 ترقیم الشثری: -- 21837
٢١٨٣٧ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابن فضيل عن اشعث عن ابي الزبير عن ⦗٤٠٦⦘ جابر قال: إذا اختلف النوعان فلا باس بالفضل يدا بيد (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) ضعيف؛ لضعف أشعث.
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ جب دو نوعوں میں اختلاف ہوجائے تو ایک ہی وقت میں زیادتی کے ساتھ دینے میں کوئی حرج نہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 21837]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21837، ترقيم محمد عوامة 20980)
ترقیم عوامۃ: 20981 ترقیم الشثری: -- 21838
٢١٨٣٨ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا عبد الاعلى عن معمر عن الزهري عن سالم ان ابن عمر كان لا يرى باسا فيما يكال يدا بيد (واحدا) (١) باثنين إذا (اختلف) (٢) الوانه (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ح]: (واحد).
(٢) في [س، ز]: (اختلفت).
(٣) صحيح.
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اس بات میں کوئی حرج نہیں کہ جب دو چیزوں کا رنگ مختلف ہو تو ایک ہی وقت میں ایک کے بدلے دو کالین دین کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 21838]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21838، ترقيم محمد عوامة 20981)
ترقیم عوامۃ: 20982 ترقیم الشثری: -- 21839
٢١٨٣٩ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا عبد الوهاب الثقفي عن خالد عن ابي قلابة قال: إذا اختلف النوعان فبع كيف شئت.
حضرت ابو قلابہ فرماتے ہیں کہ جب انواع مختلف ہوجائیں توجی سے چاہو بیچ سکتے ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 21839]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21839، ترقيم محمد عوامة 20982)
ترقیم عوامۃ: 20983 ترقیم الشثری: -- 21840
٢١٨٤٠ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا عبد الاعلى عن معمر عن الزهري انه كان لا يرى باسا ببيع البر بالشعير يدا بيد، احدهما اكثر من الآخر.
حضرت زہری اس بات میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے کہ گندم کو فی الفور ادائیگی کے ساتھ جو کے بدلے بیچا جائے کہ دونوں چیزوں میں سے ایک کم ہو اور ایک زیادہ۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 21840]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21840، ترقيم محمد عوامة 20983)
ترقیم عوامۃ: 20984 ترقیم الشثری: -- 21841
٢١٨٤١ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون عن ابن ابي عروبة عن قتادة عن مسلم بن يسار عن ابي الاشعث الصنعاني ان (عبادة بن الصامت) (١) قال: لا باس ببيع الحنطة بالشعير، والشعير اكثر منه، يدا بيد ولا يصلح نسيئة (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ز]: (هريرة بن الصليت).
(٢) صحيح؛ أخرجه النسائي ٧/ ٢٧٦، والبزار (٢٧٣٣)، والطحاوي ٤/ ٤، والشاشي (١٢٤٢)، والبيهقي ٥/ ٢٧٦، وابن الأثير في أسد الغابة ٣/ ١٦١، وأخرجه مرفوعًا مسلم (١٥٨٧)، وأحمد (٢٢٦٨٣).
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ فوری ادائیگی کے ساتھ گندم کو جو کے بدلے دینا جبکہ جو زیادہ ہو درست ہے، البتہ ادھار کے ساتھ درست نہیں ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 21841]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21841، ترقيم محمد عوامة 20984)
ترقیم عوامۃ: 20985 ترقیم الشثری: -- 21842
٢١٨٤٢ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا الفضل بن دكين عن (انيس) (١) بن خالد التميمي قال: سالت عطاء عن الشعير بالحنطة اثنين بواحد يدا بيد، قال: لا باس به.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، جـ، ح، ط، و]: (أنس).
حضرت انیس بن خالد کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء سے گندم کے بدلے جو کی بیع کے بارے میں سوال کیا کہ ایک کے بدلے دو دیئے جاسکتے ہیں یا نہیں؟ جبکہ فوری ادائیگی کے ساتھ ہوں، انہوں نے فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 21842]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21842، ترقيم محمد عوامة 20985)
ترقیم عوامۃ: 20986 ترقیم الشثری: -- 21843
٢١٨٤٣ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابن فضيل عن ابيه عن ابي حازم عن ابي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"الحنطة بالحنطة، والشعير بالشعير، يدا بيد كيلا بكيل وزنا بوزن (لا باس) (١) فمن زاد واستزاد فقد اربى إلا ما اختلفت الوانه" (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [هـ].
(٢) صحيح؛ أخرجه مسلم (١٥٨٨)، وأبو يعلى (٦٤٤١)، وأحمد (٧١٧١)، وابن ماجه (٢٢٥٥)، والنسائي ٧/ ٢٧٣.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ گندم کو گندم کے بدلے دینا، جو کو جو کے بدلے فوری ادائیگی کے ساتھ، ایک جیسے ماپ کے ساتھ اور ایک جیسے وزن کے ساتھ دینے میں کوئی حرج نہیں، اگر کسی نے زیادتی کی تو اس نے سود دیا، البتہ جن چیزوں کے رنگ مختلف ہوجائیں تو ان کی کمی زیادتی میں کوئی حرج نہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 21843]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21843، ترقيم محمد عوامة 20986)
ترقیم عوامۃ: 20987 ترقیم الشثری: -- 21844
٢١٨٤٤ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن خالد عن ابي قلابة عن (ابي) (١) الاشعث الصنعاني عن عبادة بن الصامت قال: قال رسول الله ﷺ: (الذهب بالذهب والفضة بالفضة والبر بالبر والشعير بالشعير مثلا بمثل يدا بيد، فإذا اختلفت هذه الاصناف فبيعوا كيف شئتم إذا كان يدا بيد" (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من [أ، ز، ح، جـ، ط].
(٢) صحيح؛ أخرجه مسلم (١٥٨٧)، وأحمد (٢٢٧٢٧).
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ سونے کو سونے کے بدلے، چاندی کو چاندی کے بدلے، گندم کو گندم کے بدلے، جو کو جو کے بدلے برابر سرابر اور فوری ادائیگی کے ساتھ دینا ہوگا، جب ان کی اصناف میں اختلاف ہوجائے تو جیسے چاہو بیچ سکتے ہو، جبکہ ان کا فوری ادا ہونا ضروری ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 21844]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21844، ترقيم محمد عوامة 20987)