مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
372. المكاتب يجيء بمكاتبته جميعا
مکاتب اگر اپنا بدلِ کتابت سارا ایک ساتھ لے آئے
ترقیم عوامۃ: 22993 ترقیم الشثری: -- 24013
٢٤٠١٣ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابن ابي زائدة عن ابن عون عن محمد قال: اراد مكاتب ان يعطي مولاه المال (كله) (١) ، فقال: لا آخذه إلا نجوما، (فكتب) (٢) له عثمان عتقه، فاخذ المال (و) (٣) قال: انا اعطيكه نجوما، فلما راى ذلك الرجل اخذ المال (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [جـ].
(٢) في [أ، ح، ط، ز]: (وكتب).
(٣) في [أ، ح، ز، ط]: (أو).
(٤) منقطع؛ محمد بن سيرين لا يروي عن عثمان.
حضرت محمد سے مروی ہے کہ اگر مکاتب اپنا بدل کتابت سارا اکٹھا ادا کرنے کا ارادہ کرے، لیکن اس کے آقا نے کہا میں تو قسط قسط کر کے (تھوڑا، تھوڑا کر کے) لوں گا، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے غلام کو آزاد کرنے کا حکم دیا اور اس سے مال لے کر رکھ لیا فرمایا میں اس کو تھوڑا تھوڑا کرتا رہوں گا، جب آقا نے یہ صورت حال دیکھی تو اس نے سارا مال ایک ساتھ وصول کرلیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 24013]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24013، ترقيم محمد عوامة 22993)
ترقیم عوامۃ: 22994 ترقیم الشثری: -- 24014
٢٤٠١٤ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا علي بن هاشم عن (ابن) (١) ابي ليلى عن (ابيه عن) (٢) ضبة قال: رفع إلى عمر مكاتب جاء بالمال بجملته، فقال مولاه: لا ⦗٣٩٦⦘ اقبله منك، إنما كاتبتك لآخذه منك نجوما في السنين (ينفعني) (٣) ، ولعلك مع ذلك (ان) (٤) تموت فارثك، فامر عمر بالمال فوضعه في بيت المال ثم (اجراه) (٥) عليه نجوما وامضى عتقه (٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من [أ، ح، ط].
(٢) في [أ، جـ، ح، ز، ط، هـ]: (أبي) وضبة بن محصن.
(٣) في [جـ]: (لينفعنى).
(٤) سقط من [ح، ط، هـ].
(٥) في [ط]: (أجره).
(٦) ضعيف منقطع؛ ابن أبي ليلى ضعيف، وابن أبي ليلى لم يدرك ضبة.
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس مسئلہ گیا کہ مکاتب اپنا سارا بدل کتابت ایک ساتھ لے آیا ہے لیکن آقا نے کہا میں اس کو ایک ساتھ وصول نہیں کروں گا، میں نے اس کو مکاتب اس لئے بنایا تھا کہ میں اپنے نفقہ کے طور پر اس سے دو سال تک تھوڑا تھوڑا کر کے وصول کرتا رہوں گا اور اس دوران شاید یہ فوت ہوجائے تو اس کا وارث بنوں، حضرت نے حکم دیا کہ مال اس سے لے کر بیت المال میں رکھ دو، پھر اس کے آقا کو قسط وار دیتے رہو، اور اس کے غلام کے لئے آزادی کا فیصلہ فرما دیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 24014]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24014، ترقيم محمد عوامة 22994)
ترقیم عوامۃ: 22995 ترقیم الشثری: -- 24015
٢٤٠١٥ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع عن إسرائيل عن عبد العزيز بن رفيع عن ابي بكر بن عمرو بن حزم ان رجلا كاتب غلاما له فنجمها عليه نجوما فاتاه بمكاتبته كلها، فابى ان يقبلها المولى إلا نجوما، فاتى المكاتب عمر (فارسل) (١) إلى مولاه فجاء فعرض عليه المال، فابى ان ياخذه فقال عمر: يا يرفا (ادفعه) (٢) في بيت المال، وقال للمولى: (خذها) (٣) نجوما، وقال للمكاتب: اذهب حيث شئت (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ح، ط، ز]: (فأرسله).
(٢) في [ط، ح]: (دفعه)، وفي [جـ]: (رفعه).
(٣) في [ز]: (خذ).
(٤) منقطع؛ أبو بكر لا يروي عن عمر.
حضرت ابوبکر بن عمرو بن حزم سے مروی ہے کہ ایک شخص نے اپنے غلام کو مکاتب بنایا، اور اس پر قسط وار بدل کتابت ادا کرنے کی شرط لگائی، مکاتب اپنا سارا بدل کتابت لے کر آیا، تو اس کے آقا نے سارا ایک ساتھ وصول کرنے سے انکار کردیا، وہ مکاتب حضرت عمر کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ نے اس کے آقا کی طرف بلاوا بھیجا، وہ آیا تو آپ نے اس پر وہ سارا مال پیش کیا، لیکن اس نے وصول کرنے سے انکار کردیا، حضرت عمر نے فرمایا اے یرفأ! اِ س مال کو بیت المال میں رکھ دے، اور آقا سے فرمایا بیت المال سے قسط وار وصول کرتا رہے۔ اور غلام سے فرمایا تو جا تو آزاد ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 24015]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24015، ترقيم محمد عوامة 22995)