صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
30. باب فِي مُتْعَةِ الْحَجِّ:
باب: حج تمتع کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1238 ترقیم شاملہ: -- 3005
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُسْلِمٍ الْقُرِّيِّ ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْ مُتْعَةِ الْحَجِّ فَرَخَّصَ فِيهَا، وَكَانَ ابْنُ الزُّبَيْرِ يَنْهَى عَنْهَا، فَقَالَ: هَذِهِ أُمُّ ابْنِ الزُّبَيْرِ ، تُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ فِيهَا، فَادْخُلُوا عَلَيْهَا فَاسْأَلُوهَا، قَالَ: فَدَخَلْنَا عَلَيْهَا فَإِذَا امْرَأَةٌ ضَخْمَةٌ عَمْيَاءُ، فَقَالَتْ: " قَدْ رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا "،
شعبہ نے مسلم قریؒ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے حج تمتع کے بارے میں سوال کیا۔ انہوں نے اس کی اجازت دی، جبکہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ اس سے منع فرمایا کرتے تھے۔ انہوں (ابن عباس رضی اللہ عنہما) نے کہا: یہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی والدہ ہیں۔ وہ حدیث بیان کرتی ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اجازت دی، ان کے پاس جاؤ۔ اور ان سے پوچھو (قری نے) کہا: ہم ان کی خدمت میں حاضر ہوئے وہ (اس وقت) بھاری جسم کی نابینا خاتون تھی، (ہمارے استفسار کے جواب میں) انہوں نے فرمایا: یقیناً اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس (حج تمتع) کی اجازت عطا فرمائی تھی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3005]
مسلم القری بیان کرتے ہیں، میں نے حضرت ابن عباس رضی الله تعالی عنہ سے حج تمتع کے بارے میں دریافت کیا؟ انہوں نے اس کی اجازت دی اور حضرت ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس سے روکتے تھے، تو ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا، یہ ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی والدہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اجازت دی ہے، ان کے پاس جاؤ، اور ان سے پوچھ لو، تو ہم ان کی خدمت میں حاضر ہوئے، وہ ایک بھاری بھر کم اور نابینا عورت تھیں، انہوں نے بتایا، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی رخصت دی ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3005]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1238
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1238 ترقیم شاملہ: -- 3006
وحَدَّثَنَاه ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ . ح وحَدَّثَنَاه ابْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ جَمِيعًا، عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، فَأَمَّا عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَفِي حَدِيثِهِ الْمُتْعَةُ، وَلَمْ يَقُلْ مُتْعَةُ الْحَجِّ، وَأَمَّا ابْنُ جَعْفَرٍ، فَقَالَ شُعْبَةُ: قَالَ مُسْلِمٌ: لَا أَدْرِي مُتْعَةُ الْحَجِّ أَوْ مُتْعَةُ النِّسَاءِ.
عبدالرحمان اور محمد بن جعفر دونوں نے اسی سند کے ساتھ شعبہ سے روایت کی، ان میں سے عبدالرحمان کی حدیث میں صرف لفظ تمتع ہے، انہوں نے حج تمتع کے الفاظ روایت نہیں کیے۔ جبکہ محمد بن جعفر نے کہا: شعبہ کا قول ہے کہ مسلم (قری) نے کہا: میں نہیں جانتا کہ (حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما) نے حج تمتع کا ذکر کیا یا کہ عورتوں سے (نکاح) متعہ کی بات کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3006]
امام صاحب اپنے دو اساتذہ سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں، ایک کے استاد نے اپنی روایت میں صرف متعہ کہا، متع الحج نہیں کہا اور دوسرے کے استاد نے کہا، مجھے معلوم نہیں ہے، مسلم قری نے متعہ الحج کہا یا متعۃ النساء۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3006]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1238
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1239 ترقیم شاملہ: -- 3007
وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ الْقُرِّيُّ ، سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: " أَهَلَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعُمْرَةٍ، وَأَهَلَّ أَصْحَابُهُ بِحَجٍّ، فَلَمْ يَحِلَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا مَنْ سَاقَ الْهَدْيَ مِنْ أَصْحَابِهِ، وَحَلَّ بَقِيَّتُهُمْ، فَكَانَ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ فِيمَنْ سَاقَ الْهَدْيَ فَلَمْ يَحِلَّ "،
معاذ (بن معاذ) نے ہمیں شعبہ سے حدیث سنائی، (کہا:) مسلم قریؒ نے ہمیں حدیث سنائی، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ فرما رہے تھے: (حجۃ الوداع کے موقع پر اولاً) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (حج کے ساتھ ملا کر) عمرہ کرنے کا تلبیہ پکارا تھا، اور آپ کے (بعض) صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین نے حج کا تلبیہ پکارا تھا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین جو قربانیاں ساتھ لائے تھے، انہوں نے (جب تک حج مکمل نہ کر لیا) احرام نہ کھولا، باقی صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین نے (جن کے ہمراہ قربانیاں نہ تھیں) احرام کھول دیا۔ حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ بھی انہی لوگوں میں سے تھے جو قربانیاں ساتھ لائے تھے، لہذا انہوں نے احرام نہ کھولا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3007]
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (حج کے ساتھ) عمرہ کا تلبیہ کہا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں نے حج کا تلبیہ کہا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جو ساتھی ہدی ساتھ لائے تھے، حلال نہ ہوئے، اور باقی حلال ہو گئے، طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی ان میں داخل تھے، جو ہدی ساتھ لائے تھے، اس لیے وہ محرم ہی رہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3007]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1239
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1239 ترقیم شاملہ: -- 3008
وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ، قَالَ: " وَكَانَ مِمَّنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ الْهَدْيُ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ وَرَجُلٌ آخَرُ فَأَحَلَّا ".
محمد، یعنی محمد بن جعفر نے ہمیں حدیث بیان کی، (کہا:) ہمیں شعبہ نے اسی سند کے ساتھ حدیث سنائی، البتہ انہوں نے کہا: جن کے پاس قربانیاں نہ تھیں ان میں حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ اور ایک دوسرے صاحب تھے، لہذا ان دونوں نے (عمرہ کے بعد) احرام کھول دیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3008]
یہی روایت امام صاحب اپنے ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں، لیکن اس روایت میں یہ ہے کہ طلحہ بن عبیداللہ اور ایک اور آدمی ان لوگوں میں سے تھے، جن کے ساتھ ہدی نہ تھی، اس لیے دونوں حلال ہو گئے، (صحیح بات یہ ہے کہ حضرت طلحہ کے پاس قربانی تھی، جیسا کہ حضرت جابر کی متفق علیہ حدیث ہے)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3008]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1239
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة