🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1. باب مَا يُبَاحُ لِلْمُحْرِمِ بِحَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ وَمَا لاَ يُبَاحُ وَبَيَانِ تَحْرِيمِ الطِّيبِ عَلَيْهِ:
باب: اس بات کا بیان کہ حج یا عمرہ کا احرام باندھنے والے کے لئے کیا چیز جائز ہے اور کیا ناجائز ہے؟ اور اس پر خوشبو کے حرام ہونے کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1180 ترقیم شاملہ: -- 2801
وحَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ رَافِعٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: سَمِعْتُ قَيْسًا يُحَدِّثُ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِالْجِعْرَانَةِ، قَدْ أَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ وَهُوَ مُصَفِّرٌ لِحْيَتَهُ وَرَأْسَهُ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَحْرَمْتُ بِعُمْرَةٍ وَأَنَا كَمَا تَرَى، فَقَالَ: " انْزِعْ عَنْكَ الْجُبَّةَ، وَاغْسِلْ عَنْكَ الصُّفْرَةَ، وَمَا كُنْتَ صَانِعًا فِي حَجِّكَ فَاصْنَعْهُ فِي عُمْرَتِكَ ".
قیس، عطاء سے حدیث بیان کرتے ہیں، وہ صفوان بن یعلیٰ بن امیہ سے، وہ اپنے والد (یعلیٰ رضی اللہ عنہ) سے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جعرانہ میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا، وہ عمرے کا احرام باندھ کر تلبیہ کہہ چکا تھا، اس نے اپنا سر اور اپنی داڑھی کو زرد رنگ سے رنگا ہوا تھا، اور اس (کے جسم) پر جبہ تھا۔ اس نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! میں نے عمرے کا احرام باندھا ہے اور میں اس حالت میں ہوں جو آپ دیکھ رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جبہ اتار دو، اپنے آپ سے زرد رنگ کو دھو ڈالو اور جو تم نے اپنے حج میں کرنا تھا وہی عمرے میں کرو۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2801]
صفوان بن یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جعرانہ میں تھے، اس نے عمرہ کا احرام باندھا ہوا تھا، اس کی داڑھی اور سر کے بال زرد رنگ سے رنگے ہوئے تھے اور وہ جبہ پہنے ہوئے تھا، اس نے پوچھا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے عمرہ کا احرام باندھا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم میری حالت دیکھ رہے ہیں“، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنا جبہ اتار دو اور اپنے سے زردی کو دھو ڈالو اور جو کچھ تم اپنے حج میں کرتے وہی اپنے عمرہ میں کرو۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2801]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1180
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1180 ترقیم شاملہ: -- 2802
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ ، حَدَّثَنَا رَبَاحُ بْنُ أَبِي مَعْرُوفٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءً ، قَالَ: أَخْبَرَنِي صَفْوَانُ بْنُ يَعْلَى ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَاهُ رَجُلٌ عَلَيْهِ جُبَّةٌ بِهَا أَثَرٌ مِنْ خَلُوقٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَحْرَمْتُ بِعُمْرَةٍ، فَكَيْفَ أَفْعَلُ؟ فَسَكَتَ عَنْهُ فَلَمْ يَرْجِعْ إِلَيْهِ، وَكَانَ عُمَرُ يَسْتُرُهُ إِذَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ يُظِلُّهُ، فَقُلْتُ لِعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: إِنِّي أُحِبُّ إِذَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ أَنْ أُدْخِلَ رَأْسِي مَعَهُ فِي الثَّوْبِ، فَلَمَّا أُنْزِلَ عَلَيْهِ خَمَّرَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِالثَّوْبِ فَجِئْتُهُ فَأَدْخَلْتُ رَأْسِي مَعَهُ فِي الثَّوْبِ، فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْهُ، قَالَ: " أَيْنَ السَّائِلُ آنِفًا عَنِ الْعُمْرَةِ؟ "، فَقَامَ إِلَيْهِ الرَّجُلُ، فَقَالَ: " انْزِعْ عَنْكَ جُبَّتَكَ، وَاغْسِلْ أَثَرَ الْخَلُوقِ الَّذِي بِكَ، وَافْعَلْ فِي عُمْرَتِكَ مَا كُنْتَ فَاعِلًا فِي حَجِّكَ ".
رباح بن ابی معروف نے ہم سے حدیث بیان کی، کہا: میں نے عطاء سے سنا، انہوں نے کہا: مجھے صفوان بن یعلیٰ رضی اللہ عنہ نے اپنے والد یعلیٰ رضی اللہ عنہ سے خبر دی، کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ ایک شخص آیا، اس نے جبہ پہن رکھا تھا جس پر زعفران ملی خوشبو کے نشانات تھے، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے عمرے کا احرام باندھا ہے تو میں کس طرح کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے اور اسے کوئی جواب نہ دیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اترتی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ آپ کے آگے اوٹ کرتے، آپ پر سایہ کرتے۔ میں نے حضرت عمر سے کہا: میری خواہش ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہو، میں بھی کپڑے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنا سر داخل کروں۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہونے لگی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کو کپڑے سے چھپا دیا۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کپڑے میں اپنا سر داخل کر دیا اور آپ کو (وحی کے نزول کی حالت میں) دیکھا۔ جب آپ کی وہ کیفیت زائل کر دی گئی تو فرمایا: ”ابھی عمرے کے متعلق سوال کرنے والا شخص کہاں ہے؟“ (اتنے میں) وہ شخص آپ کے پاس آ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنا جبہ اتار دو، اپنے جسم سے زعفران ملی خوشبو کا نشان دھو ڈالو اور عمرے میں وہی کرو جو تم نے حج میں کرنا تھا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2802]
صفوان بن یعلیٰ بن امیہ اپنے باپ (یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی جبہ پہنے ہوئے آیا، جس پر «الْخَلُوقُ» (خلوق) کا اثر تھا، اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے عمرہ کا احرام باندھا ہے تو میں کیسے کروں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے خاموش ہو گئے اور اسے کوئی جواب نہ دیا اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اترتی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اوٹ کرتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سایہ کرتے، تو میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: ”میں چاہتا ہوں، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کا نزول ہو تو میں آپ کے ساتھ کپڑے میں اپنا سر داخل کروں۔“ تو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کا نزول شروع ہوا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کپڑے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ڈھانپ دیا، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کپڑے میں اپنا سر داخل کر دیا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کیفیت زائل ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابھی عمرہ کے بارے میں سوال کرنے والا کہاں ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وہ آدمی آیا، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنا جبہ اپنے سے اتار دو اور تجھ پر جو «الْخَلُوقُ» (خلوق) کا اثر (نشان) ہے، اس کو دھو ڈالو اور اپنے عمرہ میں وہی کام کرو جو تم اپنے حج میں کرتے ہو۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2802]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1180
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں