مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
140. في الرجل يلتقط الصبي فينفق عليه
کسی شخص کو کوئی بچہ ملے اور وہ اُس کو پا لے اور اُس پر خرچ کرے تو اس کا شرعی حکم کیا ہے؟
ترقیم عوامۃ: 21546 ترقیم الشثری: -- 22445
٢٢٤٤٥ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا إسماعيل بن علية عن ابن عون قال: حدثنا المسور بن (زيد) (١) ان امراة التقطت صبيا، فانفقت عليه حتى شب، ثم طلبت نفقتها، فكتب في ذلك إلى عمر بن عبد العزيز ان تستحلف انها لم (تنفق) (٢) عليه احتسابا، فإن حلفت (استسعي) (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ح، ط، هـ]: (يزيد).
(٢) في [ح، ز، ط]: (ينفق).
(٣) في [هـ]: (استغنى).
حضرت مسور بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک عورت کو بچہ ملا، اس نے اس کو پالا اور اس پر خرچ کیا یہاں تک کہ وہ جوان ہوگیا، پھر خاتون نے اس لڑکے سے نفقہ کا مطالبہ کیا، اس لڑکے کے باریحضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ کو خط لکھ کر اس کا حکم طلب کیا گیا۔ آپ نے جواب میں فرمایا کہ اس عورت سے قسم لی جائے گی کہ اس نے ثواب کی نیت سے لڑکے پر خرچ نہیں کیا۔ اگر وہ قسم کھالے تو لڑکے سے نفقے کے لیے سعی کرنے کو کہا جائے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 22445]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22445، ترقيم محمد عوامة 21546)
ترقیم عوامۃ: 21547 ترقیم الشثری: -- 22446
٢٢٤٤٦ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن جابر عن عامر في الرجل ينفق على (اللقيط) (١) قال: لا شيء له.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (اللقيطة).
حضرت عامر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی لقیط (گرے پڑے بچہ) پر خرچ کرے تو (بعد میں) اس بچہ پر کچھ لازم نہیں ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 22446]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22446، ترقيم محمد عوامة 21547)
ترقیم عوامۃ: 21548 ترقیم الشثری: -- 22447
٢٢٤٤٧ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا حاتم بن إسماعيل عن جعفر عن ابيه عن علي قال: (المنبوذ) (١) حر، وإن طلب الذي رباه نفقته وكان موسرا رد عليه، وإن لم يكن موسرا كان ما انفق عليه صدقة (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) أي: اللقيط، وفي [أ، ح، ط]: (المستور).
(٢) منقطع؛ أبو جعفر لا يروي عن علي.
حضرت علی رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں کہ جو بچہ ملے وہ آزاد ہے، جس شخص نے اس بچہ کی پرورش کی ہے اگر وہ نفقہ کا مطالبہ کرے تو اگر بچہ (بڑا ہو کر) مالدار ہو تو اس کو واپس کرے گا اور اگر وہ بچہ مالدار نہ ہو تو اس شخص نے جو اس پر خرچ کیا ہے وہ صدقہ ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 22447]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22447، ترقيم محمد عوامة 21548)
ترقیم عوامۃ: 21549 ترقیم الشثری: -- 22448
٢٢٤٤٨ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابو داود الطيالسي عن شعبة قال: اخبرني خالد بن ابي (الصلت) (١) قال: قال (لي) (٢) عمر بن عبد العزيز: إن عمر بن الخطاب قضى في ولد الزنا انه يقاص صاحبه بما خدمه، وما بقي (استسعي) (٣) (فيه) (٤) (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ز]: (طالب).
(٢) سقط من: [ز].
(٣) في [حـ، هـ]: (استغني).
(٤) سقط من: [ح].
(٥) منقطع؛ عمر بن عبد العزيز لا يروي عن عمر بن الخطاب.
حضرت خالد بن ابی صلت رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ نے مجھ سے فرمایا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ولد الزنا کے متعلق فیصلہ فرمایا تھا کہ وہ اپنے پالنے والے کا حساب چکائے جو اس نے اس کی خدمت کی ہے، اور جو باقی رہ جائے اس کے لئے کوشش کرے، اور میں نے فیصلہ کیا ہے کہ جو اس نے خدمت کی ہے اس کا حساب چکائے اور جو باقی بچ جائے وہ بیت المال سے ادا کیا جائے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 22448]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22448، ترقيم محمد عوامة 21549)
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 22449
٢٢٤٤٩ - وقضيت انا: يقاصه بما خدمه، وما بقي اديته عنه من بيت المال.
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22449، ترقيم محمد عوامة ---)