صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
29. باب حِفْظِ اللِّسَانِ لِلصَّائِمِ:
باب: روزہ دار کے لئے زبان کی حفاظت کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1151 ترقیم شاملہ: -- 2703
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رِوَايَةً، قَالَ: " إِذَا أَصْبَحَ أَحَدُكُمْ يَوْمًا صَائِمًا، فَلَا يَرْفُثْ وَلَا يَجْهَلْ، فَإِنِ امْرُؤٌ شَاتَمَهُ أَوْ قَاتَلَهُ، فَلْيَقُلْ: إِنِّي صَائِمٌ إِنِّي صَائِمٌ ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے) روایت کی، کہا: ”جب تم میں سے کوئی کسی دن روزے سے ہو تو وہ فحش گوئی نہ کرے، نہ جہالت والا کوئی کام کرے، اگر کوئی شخص اس سے گالی گلوچ یا لڑائی جھگڑا (کرنا) چاہے تو وہ کہے: میں روزہ دار ہوں، میں روزہ دار ہوں۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2703]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کا کسی دن روزہ ہو تو وہ شہوت انگیز حرکت نہ کرے اور نہ شورو غوغا کرے اور نہ جذبات کی رو میں بہ جائے (جہالت نادانی کاکام نہ کرے) اگر کوئی انسان اسے گالی یا لڑائی جھگڑے پر ابھارے تو وہ سوچ لے میں تو روزہ دار ہوں میں تو روزے دار ہوں۔“ فلیقل دل میں کہے سوچ لے یا زبان سے کہہ دے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2703]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1151
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة