🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

2. باب مَوَاقِيتِ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ:
باب: میقات حج اور عمرہ کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1181 ترقیم شاملہ: -- 2803
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَخَلَفُ بْنُ هِشَامٍ ، وَأَبُو الرَّبِيعِ ، وَقُتَيْبَةُ جَمِيعًا، عَنْ حَمَّادٍ ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " وَقَّتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ ذَا الْحُلَيْفَةِ، وَلِأَهْلِ الشَّامِ الْجُحْفَةَ، وَلِأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنَ الْمَنَازِلِ، وَلِأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمَ، قَالَ: فَهُنَّ لَهُنَّ وَلِمَنْ أَتَى عَلَيْهِنَّ مِنْ غَيْرِ أَهْلِهِنَّ مِمَّنْ أَرَادَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ، فَمَنْ كَانَ دُونَهُنَّ فَمِنْ أَهْلِهِ، وَكَذَا فَكَذَلِكَ حَتَّى أَهْلُ مَكَّةَ يُهِلُّونَ مِنْهَا ".
عمرو بن دینار نے طاوس سے، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ والوں کے لیے ذو الحلیفہ، شام والوں کے لیے جحفہ، نجد والوں کے لیے قرن المنازل اور یمن والوں کے لیے یلملم کو میقات مقرر کیا اور فرمایا: یہ (چاروں میقات) ان جگہوں (پر رہنے والوں) اور وہاں نہ رہنے والے، وہاں تک پہنچنے والے ایسے لوگوں کے لیے ہیں جو حج اور عمرے کا ارادہ کریں اور جو ان (مقامات) کے اندر ہو وہ اپنے گھر ہی سے احرام باندھ لے، جو اس سے زیادہ حرم کے قریب ہو وہ اسی طرح کرے حتیٰ کہ مکہ والے مکہ ہی سے احرام باندھیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2803]
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مدینہ کے لیے ذوالحلیفہ میقات مقرر کیا اور اہل شام کے لیے جحفہ، اہل نجد کے لیے قرن منازل، اہل یمن کے لیے يلملم، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ چاروں میقات ان علاقوں کے رہنے والوں کے لیے ہیں اور ان سب لوگوں کے لیے جو دوسرے علاقوں سے ان مقامات سے گزریں، جن کا ارادہ حج یا عمرہ کا ہو، پس جو لوگ ان مقامات کے اندر ہوں تو وہ اپنے گھر ہی سے احرام باندھیں گے اور یہ قاعدہ اس طرح چلے گا، حتی کہ اہل مکہ، مکہ ہی سے احرام باندھیں گے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2803]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1181
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1181 ترقیم شاملہ: -- 2804
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَقَّتَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ ذَا الْحُلَيْفَةِ، وَلِأَهْلِ الشَّامِ الْجُحْفَةَ، وَلِأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنَ الْمَنَازِلِ، وَلِأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمَ، وَقَالَ: هُنَّ لَهُمْ وَلِكُلِّ آتٍ أَتَى عَلَيْهِنَّ مِنْ غَيْرِهِنَّ، مِمَّنْ أَرَادَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ، وَمَنْ كَانَ دُونَ ذَلِكَ فَمِنْ حَيْثُ أَنْشَأَ، حَتَّى أَهْلُ مَكَّةَ مِنْ مَكَّةَ ".
وہیب نے کہا: ہمیں عبداللہ بن طاوس نے اپنے والد سے، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے حدیث بیان کی، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ والوں کے لیے ذو الحلیفہ، شام والوں کے لیے جحفہ، نجد والوں کے لیے قرن المنازل اور یمن والوں کے لیے یلملم کو میقات مقرر کیا اور فرمایا: یہ (مقامات) وہاں کے باشندوں اور ہر آنے والے ایسے شخص کے لیے (میقات) ہیں جو دوسرے علاقوں سے وہاں پہنچے اور حج و عمرے کا ارادہ رکھتا ہو۔ اور جو کوئی ان (مقامات) سے اندر ہو وہ اسی جگہ سے (احرام) باندھ لے جہاں سے وہ چلے، حتیٰ کہ مکہ والے مکہ ہی سے (احرام باندھیں)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2804]
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مدینہ کے لیے ذوالحلیفہ کو، اہل شام کے لیے جحفہ کو، اہل نجد کے لیے قرن منازل کو اور اہل یمن کے لیے یلملم کو میقات مقرر کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ مقامات ان علاقوں کے باشندوں کے لیے ہیں اور ان لوگوں کے لیے بھی ہیں جو حج اور عمرہ کے ارادے سے دوسری جگہوں سے ان مقامت پر آئیں اور جو لوگ ان مواقیت کے اندر ہیں تو وہ جہاں سے چلیں احرام باندھ لیں حتی کہ مکہ کے باشندے مکہ سے احرام باندھیں گے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2804]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1181
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1182 ترقیم شاملہ: -- 2805
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يُهِلُّ أَهْلُ الْمَدِينَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ، وَأَهْلُ الشَّامِ مِنَ الْجُحْفَةِ، وَأَهْلُ نَجْدٍ مِنْ قَرْنٍ "، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: وَبَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " وَيُهِلُّ أَهْلُ الْيَمَنِ مِنْ يَلَمْلَمَ ".
نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مدینہ والے ذو الحلیفہ سے، شام والے جحفہ سے اور نجد والے قرن المنازل سے (احرام باندھ کر) تلبیہ کہیں۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: مجھے یہ بات بھی پہنچی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یمن والے یلملم سے (احرام باندھ کر) تلبیہ کہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2805]
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اہل مدینہ ذوالحلیفہ سے احرام باندھیں، شام والے جحفہ سے اور نجد کے لوگ قرن منازل سے۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ کا قول ہے کہ مجھے دوسروں سے معلوم ہوا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اہل یمن احرام یلملم سے باندھیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2805]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1182
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1182 ترقیم شاملہ: -- 2806
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عنه عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مُهَلُّ أَهْلِ الْمَدِينَةِ ذُو الْحُلَيْفَةِ، وَمُهَلُّ أَهْلِ الشَّامِ مَهْيَعَةُ وَهِيَ الْجُحْفَةُ، وَمُهَلُّ أَهْلِ نَجْدٍ قَرْنٌ "، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: وَزَعَمُوا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ أَسْمَعْ ذَلِكَ مِنْهُ، قَالَ: وَمُهَلُّ أَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمُ.
سالم بن عبداللہ بن عمر بن خطاب نے اپنے والد سے روایت کی، کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: اہل مدینہ کا مقام تلبیہ (وہ جگہ جہاں سے بآواز بلند لبیک اللہم لبیک کہنے کا آغاز ہوتا ہے، یعنی میقات مراد ہے) ذو الحلیفہ ہے، اہل شام کا مقام تلبیہ مہیعہ، وہی جحفہ ہے اور اہل نجد کا قرن (المنازل)۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: (مجھے بتانے والے) ان لوگوں کا خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے۔۔۔ میں نے آپ سے خود نہیں سنا۔۔۔ فرمایا: اور اہل یمن کا مقام تلبیہ یلملم ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2806]
حضرت سالم اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مدینہ کے لوگ ذوالحلیفہ سے احرام باندھیں، اہل شام جحفہ سے احرام باندھیں اور اہل نجد قرن منازل سے احرام باندھیں۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما کہتے ہیں، مجھے بتایا گیا اور میں نے خود نہیں سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اہل یمن یلملم سے احرام باندھیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2806]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1182
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1182 ترقیم شاملہ: -- 2807
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرُونَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْلَ الْمَدِينَةِ أَنْ يُهِلُّوا مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ، وَأَهْلَ الشَّامِ مِنَ الْجُحْفَةِ، وَأَهْلَ نَجْدٍ مِنْ قَرْنٍ "، وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: وَأُخْبِرْتُ أَنَّهُ، قَالَ: وَيُهِلُّ أَهْلُ الْيَمَنِ مِنْ يَلَمْلَمَ.
عبداللہ بن دینار سے روایت ہے، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ والوں کو حکم دیا کہ وہ ذو الحلیفہ سے، شام والوں کو حکم دیا کہ وہ جحفہ سے اور نجد والوں کو حکم دیا کہ وہ قرن (المنازل) سے (احرام باندھ کر) تلبیہ کا آغاز کریں۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: مجھے خبر دی گئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یمن والے یلملم سے احرام باندھیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2807]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اہل مدینہ کے لیے احرام باندھنے کی جگہ ذوالحلیفہ ہے، اہل شام کے لیے احرام گاہ مُهيعه یعنی جحفہ ہے اور اہل نجد کے لیے احرام گاہ قرن ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جبکہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنا، اہل یمن کے لیے میقات یلملم ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2807]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1182
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1183 ترقیم شاملہ: -- 2808
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يُسْأَلُ عَنِ الْمُهَلِّ، فَقَالَ: سَمِعْتُ ثُمَّ انْتَهَى، فَقَالَ: أُرَاهُ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
روح بن عبادہ نے کہا: ہمیں ابن جریج نے حدیث سنائی، کہا: ہمیں ابوزبیر نے خبر دی کہ انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، ان سے مقام تلبیہ کے بارے میں پوچھا جا رہا تھا تو انہوں نے کہا: میں نے سنا۔۔۔ پھر رک گئے اور (کچھ وقفے کے بعد) کہا: ان (جابر رضی اللہ عنہما) کی مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تھی (کہ جابر رضی اللہ عنہما نے ان سے سنا)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2808]
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا، اہل مدینہ ذوالحلیفہ سے احرام باندھیں، اہل شام، جحفہ سے اور اہل نجد قرن سے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما کہتے ہیں، مجھے بتایا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اہل یمن احرام یلملم سے باندھیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2808]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1183
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1182 ترقیم شاملہ: -- 2809
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يُهِلُّ أَهْلُ الْمَدِينَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ، وَيُهِلُّ أَهْلُ الشَّامِ مِنَ الْجُحْفَةِ، وَيُهِلُّ أَهْلُ نَجْدٍ مِنْ قَرْنٍ "، قَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: وَذُكِرَ لِي، وَلَمْ أَسْمَعْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَيُهِلُّ أَهْلُ الْيَمَنِ مِنْ يَلَمْلَمَ.
سفیان نے زہری سے حدیث بیان کی، انہوں نے سالم سے، انہوں نے اپنے والد (ابن عمر رضی اللہ عنہما) سے حدیث بیان کی کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مدینہ والے ذو الحلیفہ سے، شام والے جحفہ سے اور نجد والے قرن المنازل سے احرام باندھیں۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: مجھے بتایا گیا۔۔۔ میں نے خود نہیں سنا۔۔۔ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یمن والے یلملم سے احرام باندھیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2809]
ابو زبیر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ سے سنا، ان سے احرام گاہ کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے کہا: میں نے سنا ہے، پھر ابو زبیر رک کر کہنے لگا، میرا خیال ہے جابر رضی اللہ تعالی عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2809]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1182
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1183 ترقیم شاملہ: -- 2810
ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ كِلَاهُمَا، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَكْرٍ ، قَالَ عَبْدٌ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يُسْأَلُ عَنِ الْمُهَلِّ، فَقَالَ: " سَمِعْتُ أَحْسَبُهُ رَفَعَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مُهَلُّ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ وَالطَّرِيقُ الْآخَرُ الْجُحْفَةُ وَمُهَلُّ أَهْلِ الْعِرَاقِ مِنْ ذَاتِ عِرْقٍ وَمُهَلُّ أَهْلِ نَجْدٍ مِنْ قَرْنٍ وَمُهَلُّ أَهْلِ الْيَمَنِ مِنْ يَلَمْلَمَ ".
محمد بن بکر سے روایت ہے، کہا: مجھے ابن جریج نے خبر دی، کہا: مجھے ابوزبیر نے خبر دی کہ انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، ان سے مقام تلبیہ کے متعلق سوال کیا گیا تھا (جابر رضی اللہ عنہما نے) کہا: میں نے سنا۔۔۔ میرا خیال ہے کہ انہوں نے حدیث کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کی۔ آپ نے فرمایا: مدینہ والوں کا مقام تلبیہ (احرام باندھنے کی جگہ) ذو الحلیفہ ہے اور دوسرے راستے (سے آنے والوں کا مقام) جحفہ ہے۔ اہل عراق کا مقام تلبیہ ذات العرق، نجد والوں کا قرن (المنازل) اور یمن والوں کا یلملم ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2810]
ابو زبیر کہتے ہیں، میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہما سے سنا، ان سے احرام گاہ کے بارے میں پوچھا گیا، میرا گمان ہے جابر نے اس کی نسبت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اہل مدینہ کے لیے احرام باندھنے کی جگہ ذوالحلیفہ ہے اور دوسرا راستہ جحفہ ہے اور اہل عراق کے لیے احرام باندھنے کی جگہ ذات عرق ہے اور اہل نجد کے لیے احرام گاہ قرن منازل ہے اور اہل یمن کے لیے احرام گاہ یلملم ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2810]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1183
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں