مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
40. في الماء للمحموم
بخار زدہ کے لئے پانی کا استعمال
ترقیم عوامۃ: 24135 ترقیم الشثری: -- 25217
٢٥٢١٧ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابن نمير عن هشام بن عروة عن ابيه عن عائشة ان رسول الله ﷺ قال:" (الحمى) (١) من فيح جهنم فابردوها بالماء" (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ز]: (الحماء).
(٢) صحيح؛ أخرجه مسلم (٢٢١٠)، وأحمد (٢٤٢٢٩)، وبنحوه البخاري (٣٢٦٣).
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بخار، جہنم کی لپٹ مں ١ سے ہے۔ پس تم اس کو پانی سے ٹھنڈا کرو۔“ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الطب/حدیث: 25217]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25217، ترقيم محمد عوامة 24135)
ترقیم عوامۃ: 24136 ترقیم الشثری: -- 25218
٢٥٢١٨ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا عبدة عن هشام عن فاطمة عن اسماء انها كانت تؤتى بالمراة الموعوكة فتدعو بالماء (فتصبه) (١) في (جيبها) (٢) وتقول: إن رسول الله ﷺ قال:"ابردوها بالماء، فإنها من فيح جهنم" (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ح، ط، ز]: (فتصب).
(٢) في [أ، ح، ط]: (جنبيها).
(٣) صحيح؛ أخرجه البخاري (٥٧٢٤)، ومسلم (٢٢١١)،
حضرت اسماء کے بارے میں روایت ہے کہ ان کے پاس (بخار سے) تڑپتی عورت کو لایا جاتا تھا اور وہ پانی منگواتی اور اس پانی کو اس کے گریبان میں بہاد یتی اور فرماتی۔ بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے کہ ”اس بخار کو پانی سے ٹھنڈا کرو، کیونکہ یہ جہنم کی شدت میں سے ہے۔“ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الطب/حدیث: 25218]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25218، ترقيم محمد عوامة 24136)
ترقیم عوامۃ: 24137 ترقیم الشثری: -- 25219
٢٥٢١٩ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن ابيه عن (عباية) (١) بن رفاعة قال: اخبرني رافع بن خديج ان رسول الله ﷺ قال:"الحمى من فور جهنم فابردوها بالماء" (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (عناية).
(٢) صحيح؛ أخرجه البخاري (٣٢٦٢)، ومسلم (٢٢١٢).
حضرت رافع بن خدیج بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بخار، جہنم کی شدت میں سے ہے پس تم اس کو پانی سے ٹھنڈا کرو۔“ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الطب/حدیث: 25219]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25219، ترقيم محمد عوامة 24137)
ترقیم عوامۃ: 24138 ترقیم الشثری: -- 25220
٢٥٢٢٠ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابن نمير ومحمد بن بشر قال: حدثنا عبيد الله (عن) (١) نافع عن ابن عمر عن النبي ﷺ قال:"إن شدة الحمى من فيح جهنم فابردوها بالماء" (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ز]: (بن).
(٢) صحيح؛ أخرجه البخاري (٣٢٦٤)، ومسلم (٢٢٠٩).
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’ ’ بلاشبہ بخار کی شدت جہنم کی لپٹ میں سے ہے، پس تم اس کو پانی سے ٹھنڈا کرو۔“ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الطب/حدیث: 25220]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25220، ترقيم محمد عوامة 24138)
ترقیم عوامۃ: 24139 ترقیم الشثری: -- 25221
٢٥٢٢١ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا عفان قال: حدثنا همام عن ابي (جمرة) (١) قال: كنت ادفع الناس عن ابن عباس، (فاحتبست) (٢) اياما، فقال: ما حبسك؟ قلت: الحمى، قال: إن رسول الله ﷺ قال:"إن الحمى من فيح جهنم فابردوها بماء زمزم" (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ح]: (حمزة).
(٢) في [جـ]: (واحتسبت).
(٣) صحيح؛ أخرجه البخاري (٣٢٦١)، لكن شك همام، هل هي (بالماء) أو (بماء زمزم)، وأخرجه أحمد (٢٦٤٩)، والنسائي في الكبرى (٧٦١٤)، وابن حبان (٦٠٦٨)، والحاكم ٤/ ٤٠٣، والطحاوي في شرح المشكل ٢/ ٣٤٦، والطبراني (١٩٦٧) بلفظ: (بماء زمزم) بلا شك.
حضرت ابو جمرہ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے ہاں سب سے زیادہ آنے والا تھا۔ چند دن تک میں محبوس رہا تو انہوں نے پوچھا، تمہیں کس چیز نے روکے رکھا؟ میں نے عرض کیا، بُخار نے۔ انہوں نے ارشاد فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ”یقینا بخار جہنم کی لپٹ میں سے ہے پس تم اس کو زمزم کے پانی سے ٹھنڈا کرو۔“ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الطب/حدیث: 25221]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25221، ترقيم محمد عوامة 24139)
ترقیم عوامۃ: 24140 ترقیم الشثری: -- 25222
٢٥٢٢٢ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابن فضيل عن يزيد بن ابي (زياد) (١) عن (٢) مقسم عن ابن عباس انه كان إذا حم بل ثوبه ثم لبسه ثم قال: إنها من فيح جهنم فابردوها بالماء (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ز]: (زناد).
(٢) في [أ، ط، هـ]: زيادة (بن).
(٣) ضعيف؛ لحال يزيد بن أبي زياد.
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں روایت کیا گیا ہے کہ انہیں جب بخار آتا تو وہ اپنے کپڑوں کو تر کرلیتے اور پھر ان کپڑوں کو پہن لیتے پھر فرماتے، یقینا یہ بخار جہنم کی شدت میں سے ہے، پس تم اس کو پانی سے ٹھنڈا کرو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الطب/حدیث: 25222]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25222، ترقيم محمد عوامة 24140)