مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
141. في الرجل يأخذ البعير الضال فينفق عليه
کسی شخص کو گمشدہ اونٹ ملے اور وہ اُس پر خرچ کرے تو کیا حکم ہے؟
ترقیم عوامۃ: 21550 ترقیم الشثری: -- 22450
٢٢٤٥٠ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا علي بن مسهر عن داود عن الشعبي قال: اضل رجل بعيرا، فوجده عند رجل قد انفق عليه، اعلفه، واسمنه، فاختصما إلى عمر بن عبد العزيز وهو يؤمئذ امير على المدينة، فقضى لصاحب البعير ببعيره، وقضى عليه بالنفقة.
حضرت شعبی رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی کا اونٹ گم ہوگیا، اس نے اپنا اونٹ دوسرے شخص کے پاس پایا جو اس کو کھلا پلا رہا ہے، اس کو چارہ دے کر فربہ کردیا ہے، وہ دونوں اپنا جھگڑا حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ کے پاس لے کر گئے، آپ ان دنوں مدینہ منورہ کے گورنر تھے، آپ نے اونٹ کے مالک کے لئے اونٹ کا فیصلہ فرمایا اور اس پر اس کے خرچہ کی ادائیگی کو لازم فرمایا، حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں مجھے اس فیصلہ نے تعجب میں نہیں ڈالا، پھر آپ نے فرمایا کہ آدمی اپنا اونٹ پکڑ لے اس پر کوئی نفقہ وغیرہ بھی نہیں ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 22450]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22450، ترقيم محمد عوامة 21550)
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 22451
٢٢٤٥١ - (فقال) (١) الشعبي: فلم يعجبني ذلك، وقال: ياخذ الرجل بعيره ولا نفقة عليه.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، هـ]: (قال).
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22451، ترقيم محمد عوامة ---)
ترقیم عوامۃ: 21551 ترقیم الشثری: -- 22452
٢٢٤٥٢ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا حاتم بن إسماعيل عن جعفر عن ابيه قال: سمعت النعمان بن مرة يحدث (١) سعيد بن المسيب قال: رايت عليا بنى للضوال مربدا، فكان يعلفها علفا لا يسمنها ولا يهزلها من بيت المال، فكانت تشرف باعناقها، فمن اقام بينة على شيء اخذه، وإلا اقرها على حالها لا يبيعها (٢) . (فقال) (٣) سعيد بن المسيب: لو وليت امر المسلمين صنعت هكذا.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ] زيادة: (عن).
(٢) صحيح.
(٣) في [جـ، ز]: (قال).
حضرت سعید بن المسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے گمشدہ اونٹوں کے لئے باڑہ بنایا ہوا تھا، اس میں ان کو چارہ ڈالا جاتا، نہ ان کو بہت فربہ کیا جاتا نہ بہت لاغر، سارا خرچ بیت المال کے ذمہ ہوتا، وہ اونٹ گردنوں کو بلند کرکے جھانکا کرتے تھے، اگر کوئی شخص کسی اونٹ پر گواہ پیش کردیتا تو وہ لے لیتا وگرنہ وہ باڑہ میں اسی حال میں رہتے، اس کو فروخت نہ کیا جاتا۔ حضرت سعید بن مسیب فرمایا کرتے تھے کہ اگر مجھے مسلمانوں کا امیر بنایا جاتا تو میں یہی کرتا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 22452]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22452، ترقيم محمد عوامة 21551)