🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

43. ما قالوا: في العسل؟
شہد کے بارے میں جو روایات ہیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 24154 ترقیم الشثری: -- 25236
٢٥٢٣٦ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون عن شعبة عن قتادة عن ابي المتوكل الناجي عن ابي سعيد الخدري قال: جاء رجل إلى رسول الله ﷺ فقال: يا رسول الله إن اخي استطلق بطنه، قال:"اسقه عسلا"، فسقاه، فاتى النبي ﷺ (١) فقال: يا رسول الله إني سقيته فلم يزده إلا استطلاقا، قال:"اسقه عسلا"، [فسقاه، فاتى رسول الله ﷺ فقال: يا رسول الله إني سقيته (فلم يزده) (٢) إلا استطلاقا، قال:"اسقه عسلا"] (٣) ، فإما في الثالثة وإما في الرابعة (قال) (٤) : (حسبته) (٥) قال: فشفي فقال رسول الله ﷺ:"صدق الله وكذب بطن اخيك" (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ز]، وفي [هـ]: ﵇.
(٢) تكررت في: [ح].
(٣) سقط من: [جـ].
(٤) [جـ، ز]: زيادة (قال).
(٥) [هـ]: (أحسبه)، وفي [أ، ح، ط]: (لحسبه).
(٦) صحيح؛ أخرجه البخاري (٥٦٨٤)، ومسلم (٢٢١٧).

حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ ایک آدمی جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! میرے بھائی کو دست آ رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس کو شہد پلاؤ۔“ چناچہ اس آدمی نے اپنے بھائی کو شہد پلایا۔ پھر (دوبارہ) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! میں نے اس کو شہد پلایا ہے لیکن شہد نے اس کے دست میں اور اضافہ کردیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اس کو شہد پلاؤ۔“ چناچہ اس آدمی نے (دوبارہ) اپنے بھائی کو شہد پلایا۔ اور پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! میں نے اس کو شہد پلایا ہے لیکن شہد نے تو اس کے دست میں مزید اضافہ کردیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (پھر) ارشاد فرمایا: ”تم اس کو شہد پلاؤ“۔ پھر تیسری بار یا چوتھی بار تھی (میرے خیال میں) کہ اس آدمی نے بتایا۔ وہ مریض صحت یاب ہوگیا ہے۔ اس پر جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کی بات سچی ہے اور تیرے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہے۔“ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الطب/حدیث: 25236]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25236، ترقيم محمد عوامة 24154)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 24155 ترقیم الشثری: -- 25237
٢٥٢٣٧ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن (السدي) (١) عن (يعفور) (٢) بن مغيرة، عن علي قال: إذا اشتكى احدكم شيئا فليسال امراته ثلاثة دراهم من صداقها، (فيشتري بها) (٣) عسلا، (فيشربه) (٤) بماء السماء، فيجمع الله (له) (٥) الهنيء المريء، والماء المبارك، والشفاء (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (السعدي).
(٢) في [أ، ح، ز، ط، هـ]: (يعقوب)، وانظر: تفسير ابن أبي حاتم ٣/ ٨٦٢ (٤٧٧٩)، وتفسير الثوري ١/ ٨٧، وتوضيح المشتبه ٩/ ٥٣٩.
(٣) في [هـ]: (فليشتر بها).
(٤) في [جـ، ز]: (ويشربه).
(٥) سقط من: [ط، هـ].
(٦) مجهول؛ لجهالة يعفور.

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ جب تم میں سے کسی کو کوئی تکلیف ہو تو اس کو چاہیئے کہ وہ اپنی بیوی سے اس کے مہر میں سے تین درہم مانگ لے اور ان سے شہد خرید لے پھر اس کو آسمان کے پانی سے ملا کر پی لے پس اللہ تعالیٰ خوش حالی، مبارک پانی اور شفا کو اکٹھا کردیں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الطب/حدیث: 25237]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25237، ترقيم محمد عوامة 24155)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 24156 ترقیم الشثری: -- 25238
٢٥٢٣٨ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن (نسير) (١) عن (بكر) (٢) بن ماعز عن الربيع بن خثيم قال: ما للنفساء عندي إلا التمر، ولا للمريض إلا العسل.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، هـ]: (بشر)، وفي [ح، ط]: (بشير).
(٢) في [أ، ح، ط]: (بكير).

حضرت ربیع بن خثیم سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ میرے پاس نفاس والی عورتوں کے لئے کھجور اور عام مریض کے لئے شہد کے علاوہ کوئی علاج نہیں ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الطب/حدیث: 25238]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25238، ترقيم محمد عوامة 24156)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 24157 ترقیم الشثری: -- 25239
٢٥٢٣٩ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابو معاوية وابن نمير عن الاعمش عن خيثمة عن الاسود قال: قال عبد الله: (عليكم) (١) بالشفائين: القرآن والعسل (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) تكررت في: [جـ].
(٢) صحيح.

حضرت اسود سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں۔ تم دو شفاؤں کو لازم پکڑو۔ قرآن اور شہد۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الطب/حدیث: 25239]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25239، ترقيم محمد عوامة 24157)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 24158 ترقیم الشثری: -- 25240
٢٥٢٤٠ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا حفص عن ابن جريج قال: اتى رجل النبي ﷺ فشكا إليه بطن اخيه، فقال:"عليك بالعسل"، ثم عاد إليه فقال: كانه، ⦗٢٠٤⦘ فقال:"كذب بطن اخيك، وصدق القرآن عليك بالعسل" (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) معضل.
حضرت ابن جریج سے روایت ہے کہتے ہیں کہ ایک آدمی جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے اپنے بھائی کے پیٹ خراب ہونے کی شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تم پر شہد لازم ہے۔“ وہ آدمی دوبارہ شکایت لے کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا۔ وہ ویسا ہی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تیرے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہے اور قرآن سچا ہے۔ تم ضرور شہد کو استعمال کرو۔“ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الطب/حدیث: 25240]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25240، ترقيم محمد عوامة 24158)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 24159 ترقیم الشثری: -- 25241
٢٥٢٤١ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن منصور عن إبراهيم قال: كانوا يستحبون للنفساء الرطب.
حضرت ابراہیم سے روایت ہے کہتے ہیں کہ پہلے لوگ نفا سوالی عورتوں کے لئے تر کھجوروں کو اچھا سمجھتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الطب/حدیث: 25241]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25241، ترقيم محمد عوامة 24159)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 24160 ترقیم الشثری: -- 25242
٢٥٢٤٢ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابن إدريس عن حصين عن عمرو بن ميمون قال: ما للنفساء إلا الرطب؛ لان الله (تعالى) (١) جعله رزقا لمريم.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [جـ].
حضرت عمرو بن میمون سے روایت ہے کہتے ہیں کہ نفاس والی عورتوں کے لئے تر کھجور ہی (سب سے بہتر) ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو حضرت مریم (علیہ السلام) کے لئے رزق بنایا تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الطب/حدیث: 25242]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25242، ترقيم محمد عوامة 24160)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں