مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
132. الرجل يكون بين الرجلين فيكاتب بعضهم
ایک غلام دو آدمیوں کے درمیان مشترک ہو پھر ان میں سے کوئی ایک اُس غلام کو مکاتب بنا لے
ترقیم عوامۃ: 21485 ترقیم الشثری: -- 22377
٢٢٣٧٧ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا عبد الله بن مبارك عن يعقوب بن القعقاع عن مطر عن الحسن في عبد بين ثلاثة؛ كاتبه احدهم قال: يؤخذ منه ما اخذ منه فيقسم بين شركائه، والعبد بينهم [لا (تجوز) (١) كتابته.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، هـ]: (يجوز).
حضرت حسن رحمہ اللہ اس غلام کے متعلق فرماتے ہیں جو تین آدمیوں کے درمیان مشترک ہو پھر ان میں سے ایک اس کو مکاتب بنا لے، تو اس شخص سے لے لیا جائے گا جو وہ مکاتب غلام سے وصول کرے اور وہ مال تینوں شرکاء کے درمیان تقسیم ہوگا، اور غلام تینوں کی ملکیت میں رہے گا اس کا مکاتب بنانا جائز نہیں ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 22377]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22377، ترقيم محمد عوامة 21485)
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 22378
٢٢٣٧٨ - قال: وكان عطاء يقول: نفاذ عتقه قدر الذي عتق] (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط ما بين المعكوفين من: [أ، جـ، ح، س، ز، ط، م، و]، وانظر: الخبر في سنن البيهقي ١٠/ ٣٣٣.
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22378، ترقيم محمد عوامة ---)
ترقیم عوامۃ: 21486 ترقیم الشثری: -- 22379
٢٢٣٧٩ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا صفوان بن عيسى عن انيس بن ابى يحيى، قال: سالت سعيد بن المسيب عن مكاتب كان بين ثلاثة قاطعه بعضهم وتمسك بعضهم بكتابته فلم يقاطعه، ومات (المكاتب) (١) وترك مالا كثيرا، لمن (يتركه) (٢) ؟ قال: فقال سعيد: (يستوفي) (٣) الذين تمسكوا بقية كتابتهم، ثم يكون ما بقي (بينهم) (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ز].
(٢) في [ع]: (تركته).
(٣) في [هـ]: (يشري)، وفي [ح، ط]: (تسري)، وفي [أ، جـ]: (يشتري).
(٤) في [أ، ح، س، ط، هـ]: (منهم).
حضرت سعید بن المسیب رحمہ اللہ سے دریافت کیا گیا کہ ایک مکاتب تین آدمیوں کے درمیان مشترک ہے، ان میں سے بعض نے اس کو کتابت سے علیحدہ کردیا اور بعض نے مال کتابت وصول کیا اور علیحدہ نہ کیا، وہ مکاتب غلام فوت ہوگیا اور اس نے ترکہ میں بہت سے مال چھوڑا، تو اس کا ترکہ کس کو ملے گا؟ حضرت سعید بن المسیب رحمہ اللہ نے فرمایا: جنہوں نے مکاتب بنایا تھا ان کو بقیہ مال کتابت دیا جائے گا پھر جو کچھ بچے گا وہ ان کے درمیان مشترک ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 22379]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22379، ترقيم محمد عوامة 21486)
ترقیم عوامۃ: 21487 ترقیم الشثری: -- 22380
٢٢٣٨٠ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا (سهل) (١) بن يوسف عن شعبة قال: سالت الحكم وحمادا عن عبد كان بين رجلين، فكاتب احدهما نصيبه، فكرهه حماد ولم ير (به الحكم) (٢) باسا.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (شميل)، وفي [ح]: (إسماعيل).
(٢) في [ز]: (الحكم به).
حضرت حکم اور حضرت حماد سے دریافت کیا گیا کہ ایک غلام دو آدمیوں کے درمیان مشترک ہے ان میں سے کسی ایک کا اس کو مکاتب بنانا کیسا ہے؟ حضرت حماد نے اس کو ناپسند فرمایا اور حضرت حکم نے اس کی اجازت دی اور ایسا کرنے میں کوئی حرج نہ سمجھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 22380]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22380، ترقيم محمد عوامة 21487)
ترقیم عوامۃ: 21488 ترقیم الشثری: -- 22381
٢٢٣٨١ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابن ابي زائدة عن إسرائيل عن جابر عن عامر في رجل كاتب حصته من عبد قال: إن علم اصحابه قبل ان يؤدي (ردوه) (١) ، وإن ادى لم يرد.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (ردده).
حضرت عامر فرماتے ہیں کہ کوئی شخص غلام میں اپنے حصہ کا مکاتب بنا لے اگر ادائیگی سے قبل اس کے ساتھیوں کو پتہ چل جائے تو رد کردیا جائے گا اور اگر ان کو معلوم ہونے سے پہلے ادائیگی ہوجائے تو رد نہیں کیا جائے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 22381]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22381، ترقيم محمد عوامة 21488)
ترقیم عوامۃ: 21489 ترقیم الشثری: -- 22382
٢٢٣٨٢ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابن ابي زائدة عن ابيه عن عامر في عبد بين ثلاثة فاعتقه رجلان منهم، ثم توفي العبد وله مال، قال: يغرمان اللذان اعتقا للذي لم يعتق ثلث ثمنه، ثم يقسم ميراثه على ثلاثة اسهم، لكل رجل سهم.
حضرت عامر اس غلام کے متعلق فرماتے ہیں جو تین آدمیوں کے درمیان مشترک تھا ان میں سے دو نے اس کو آزاد کردیا، پھر غلام کا انتقال ہوگیا اور اس نے کچھ مال چھوڑا تو جن دو نے غلام کو آزاد کیا تھا وہ تیسرے شخص کے لئے ثلث مال کا ضامن ہوں گے پھر اس کے بعد اس کی وراثت کو تین حصوں میں تقسیم کریں گے اور ہر شریک کو ایک حصہ ملے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 22382]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22382، ترقيم محمد عوامة 21489)
ترقیم عوامۃ: 21490 ترقیم الشثری: -- 22383
٢٢٣٨٣ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا هشيم عن يونس عن الحسن في عبد بين رجلين، قال: كان يكره ان يكاتبه احدهما إلا بإذن شريكه، فإن فعل قاسمه الذي لم يكاتب (١) كل شيء اخذ منه، فإذا استكمل الذي كاتبه ما كاتبه عليه عتق وسعى في نصف قيمته (للذي) (٢) لم يكاتبه والولاء بينهما.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ز]: زيادة (على).
(٢) في [أ، ط، هـ]: (الذي).
حضرت حسن فرماتے ہیں جو غلام دو آدمیوں کے درمیان مشترک ہو، اسے دوسرے شریک کی اجازت کے بغیر مکاتب بنانا مکروہ ہے، اور اگر بغیر اجازت کے مکاتب بنا لیا تو جتنا مال پہلا شریک غلام سے وصول کرے گا وہ مال دوسرے شریک کے ساتھ تقسیم کرے گا،، پھر غلام مکمل بدل کتابت ادا کر دے تو وہ آزاد ہوجائے گا اور جس آقا نے اس کو آزاد نہیں کیا تھا اس کے لئے نصف قیمت میں سعی کرے گا اور اس غلام کی ولاء دونوں کو ملے گی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 22383]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22383، ترقيم محمد عوامة 21490)