مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
252. في الوالي والقاضي يهدى إليه
قاضی اور والی کا ہدیہ وصول کرنا
ترقیم عوامۃ: 22394 ترقیم الشثری: -- 23363
٢٣٣٦٣ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا هشام بن عروة عن ابيه عن ابي حميد الساعدي ان النبي ﷺ استعمل (ابن) (١) (اللتبية) (٢) على صدقات بني سليم، فلما جاء قال: هذا لكم، وهذا اهدي لي، فقام النبي ﷺ فخطب الناس فحمد الله واثنى عليه ثم قال:"ما بال (٣) رجال نوليهم امورا مما (ولانا) (٤) ⦗٢١٦⦘ (الله) (٥) فيجيء (احدكم) (٦) فيقول: هذا لكم وهذا اهدي إلي، افلا يجلس في بيت ابيه او بيت امه حتى تاتيه هدية إن كان صادقا" (٧) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (أبي)، وهي سقط من [ز].
(٢) في [ط]: (اللتبيه)، وفي [ع]: (الكتبية).
(٣) في [ز]: زيادة (أقوام).
(٤) في [جـ، ز]: (ولا ناها).
(٥) في [ط]: (إليه).
(٦) في [ع]: (أحدهم).
(٧) صحيح؛ أخرجه البخاري (١٥٠٠)، ومسلم (١٨٣٢).
حضرت ابو حمید الساعدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن اللتبیہ کو بنی سلیم کے صدقات پر عامل بنایا۔ جب وہ آئے تو کہا یہ تمہارے لئے ہے اور یہ میرے لیئے ہدیہ ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور لوگوں کو خطبہ دیا اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء فرمائی اور پھر فرمایا: لوگوں کو کیا ہوگیا ان کو کسی کام کا والی (نگران) بنایا جاتا ہے ان امور میں سے جن کا اللہ نے ہمیں بنایا ہے۔ پھر ان میں سے ایک شخص یہ کہتا ہوا آتا ہے کہ: یہ تمہارے لئے ہے اور یہ میرے لئے ہدیہ ہے۔ اگر وہ سچا ہے تو اپنے باپ یا ماں کے گھر کیوں نہیں بیٹھ جاتا تاکہ یہ ہدیہ اس کے پاس وہیں آجائے؟ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 23363]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23363، ترقيم محمد عوامة 22394)
ترقیم عوامۃ: 22395 ترقیم الشثری: -- 23364
٢٣٣٦٤ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا إسماعيل بن ابي خالد عن قيس (عن) (١) عدي (بن) (٢) عميرة الكندي قال: سمعت رسول الله ﷺ يقول:"من استعملناه منكم (على عمل) (٣) فكتمنا مخيطا (فما فوقه) (٤) كان غلولا ياتي به يوم القيامة"، فقام إليه رجل (اسود) (٥) من الانصار كاني انظر إليه فقال: يا (رسول) (٦) الله اقبل عني عملك قال: (وما ذاك؟" قال: سمعتك (تقول) (٧) كذا وكذا قال:"فانا اقول الآن: من استعملناه منكم على عمل فلياتنا بقليله وكثيره، فما اوتي منه اخذ، وما نهي عنه انتهى" (٨) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ح، ط]: (ابن).
(٢) في [أ، جـ، ح، ز، ط]: (عن).
(٣) سقط من: [ط].
(٤) سقط من: [ع].
(٥) سقط من: [أ، ح، ط، هـ].
(٦) في [جـ، ز]: (برسول).
(٧) سقط من: [أ، ح، هـ].
(٨) صحيح؛ أخرجه مسلم (١٨٣٣)، وأحمد (١٧٧١٩).
حضرت عدی بن عمیرہ الکندی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم 5 کو فرماتے ہوئے سنا: تم میں سے کسی کو کسی کام پر عامل مقرر کیا جائے پھر وہ اس میں سے سوئی یا اس سے زائد کچھ چھپالے۔ تو یہ خیانت ہے جو بروز قیامت سامنے لائی جائے گی۔ انصار میں سے ایک سیاہ شخص اس حال میں کھڑا ہوا گویا کہ میں اس کو دیکھ رہا تھا۔ اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول 5! آپ نے جو کام مجھے سونپا تھا اس کو واپس لے لیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا وہ کیا ہے؟ اس نے عرض کیا میں نے آپ کو سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے اس طرح اس طرح۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اب اس کو پھر کہتا ہوں۔ تم میں سے کسی کو کسی کام پر عامل مقرر کردیا جائے اس کو چاہیے کہ اس کے تھوڑے اور زائد کو ہمارے پاس لائے۔ جو اس میں سے دیا جائے اس کو لے لے اور جس سے روکا جائے اس سے منع ہوجائے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 23364]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23364، ترقيم محمد عوامة 22395)
ترقیم عوامۃ: 22396 ترقیم الشثری: -- 23365
٢٣٣٦٥ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سعيد بن عبيد الطائي عن علي بن ربيعة، (ان عليا) (١) استعمل رجلا من بني اسد يقال له: ضبيعة بن ⦗٢١٧⦘ زهير او زهير بن ضبيعة، فلما جاء قال: يا امير المؤمنين إني اهدي إلي في عملي اشياء وقد اتيتك بها، فإن كانت حلالا اكلتها وإلا فقد اتيتك بها، فقبضها علي وقال: لو حبستها كان غلولا (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط في: [أ، ح، ز، ط)، وفي [جـ]: (أن رجلًا).
(٢) صحيح.
حضرت علی رضی اللہ عنہابن ربیعہ سے مروی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بنو اسد میں سے ایک شخص کو عامل بنایا۔ جس کا نام ضبیعہ بن زہیر یا زہیر بن ضبیعہ تھا، جب وہ واپس آیا تو کہا: اے امیر المؤمنین! مجھے کافی ہدیے دئیے گئے۔ میں وہ سب آپ کے پاس لے کر حاضر ہوا ہوں۔ اگر تو وہ میرے لئے حلال ہیں تو میں اس سے کھا لوں۔ وگرنہ میں وہ آپ کو دے دیتا ہوں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس سے لے لئے اور فرمایا: اگر تو ان کو اپنے پاس رکھتا تو یہ خیانت ہوتی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 23365]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23365، ترقيم محمد عوامة 22396)
ترقیم عوامۃ: 22397 ترقیم الشثری: -- 23366
٢٣٣٦٦ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابن ابي زائدة عن ليث عن ابي الخطاب عن ابي زرعة عن ابي إدريس عن ثوبان قال: لعن النبي ﷺ الراشي والمرتشي (والرائش) (١) -يعني الذي يمشي بينهما (٢) -.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ز].
(٢) مجهول؛ أبو الخطاب مجهول، أخرجه أحمد (٢٢٣٩٩)، والطحاوي في شرح المشكل (٥٦٥٦)، والبزار (١٣٥٣/ كشف)، والحاكم (٤/ ١٠٣)، وأبو يعلى كما في الإتحاف (٦٧١٦)، والبيهقي في شعب الإيمان (٥٥٠٣).
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے نبی 5 نے رشوت دینے والے، رشوت لینے والے اور ان کے مابین جو معاونت کا ذریعہ بنے ان سب پر لعنت فرمائی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 23366]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23366، ترقيم محمد عوامة 22397)
ترقیم عوامۃ: 22398 ترقیم الشثری: -- 23367
٢٣٣٦٧ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا ابن ابي ذئب عن (خاله) (١) الحارث عن ابي سلمة بن عبد الرحمن عن عبد الله بن عمرو قال: لعن رسول الله ﷺ الراشي والمرتشي (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ح، ط]: (خالد).
(٢) حسن؛ الحارث صدوق، أخرجه أحمد (٦٥٣٢)، وأبو داود (٣٥٨٠)، والترمذي (١٣٣٧)، وابن ماجة (٢٣١٣)، ووكيع في أخبار القضاة ٦/ ٤١، وابن الجارود (٥٨٦)، والطيالسي (٢٢٧٦)، وعبد الرزاق (١٤٦٦٩)، وابن حبان (٥٠٧٧)، والحاكم ٤/ ١٠٢، والطبراني في الصغير (٥٨)، والبيهقي ١٠/ ١٣٨، والبغوي (٢٤٩٣).
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے پر لعنت فرمائی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 23367]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23367، ترقيم محمد عوامة 22398)
ترقیم عوامۃ: 22399 ترقیم الشثری: -- 23368
٢٣٣٦٨ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا يعلى بن عبيد عن الحارث بن عمير عن يحيى بن سعيد قال: لما بعث النبي ﷺ ابن رواحة إلى اهل خيبر اهدوا له (فردة) (١) ⦗٢١٨⦘ فقال: هو سحت (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ح، هـ]: (فروة).
(٢) مرسل؛ يحيى ليس صحابيًا، أخرجه مالك في الموطأ (١٣٨٨)، والبيهقي (٤/ ١٢٢)، وابن عساى (٢٨/ ١١١)، وأخرجه متصلًا من حديث ابن عمر، ابن حبان (٥١٩٩)
حضرت یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب اللہ کے نبی 5 نے حضرت ابن رواحہ رضی اللہ عنہ کو خیبر بھیجا تو انہوں نے ان کو ہدیے دئیے۔ آپ رضی اللہ عنہ وہ واپس کر دئیے اور فرمایا یہ حرام ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 23368]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23368، ترقيم محمد عوامة 22399)
ترقیم عوامۃ: 22400 ترقیم الشثری: -- 23369
٢٣٣٦٩ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا يعلى عن الحارث (بن عمير) (١) عن يحيى بن سعيد قال: كتب عمر إلى اهل العراق: إن لنا هدايا دهاقيننا (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [هـ].
(٢) منقطع؛ يحيى لم يدرك عمر.
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عراق والوں کو لکھا: ہمارے چوہدریوں اور زمینداروں کے ہدایا ہمارے لیے ہیں (یعنی ہمیں بھیجو اور خود اپنے پاس مت رکھو)۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 23369]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23369، ترقيم محمد عوامة 22400)
ترقیم عوامۃ: 22401 ترقیم الشثری: -- 23370
٢٣٣٧٠ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن ابي حصين عن شريح قال: لعن (١) الراشي والمرتشي.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط، هـ]: زيادة (اللَّه).
حضرت شریح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رشوت دینے اور لینے والے پر لعنت کی گئی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 23370]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23370، ترقيم محمد عوامة 22401)