مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
39. في الحمية للمريض
مریض کے لئے پرہیز کا بیان
ترقیم عوامۃ: 24132 ترقیم الشثری: -- 25214
٢٥٢١٤ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع عن (رزام) (١) بن سعيد عن ابي (المعارك) (٢) عن ابن عمر قال: لا يمنعن احدكم (مريضه) (٣) طعاما يشتهيه، لعل الله ان يشفيه، فإن الله يجعل شفاءه حيث شاء (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ح، ط]: (زرام).
(٢) في [أ، ح، هـ]: (المعالي)، وفي [س، ق]: (المعادل) والمثبت يوافق ما في تهذيب الكمال ٩/ ١٧٧، وتاريخ الإسلام ٩/ ١٣١، بإثبات (أبي)، وفي المراجع الأخرى بدونها كما في التاريخ الكبير (٨/ ٢٨)، والجرح والتعديل ٨/ ٣٧، والثقات ٥/ ٤٥٣، وشعب الإيمان (٩٢٣٠)، والمرض لابن أبي الدنيا (٢٠١)، وفي الكنى ٣/ ١٠٥٥: (أنه أبو المقدام معارك).
(٣) في [جـ، ز]: (مريضا).
(٤) مجهول؛ لجهالة أبي المعارك.
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ تم میں کوئی مریض کو وہ کھانا کھانے سے نہ روکے جس کو کھانے کا مریض کو دل کر رہا ہو، ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو شفاء دے دے، کیونکہ اللہ تعالیٰ جہاں چاہے شفاء پیدا فرما دیتے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الطب/حدیث: 25214]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25214، ترقيم محمد عوامة 24132)
ترقیم عوامۃ: 24133 ترقیم الشثری: -- 25215
٢٥٢١٥ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا يونس بن محمد قال: حدثنا فليح بن ⦗١٩٥⦘ سليمان عن ايوب بن عبد الرحمن (بن) (١) عبد الله بن (٢) صعصعة عن يعقوب (بن ابي يعقوب) (٣) عن ام المنذر العدوية، قالت: دخل علي النبي ﷺ ومعه علي وهو ناقه ولنا دوالي معلقة قالت: فقام رسول الله ﷺ فاكل وقام علي (فاكل) (٤) فقال: النبي ﷺ:"مهلا فإنك ناقه" (قال) (٥) : فجلس علي، واكل منها النبي ﷺ، ثم صنعت لهم سلقا وشعيرا، فقال النبي ﷺ (لعلي) (٦) :"من هذا (اصب) (٧) " (٨) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ز]: (عن).
(٢) في [جـ، هـ]: زيادة (أبي).
(٣) سقط من: [هـ].
(٤) في [هـ]: (ليأكل).
(٥) في [هـ]: (قالت).
(٦) سقط من: [ز]، وفي [جـ]: (لعل).
(٧) في [ز، ط]: (أصيب).
(٨) حسن؛ فليح صدوق، أخرجه أحمد (٢٧٠٥١)، وأبو داود (٣٧٥٦)، والترمذي (٢٥٣٧)، والحاكم (٤/ ٢٠٤)، وابن ماجه (٣٤٤٢)، وابن سعد ٨/ ٤٢٢، والطبراني ٢٥/ (٢٥٨)، والبغوي (٢٨٦٣).
حضرت ام منذر عدویہ سے روایت ہے، کہتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی تھے اور وہ صحت یابی کے بعد کمزور تھے۔ ہماری نیم پختہ کھجوریں لٹکی ہوئی تھیں۔ حضرت ام منذر کہتی ہیں۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اٹھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھجوریں تناول فرمائیں اور حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی کھڑے ہوئے اور کھانے لگے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم رہنے دو کیونکہ تم کمزور ہو“ راوی کہتے ہیں۔ پس حضرت علی رضی اللہ عنہ بیٹھ گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کھجوروں میں سے تناول فرماتے رہے، پھر میں (ام منذر) نے ان کے لئے سبزی اور جو پکائے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اس میں سے تناول کرو۔“ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الطب/حدیث: 25215]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25215، ترقيم محمد عوامة 24133)
ترقیم عوامۃ: 24134 ترقیم الشثری: -- 25216
٢٥٢١٦ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا حفص عن جعفر عن ابيه قال: اهدي للنبي ﷺ قناع من تمر، وعلي محموم، (قال) (١) : فنبذ إليه تمرة ثم اخرى، حتى ناوله سبعا، ثم كف يده وقال:" (حسبك) (٢) " (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، ز]: زيادة (قال).
(٢) في [ط]: (حسب).
(٣) مرسل؛ أبو جعفر تابعي.
حضرت جعفر، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہدیہ میں کھجوروں کا ایک طشت پیش کیا گیا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ تب بخار میں تھے۔ راوی کہتے ہیں، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف ایک کھجور پھینکی پھر دوسری پھینکی۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو سات کھجوریں دیں اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ روک دیا اور فرمایا: ”تمہیں یہ کافی ہیں۔“ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الطب/حدیث: 25216]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25216، ترقيم محمد عوامة 24134)