🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

232. في الإشهاد: يشهد رجلين أو أكثر
نوٹس دیتے وقت دو یا زیادہ لوگوں کو گواہ بنایا جائے گا
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 22269 ترقیم الشثری: -- 23228
٢٣٢٢٨ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا عيسى بن يونس عن الاوزاعي قال: (حدثني) (١) (ابن) (٢) سراقة ان ابا عبيدة بن الجراح كتب (لاهل) (٣) ⦗١٨٥⦘ (دير) (٤) (طيايا) (٥) (إني) (٦) امنتكم على دمائكم واموالكم وكنائسكم ان تخرب او (تكشر) (٧) ما لم تحدثوا او تؤوا (محدثا) (٨) مغيلة، فإن انتم احدثتم او اويتم (محدثا) (٩) مغيلة فقد برئت منكم الذمة، وإن عليكم إنزال الضيف ثلاثة ايام، وإن ذمتنا بريئة من معرة الجيش. شهد -خالد بن الوليد ويزيد بن ابي سفيان وشرحبيل ابن حسنة و (قضاعي) (١٠) بن عامر وكتب (١١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (حدثنا)، وفي [أ، ح، ط، جـ، ز]: (حدثني).
(٢) في [ط]: (أبي).
(٣) في [جـ]: (إلى أهل).
(٤) سقط من: [أ، ح، ز، ط].
(٥) موطن بارض قنسرين بالشام بحول حمص. انظر: بغية الطلب (١/ ٥٨٤)، فتحها أبو عبدية، وفي [أ، ح]: (طبايا)، وفي [ط]: (طانا).
(٦) تكررت في: [جـ].
(٧) في [ط، هـ]: (تسكن)، وفي [أ، ح، جـ، ز]: (تكسر).
(٨) سقط من. [جـ].
(٩) في [أ، ح]: (محتلق) بدون نقاط.
(١٠) في [جـ]: (وقضى عن).
(١١) حسن؛ ابن سراقة صدوق.

حضرت عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے دیر طیایا کے لوگوں کو لکھا کہ میں نے تمہارے خون، اموال اور عبادت گاہوں کو امان دی ہے کہ ان کو برباد نہ کیا جائے اور نہ توڑا جائے، جب تک کہ تم لوگ کوئی نیا کام نہ کیئے جاؤ یا تم کسی قاتل کو ٹھکانہ دو، پس اگر تم نے کوئی نیا کام کیا یا کسی قاتل کو ٹھکانہ دیا تو پھر میں تمہارے ذمہ سے بری ہوں، تمہارے لئے ضروری ہے کہ تم مہمان کی تین دن مہمان نوازی کرو، بیشک ہم لشکر کی غلطی، لغزش سے بری ہیں۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ، حضرت یزید بن سفیان رضی اللہ عنہ، حضرت شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ اور قضاعی بن عامر رضی اللہ عنہ نے گواہی دی (گواہ بنے) اور اس کو لکھ لیا گیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 23228]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23228، ترقيم محمد عوامة 22269)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 22270 ترقیم الشثری: -- 23229
٢٣٢٢٩ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا (ابن) (١) عيينة عن عمرو بن دينار قال: مر عمر بن الخطاب بكاتب يكتب بين الناس وهو يشهد اكثر من اثنين فنهاه، ثم مر (به) (٢) (بعد) (٣) فقال: الم انهك؟ فقال (الرجل) (٤) : اطعت الله وعصيتك (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ز]: (أبو).
(٢) زائدة في: [جـ].
(٣) في [هـ]: (بعده).
(٤) سقط من: [ط].
(٥) منقطع، عمرو بن دينار لم يدرك عمر.

حضرت عمر رضی اللہ عنہایک شخص کے پاس سے گذرے جو لوگوں کے درمیان بیٹھا لکھ رہا تھا۔ اور وہ دو سے زیادہ گواہ بنا رہا تھا، آپ رضی اللہ عنہ نے اس کو منع فرمایا، پھر کچھ دیر بعد گذرے (تو وہ وہی کام کر رہا تھا) آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا میں نے تجھے منع نہیں کیا تھا؟ اس شخص نے کہا: میں نے اللہ کی اطاعت کی اور آپ کی نافرمانی۔ اور وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے صدقہ کے متعلق تھا، حضرت عبد اللہ بن ارقم رضی اللہ عنہ اور حضرت معیقیب رضی اللہ عنہ نے گواہی دی تھی اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے صدقہ کے متعلق فلاں بن فلاں نے گواہی دی تھی۔ اور اس نے تحریر کیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 23229]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23229، ترقيم محمد عوامة 22270)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 23230
٢٣٢٣٠ - وكان في صدقة عمر: شهد عبد الله بن الارقم و (معيقيب) (١) (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ز]: (معقيب)، وفي [ط]: (معينيت).
(٢) منقطع؛ عمرو بن دينار لم يدرك عمر.

تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23230، ترقيم محمد عوامة ---)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 23231
٢٣٢٣١ - وكان في صدقة علي (١) : شهد فلان وفلان كتب (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ح]: (علي).
(٢) منقطع؛ عمرو بن دينار لا يروي عن علي.

تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23231، ترقيم محمد عوامة ---)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 22271 ترقیم الشثری: -- 23232
٢٣٢٣٢ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابن مهدي عن (ابي) (١) الجراح قال: حدثني موسى بن سالم قال: لما (اجلى) (٢) الحجاج اهل الارض اتتني امراة بكتاب زعمت ان الذي (اعتق) (٣) ابوها: هذا ما اشترى طلحة بن عبيد الله (من) (٤) فلان (ابن فلان) (٥) ، اشترى منه فتاه دينار او درهم؛ بخمسمائة درهم بالجيد والطيب والحسن، وقد دفع إليه الثمن (واعتقه) (٦) لوجه الله فليس لاحد عليه سبيل إلا سبيل الولاء، (شهد) (٧) الزبير بن العوام وعبد الله بن عامر وزياد (٨) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ح]: (ابن).
(٢) في [جـ]: (أحل).
(٣) في [هـ]: (أعتقها).
(٤) في [ز]: (بن).
(٥) سقط من: [أ، ح، هـ].
(٦) في [هـ]: (فأعتقه فليس).
(٧) في [أ، ح، ط، هـ]: (فشهد).
(٨) مجهول؛ لجهالة المرأة ووالدها.

حضرت موسیٰ بن سالم رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ جب حجاج نے اہل علاقہ کو جلا وطن کیا، میرے پاس ایک خاتون مکتوب لے کر آئی، اس کا خیال تھا کہ اس کا والد آزاد کیا گیا ہے۔ (کہنے لگی) یہ وہ ہے جس کو طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ نے فلان بن فلان سے خریدا، اس نے ایک نوجوان سے دینار یا درہم کے بدلے میں خریدا پانچ سو درہم کے بدلے میں جو جید، عمدہ اور اچھے تھے۔ اور اس کو ثمن بھی دے دیا، اور اس کو اللہ کے لئے آزاد کردیا، پھر کسی کے لئے کوئی راستہ نہیں ہے سوائے ولاء کے راستے کے۔ پس گواہی دی زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ، عبد اللہ بن عامر اور زیاد نے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 23232]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23232، ترقيم محمد عوامة 22271)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں