🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

91. في الرجل يكون له على الرجل الدين فلا يدرى أين هو؟
اگر ایک آدمی نے کسی کا قرضہ دینا ہو اور اسے معلوم نہ ہو کہ وہ کہا ں ہے تو کیا حکم ہے؟
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 21166 ترقیم الشثری: -- 22037
٢٢٠٣٧ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا جرير عن مغيرة عن إبراهيم قال: (إن) (١) كان عليك دين لرجل فلم تدر اين هو؟ واين وارثه؟ فتصدق به عنه فإن جاء فخيره.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، ز، و]: (إذا).
حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ اگر تم پر کسی آدمی کا قرضہ ہو اور تمہیں معلوم نہ ہو کہ وہ کہاں ہے یا اس کے ورثاء کہاں ہیں تو اس کی طرف سے صدقہ کردو، اس کے بعد اگر وہ آجائے تو اسے اختیار دے دو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 22037]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22037، ترقيم محمد عوامة 21166)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 21167 ترقیم الشثری: -- 22038
٢٢٠٣٨ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابن إدريس عن شعبة عن عبد الله بن (حنش) (١) عن ابن عمر في رجل هلك وعليه دين لا يعرف صاحب الدين، فامر ان يتصدق عنه بذلك الدين (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ح، ط]: (حشر)، وفي [ز]: (حسن).
(٢) صحيح.

حضرت عبد اللہ بن حنش فرماتے ہیں کہ ایک آدمی ہلاک ہوگیا اور اس پر قرضہ تھا، قرضہ دینے والا کو علم نہ تھا کہ وہ کہاں ہے، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے حکم دیا کہ قرضے کے برابر رقم اس کی طرف سے صدقہ کردے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 22038]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22038، ترقيم محمد عوامة 21167)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 21168 ترقیم الشثری: -- 22039
٢٢٠٣٩ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا حفص بن غياث عن اشعث عن الحسن قال: إذا مات الرجل وعليه دين فلم يدر (١) وارثه فليجعله في سبيل الله، (فإن) (٢) كان (مسلما) (٣) فلم يدر (٤) وارثه فليتصدق به عنه.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، ز، و]: زيادة (أين).
(٢) في [جـ، ز، و]: (وإن).
(٣) في [ك]: (يعلم).
(٤) في [جـ، ز، و]: زيادة (أين).

حضرت حسن فرماتے ہیں کہ جب کوئی مرجائے اور اس پر قرضہ ہو اور معلوم نہ ہو کہ اس کے ورثہ کہاں ہیں تو وہ قرضہ اللہ کے راستے میں خرچ کردیا جائے اور اگر وہ مسلمان ہو اور معلوم نہ ہو کہ اس کے ورثاء کہاں ہیں تو اس کی طرف سے صدقہ کردیا جائے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 22039]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22039، ترقيم محمد عوامة 21168)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 21169 ترقیم الشثری: -- 22040
٢٢٠٤٠ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا شريك عن عامر (بن) (١) شقيق عن ابي وائل قال: اشترى عبد الله جارية بسبعمائة درهم فغاب صاحبها (فعرفها) (٢) سنة (او) (٣) قال: حولا -ثم خرج إلى المسجد وجعل يتصدق ويقول: اللهم فله، فإن ⦗٤٤٥⦘ (ابى) (٤) (فعلي وإلي) (٥) ، ثم قال: هكذا فاصنعوا باللقطة او بالضالة (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، جـ، س، هـ]: (عن).
(٢) في [س، هـ]: (وعرفها).
(٣) في [أ، ح، ط]: (و).
(٤) في [س، ط]: (أتى).
(٥) في [جـ، و]: (فإليّ وعليَّ).
(٦) حسن؛ شريك صدوق.

حضرت ابو وائل فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے سات سو درہم میں ایک باندی خریدی، ابھی رقم کی ادائیگی نہیں ہوئی تھی کہ باندی کا مالک غائب ہوگیا، حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہایک سال تک اس کا اعلان کراتے رہے، پھر وہ مسجد گئے اور اس کی قیمت صدقہ کرنا شروع کی، ساتھ ساتھ کہتے جاتے تھے کہ اے اللہ! یہ اس کی طرف سے ہے، اگر وہ آگیا تو میری طرف اور مجھ پر لازم ہوگا، پھر فرمایا کہ ہرگری پڑی یا گمشدہ چیز کے ساتھ یونہی کیا کرو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 22040]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22040، ترقيم محمد عوامة 21169)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں