🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

325. القوم يمرون بالإبل
لوگ اونٹوں کے پاس سے گذریں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 22740 ترقیم الشثری: -- 23744
٢٣٧٤٤ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابو اسامة قال: حدثنا (عبيد الله) (١) بن عمر عن نافع عن ابن عمر قال: نهى رسول الله ﷺ ان (تحتلب) (٢) المواشي إلا بإذن اهلها، (و) (٣) قال: ايحب احدكم ان تؤتى مشربته التي فيها طعامه فيكسر بابها (فينتثل) (٤) ما فيها؟ (فإن) (٥) ما (في) (٦) (ضروع) (٧) مواشيهم (مثل) (٨) ما في (مشاربكم) (٩) الا! فلا يحل ما في ضروعها إلا بإذن اهلها (١٠) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، ز]: (عبد اللَّه).
(٢) في [جـ]: (تحلب).
(٣) في [أ]: (أو).
(٤) في [أ، ح، ط]: (فينتقل).
(٥) في [أ، هـ]: (فإنما)، وفي [جـ]: (فإنمار).
(٦) سقط من [ط].
(٧) في [جـ]: (بطون).
(٨) في [ز]: (بمثل).
(٩) في [ط]: (شاربكم).
(١٠) صحيح؛ أخرجه البخاري (٢٤٣٥)، ومسلم (١٧٢٦).

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مویشیوں کا دودھ بغیر اجازت نکالنے سے منع فرمایا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا، کیا تم میں سے کوئی شخص یہ پسند کرتا ہے کہ کوئی اس کے کمرے میں آئے جس میں اس کا سامانِ خوراک موجود ہو اور اس کا دروازہ توڑے اور جو کچھ اس میں ہے اس کو لے جائے؟ بیشک جو کچھ جانوروں کے تھنوں میں ہے وہ تمہارے کمروں کی طرح ہے، پس بغیر اجازت کے جو کچھ تھنوں میں ہے اس کا استعمال حلال نہیں ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 23744]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23744، ترقيم محمد عوامة 22740)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 22741 ترقیم الشثری: -- 23745
٢٣٧٤٥ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن زيد بن وهب قال: قال عمر: إذا مررتم براعي الإبل فنادوا: (يا راعي) (١) ثلاثا، فإن اجابكم فاستسقوه، وإن لم يجبكم (فاتوها) (٢) فحلوها واشربوا ثم صروها (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (يا راعي الإبل).
(٢) في [ط]: (فأعرها فحلق ما).
(٣) صحيح؛ أخرجه عبد الرزاق (٦٩٦٠)، والبيهقي ٩/ ٣٥٩.

حضرت عمر رضی اللہ عنہارشاد فرماتے ہیں کہ جب تم کسی کے اونٹوں کے پاس سے گذرو تو چرواہے کو تین بار اے چرواہے کہہ کر پکارو، اگر وہ تمہاری پکار کا جواب دے کر آجائے تو اس سے دودھ طلب کرو، اور اگر وہ پکار کا جواب نہ دے تو تم خود دودھ نکال کر استعمال کر کے اس کے تھنوں کو باندھ دو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 23745]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23745، ترقيم محمد عوامة 22741)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 22742 ترقیم الشثری: -- 23746
٢٣٧٤٦ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا إسرائيل عن عبد الله بن عصمة قال: سمعت ابا سعيد الخدري يقول: لا يحل لرجل ان يحلب ناقة رجل مصرورة إلا بإذن صاحبها، الا إن خاتمها صرارها، فإن (ارمل) (١) القوم (فلينادي) (٢) الراعي ثلاثا، فإن اجاب شربوا، وإلا فليمسكه رجلان وليشربوا (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ح، ط، ز]: (أوبل).
(٢) في [أ، هـ، ح، ط]: (فينادى).
(٣) حسن؛ عبد اللَّه بن عِصمة صدوق، أخرجه الطحاوي ٤/ ٢٤١، كما أخرجه مرفوعًا أحمد (١١٤١٩)، والطحاوي ٤/ ٢٤١، والبيهقي ٩/ ٣٦٠، وبنحوه ابن ماجة (٢٣٠٥)، وابن حبان (٥٢٨١)، الحاكم (٤/ ١٣٢)، وأبو يعلى (١٢٨٧)، وأبو نعيم في الحلية ٣/ ٩٩، وابن الجوزي في التحقيق (١٩٧٦).

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہارشاد فرماتے ہیں کہ کسی شخص کے لئے جائز نہیں کہ وہ کسی کی اونٹنی کا دودھ بغیر اجازت استعمال کرے جس اونٹنی کے تھنوں کو باندھا گیا ہو، بیشک اس کے تھنوں کو باندھنا اس کی مہر ہے (یعنی اب اس میں سے استعمال نہیں کرسکتے) اور اگر لوگ (قوم) زاد راہ ختم کر کے مفلس ہوجائیں تو پھر چرواہے کو تین بار پکارو، اگر وہ تمہاری پکار کا جواب دے تو اس سے لے کر پی لو، وگرنہ دو شخص اس کو پکڑیں اور دودھ نکال کر پی لیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 23746]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23746، ترقيم محمد عوامة 22742)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 22743 ترقیم الشثری: -- 23747
٢٣٧٤٧ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة [ (عن عاصم) (١) بن بهدلة] (٢) عن زر بن حبيش عن عبد الله قال: كنت غلاما يافعا (ارعى) (٣) غنما لعقبة بن ابي معيط، فجاء النبي ﷺ وابو بكر، وقد (فرا) (٤) من ⦗٣٢٦⦘ المشركين، فقالا: يا غلام، هل عندك (٥) لبن تسقينا، (فقلت) (٦) : إني مؤتمن، و (لست) (٧) (ساقيكما) (٨) ، فقال: النبي ﷺ (٩) :"هل عندك من جذعة لم (ينز) (١٠) عليها الفحل" قلت: نعم، (١١) فاتيتهما بها، (فاعتقلها) (١٢) رسول الله ﷺ ومسح الضرع ودعا (١٣) ثم اتاه (ابو بكر) (١٤) (بصحرة) (١٥) (منقعرة) (١٦) ، فاحتلب فيها فشرب وشرب ابو بكر وشربت، ثم قال: للضرع:"اقلص"، فقلص (١٧) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من [أ، ح، ط].
(٢) سقط من [جـ، ز].
(٣) في [أ، ح، ط، ز]: (نرى).
(٤) في [أ، ح، ط]: (فروا).
(٥) في [جـ، ز]: زيادة (من).
(٦) في [أ، ح، ط]: (فقال).
(٧) في [أ، جـ، ح، ط]: (ليس).
(٨) في [جـ، ز]: (بساقيكما).
(٩) في [أ، جـ]: ﵇.
(١٠) في [ط، أ، ح]: (يبن).
(١١) في [ز]: زيادة (قال).
(١٢) في [أ، ح، ط]: (فاعقلها).
(١٣) في [هـ]: زيادة (فحفل الضرع).
(١٤) سقط من [هـ].
(١٥) في [ح]: (لصخرة).
(١٦) في [ح، أ، ط]: (منعقرة).
(١٧) ضعيف؛ عاصم ضعيف في زر، أخرجه أحمد (٤٤١٢)، وابن حبان (٧٠٦١)، وأبو يعلى (٥٠٩٦)، والطبراني (٨٤٥٦)، والبيهقي في دلائل النبوة ٦/ ٨٤، والطيالسي (٣٥٣)، وابن سعد ٣/ ١٥٠، والشاشي (٦٥٩)، وأبو نعيم في الدلائل (٢٣٣).

حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں کہ میں قریب البلوغ لڑکا تھا اور عقبہ بن ابی معیط کی بکریاں چرایا کرتا تھا، حضرت محمد 5 اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ میرے پاس تشریف لائے، وہ دونوں مشرکین مکہ سے بھاگ رہے تھے، اُن دونوں نے کہا، اے لڑکے! تیرے پاس دودھ ہے جو ہمیں پلائے؟ میں نے عرض کیا میں امانت دار ہوں تم کو نہیں پلاؤں گا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا تمہارے پاس کوئی ایسی اونٹنی ہے جس پر نر اونٹ کو نہ چھوڑا گیا ہو؟ میں نے عرض کیا جی ہاں ہے، میں اس اونٹنی کو لے کر آپ کی خدمت میں آیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی ٹانگ کو باندھ دیا اور اس کے تھنوں کو ہاتھ لگاکر دعا فرمائی۔ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ پتھر کا پیالہ (نما) لے کر حاضر ہوئے پھر اس میں دودھ نکالا اور خود پیا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پیا اور میں نے پیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تھنوں کو مخاطب کر کے فرمایا: تو دوبارہ سکڑ جا! وہ تھن دوبارہ سکڑ گئے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 23747]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23747، ترقيم محمد عوامة 22743)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں