مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
205. في اللقطة ما يصنع بها؟
پڑی ہوئی کوئی چیز ملے تو اُس کا کیا کرے؟
ترقیم عوامۃ: 22059 ترقیم الشثری: -- 23003
٢٣٠٠٣ - حدثنا ابو بكر قال: (حدثنا وكيع قال) (١) : حدثنا سفيان عن سلمة ابن كهيل عن سويد بن غفلة قال: خرجت انا و (زيد بن صوحان) (٢) وسلمان بن ربيعة حتى إذا كنا بالعذيب (٣) التقطت سوطا، فقالا: لي القه، فابيت فلما (اتيت) (٤) (المدينة) (٥) اتيت ابي بن كعب فسالته فقال: التقطت (مائة) (٦) دينار على عهد النبي ﷺ، فذكرت ذلك له فقال: عرفها سنة، فإن جاء صاحبها (فادفعها) (٧) إليه وإلا فاعرف عددها ووعاءها ووكاءها، ثم يكون كسبيل مالك (٨) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ز].
(٢) ورد في [ط، ح]: (زيد بن حارثة)، وفي حاشية [م]: (زيد بن سوحان).
(٣) العذيب: مكان قرب القادسية، يمر به حجاج الكوفة، فيه ماء عذب.
(٤) في [جـ، ز]: (أتينا).
(٥) في [ط]: ناقصة (المدينة).
(٦) في [ح]: (ثلاث مائة).
(٧) في [ح]: (فارفعها).
(٨) صحيح؛ أخرجه البخاري (٢٤٢٦)، ومسلم (١٧٢٣).
حضرت سوید بن غفلہ سے مروی ہے کہ میں، زید بن صوحان اور حضرت سلمان بن ربیعہ سفر پر نکلے یہاں تک کہ مقام عذیب پر جب پہنچے تو میں نے ایک کوڑا گرا ہوا اٹھا لیا، اُن دونوں نے مجھ سے کہا کہ اس کو پھینک دو، لیکن میں نے انکار کردیا۔ جب میں مدینہ آیا تو میں حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے اس کے متعلق سوال کیا؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سو دینار ملے تھے میں نے ان کو ذکر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ایک سال تک اس کی تشہیر کرو، اگر مالک آجائے تو اس کے حوالہ کردو ورنہ ان دیناروں کی تعداد اور تھیلی، برتن وغیرہ کی اچھی طرح پہچان کرلو۔ پھر تو اس رقم کے مالک کے راستہ کی مانند ہے (یعنی پہلے وہ اس رقم کو راستہ سے اٹھا لیتا لیکن اب وہ تیرے سے لے گا)۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 23003]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23003، ترقيم محمد عوامة 22059)
ترقیم عوامۃ: 22060 ترقیم الشثری: -- 23004
٢٣٠٠٤ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا يحيى بن سعيد القطان عن عبد الرحمن بن ⦗١٢٩⦘ حرملة قال: سالت سعيد بن المسيب عن اللقطة فقال: عرفها (سنة) (١) (فانشد) (٢) ذكرها، فإن جاء من يعرفها فاعطها إياه هالا فتصدق بها، فإن جاء فخيره بين الاجر واللقطة.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ز].
(٢) في [أ، جـ، ح، ز]: (وأنشد).
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے لقطہ کے متعلق دریافت کیا گیا؟ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا ایک سال تک تشہیر کرو، اور خوب اس کی مشہوری کرو، اگر مالک آجائے تو اس کے حوالہ کردو، وگرنہ اس کے لئے صدقہ کردو، پھر صدقہ کرنے کے بعد مالک آجائے تو اس کو اختیار ہے، صدقہ کا ثواب لے یا گم شدہ چیز۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 23004]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23004، ترقيم محمد عوامة 22060)
ترقیم عوامۃ: 22061 ترقیم الشثری: -- 23005
٢٣٠٠٥ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابن علية عن ايوب عن نافع عن ابن عمر انه قال في اللقطة: عرفها لا آمرك ان تاكلها، لو شئت لم تاخذها (١) (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: ناقصة (هـ).
(٢) صحيح.
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما لقطہ کے متعلق فرماتے ہیں کہ اس کی تشہیر کرو، میں آپ کو کھانے کا مشورہ نہیں دوں گا، اگر آپ چاہو تو اس کو مت اٹھاؤ۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 23005]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23005، ترقيم محمد عوامة 22061)
ترقیم عوامۃ: 22062 ترقیم الشثری: -- 23006
٢٣٠٠٦ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا عبد الوهاب الثقفي عن خالد عن ابي العلاء عن مطرف عن عياض بن (حمار) (١) قال: قال النبي ﷺ: (من وجد لقطة فليشهد (ذا عدل او ذوي عدل) (٢) ثم لا (يغيره) (٣) ولا يكتم، فإن (جاء ربها) (٤) فهو احق بها، وإلا فهو مال الله يؤتيه من يشاء) (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ح، ط]: (حماد).
(٢) في [أ، ح، ط]: (ذوا عدل أو ذو عدل)، وفي [ز]: (ذا عدل أو ذي عدل).
(٣) في [أ، ح، ط]: (لا يقر).
(٤) في [جـ، ز] (جاء بها).
(٥) صحيح؛ أخرجه أحمد (١٧٤٨١)، وأبو داود (١٧٠٩)، وابن حبان (٤٨٩٤)، والطحاوي في شرح المشكل (٣١٣٦)، وابن ماجه (٢٥٠٥)، والطبراني ١٧/ (٩٩٠)، والنسائي في الكبرى (٥٧٠٩)، وابن أبي عاصم في الآحاد (١١٩٣)، والطيالسي (١٠٨١)، وابن الجارود (٦١٧)، والبيهقي ٦/ ١٨٧، وابن عبد البر في التمهيد ٣/ ١٢١.
حضرت عیاض بن حمار سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس کو لقطہ ملے اس کو چاہیئے کہ اس پر دو گواہ بنا لے، پھر نہ اس کو تبدیل کرے نہ ہی چھپائے، اگر اس کا مالک آجائے تو وہ زیادہ حق دار ہے، اور اگر مالک نہ آئے تو وہ اللہ کا مال (نعمت) ہے جس کو چاہے وہ عطاء کرے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 23006]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23006، ترقيم محمد عوامة 22062)