صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
36. باب فَضْلِ الْعُمْرَةِ فِي رَمَضَانَ:
باب: رمضان المبارک میں عمرہ کرنے کی فضیلت۔
ترقیم عبدالباقی: 1256 ترقیم شاملہ: -- 3038
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يُحَدِّثُنَا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِامْرَأَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، سَمَّاهَا ابْنُ عَبَّاسٍ، فَنَسِيتُ اسْمَهَا: " مَا مَنَعَكِ أَنْ تَحُجِّي مَعَنَا؟ "، قَالَتْ: لَمْ يَكُنْ لَنَا إِلَّا نَاضِحَانِ فَحَجَّ أَبُو وَلَدِهَا، وَابْنُهَا عَلَى نَاضِحٍ، وَتَرَكَ لَنَا نَاضِحًا نَنْضِحُ عَلَيْهِ، قَالَ: " فَإِذَا جَاءَ رَمَضَانُ فَاعْتَمِرِي، فَإِنَّ عُمْرَةً فِيهِ تَعْدِلُ حَجَّةً ".
ابن جریج نے کہا: مجھے عطاء نے خبر دی کہا: میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا وہ ہمیں حدیث بیان کر رہے تھے۔ کہا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انصاریہ عورت سے فرمایا۔۔۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس کا نام بتایا تھا لیکن میں بھول گیا ہوں۔۔۔تمہیں ہمارے ساتھ حج کرنے سے کس بات نے روک دیا؟ اس نے جواب دیا: ہمارے پاس پانی ڈھونے والے دو ہی اونٹ تھے۔ ایک پر اس کے بیٹے کا والد (شوہر) اور بیٹا حج پر چلے گئے ہیں اور ایک اونٹ ہمارے لیے چھوڑ گئے ہم اس پر پانی ڈھوتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”جب رمضان آئے تو تم عمرہ کر لینا کیونکہ اس (رمضان) میں عمرہ کرنا حج کے برابر ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3038]
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعلیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انصاری عورت کو (جس کا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نام بتایا تھا، راوی نام بھول گیا ہے) فرمایا: ”تمہیں ہمارے ساتھ حج کرنے میں کیا رکاوٹ پیش آئی؟“ اس نے جواب دیا، ہمارے پاس پانی لانے والے دو ہی اونٹ تھے، ایک پر میرا خاوند اور بیٹا حج کرنے کے لیے چلے گئے اور ایک اونٹ ہمارے لیے پانی لانے کے لیے چھوڑ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب رمضان آئے تو عمرہ کر لینا، کیونکہ ماہ رمضان میں عمرہ کرنا، حج کے (ثواب کے) برابر ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3038]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1256
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1256 ترقیم شاملہ: -- 3039
وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِامْرَأَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، يُقَالُ لَهَا: أُمُّ سِنَانٍ: " مَا مَنَعَكِ أَنْ تَكُونِي حَجَجْتِ مَعَنَا؟ "، قَالَتْ: نَاضِحَانِ كَانَا لِأَبِي فُلَانٍ زَوْجِهَا، حَجَّ هُوَ وَابْنُهُ عَلَى أَحَدِهِمَا، وَكَانَ الْآخَرُ يَسْقِي عَلَيْهِ غُلَامُنَا، قَالَ: " فَعُمْرَةٌ فِي رَمَضَانَ تَقْضِي حَجَّةً أَوْ حَجَّةً مَعِي ".
حبیب معلم نے ہمیں حدیث سنائی، انہوں نے عطاء سے انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انصاریہ عورت سے جسے ام سنان کہا جاتا تھا کہا: ”تمہیں کس بات نے روکا کہ تم ہمارے ساتھ حج کرتیں؟“ اس نے کہا: ابوفلاں۔۔۔اس کے خاوند۔۔۔کے پاس پانی ڈھونے والے دو اونٹ تھے ایک پر اس نے اور اس کے بیٹے نے حج کیا اور دوسرے پر ہمارا غلام پانی ڈھوتا تھا۔ آپ نے فرمایا: ”رمضان المبارک میں عمرہ حج یا میرے ساتھ حج (کی کمی) کو پورا کر دیتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3039]
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انصاری عورت جسے ام سنان کہا جاتا تھا، پوچھا: ”تجھے ہمارے ساتھ حج کرنے سے کس چیز نے روکا؟“ اس نے جواب دیا، ابو فلاں (یعنی اس کا خاوند) کے پاس دو ہی پانی لانے والے اونٹ تھے، ان میں سے ایک پر اس نے اور اس کے بیٹے نے حج کا ارادہ کیا، دوسرے پر ہمارا غلام (باغ کو) پانی پلاتا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ماہ رمضان میں عمرہ کرنا، حج کے یا میرے ساتھ حج کے برابر ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3039]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1256
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة