🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

38. باب اسْتِحْبَابِ الْمَبِيتِ بِذِي طَوًى عِنْدَ إِرَادَةِ دُخُولِ مَكَّةَ وَالاِغْتِسَالِ لِدُخُولِهَا وَدُخُولِهَا نَهَارًا:
باب: مکہ مکرمہ میں جب داخلہ ہو تو ذی طویٰ میں رات گزارنے اور غسل کرنے اور دن کے وقت مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کا استحباب۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1259 ترقیم شاملہ: -- 3044
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بَاتَ بِذِي طَوًى حَتَّى أَصْبَحَ، ثُمَّ دَخَلَ مَكَّةَ "، قَالَ: وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَفْعَلُ ذَلِكَ، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ سَعِيدٍ: حَتَّى صَلَّى الصُّبْحَ، قَالَ يَحْيَى: أَوَ قَالَ: حَتَّى أَصْبَحَ.
زہیر بن حرب اور عبید اللہ بن سعید نے مجھے حدیث سنائی۔ دونوں نے کہا: ہمیں یحییٰ القطان نے حدیث بیان کی انہوں نے عبید اللہ سے روایت کی، (کہا) مجھے نافع نے خبر دی کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ذی طویٰ مقام پر رات گزاری کہ صبح کر لی۔ پھر مکہ میں داخل ہوئے۔ (نافع نے) کہا: حضرت عبداللہ (بن عمر رضی اللہ عنہما) بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے۔ عبید اللہ بن سعید کی روایت میں ہے حتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز ادا کر لی۔ یحییٰ نے کہا: یا (عبید اللہ نے) کہا تھا: حتی کہ صبح کر لی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3044]
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات، صبح ہونے تک ذی طویٰ میں بسر کی، پھر مکہ میں داخل ہوئے، اور حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی ایسا ہی کرتے تھے، ابن سعید کی روایت ہے حتی کہ صبح کی نماز پڑھی، یحییٰ کہتے ہیں، یا یہ کہا حتی کہ صبح ہو گئی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3044]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1259
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1259 ترقیم شاملہ: -- 3045
وحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ : " كَانَ لَا يَقْدَمُ مَكَّةَ إِلَّا بَاتَ بِذِي طَوًى، حَتَّى يُصْبِحَ وَيَغْتَسِلَ، ثُمَّ يَدْخُلُ مَكَّةَ نَهَارًا "، وَيَذْكُرُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ فَعَلَهُ.
حماد نے ایوب سے حدیث بیان کی، انہوں نے نافع سے روایت کی کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب بھی مکہ آتے تو ذی طویٰ (کے مقام) ہی میں رات گزارتے حتی کہ صبح ہو جاتی غسل فرماتے پھر دن کے وقت مکہ میں داخل ہوتے۔ وہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے ذکر کرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3045]
نافع سے روایت ہے، ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب بھی مکہ تشریف لاتے، رات ذی طویٰ میں گزارتے، صبح کے بعد غسل کرتے، پھر دن کے وقت مکہ میں داخل ہوتے، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا طرز عمل بھی یہی بیان کرتے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3045]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1259
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1259 ترقیم شاملہ: -- 3046
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق الْمُسَيَّبِيُّ ، حَدَّثَنِي أَنَسٌ يَعْنِي ابْنَ عِيَاضٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ ، حَدَّثَهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ يَنْزِلُ بِذِي طَوًى وَيَبِيتُ بِهِ، حَتَّى يُصَلِّيَ الصُّبْحَ، حِينَ يَقْدَمُ مَكَّةَ، وَمُصَلَّى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ، عَلَى أَكَمَةٍ غَلِيظَةٍ لَيْسَ فِي الْمَسْجِدِ الَّذِي بُنِيَ، ثَمَّ وَلَكِنْ أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ عَلَى أَكَمَةٍ غَلِيظَةٍ ".
انس یعنی ابن عیاض نے موسیٰ بن عقبہ سے انہوں نے نافع سے روایت کی کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے انہیں حدیث بیان کی کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ تشریف لاتے تو پہلے ذی طویٰ میں پڑاؤ فرماتے۔ وہاں رات بسر کرتے یہاں تک کہ صبح کی نماز ادا کرتے (پھر مکہ میں داخل ہوتے) اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز پڑھنے کی جگہ چھوٹے مضبوط ٹیلے پر تھی اس مسجد میں نہیں جو وہاں بنائی گئی ہے بلکہ اس سے نیچے مضبوط ٹیلے پر۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3046]
حضرت عبداللہ (بن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ) بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ تشریف لاتے، تو پڑاؤ ذی طویٰ پر کرتے، وہیں رات بسر کرتے حتی کہ صبح کی نماز پڑھتے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز گاہ ایک بڑے ٹیلے پر ہے، اس مسجد میں نہیں، جو وہاں بنا دی گئی ہے، لیکن اس کے نیچے ایک بڑے ٹیلے پر۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3046]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1259
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1260 ترقیم شاملہ: -- 3047
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق الْمُسَيَّبِيُّ ، حَدَّثَنِي أَنَسٌ يَعْنِي ابْنَ عِيَاضٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ ، أَخْبَرَهُ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اسْتَقْبَلَ فُرْضَتَيِ الْجَبَلِ، الَّذِي بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجَبَلِ الطَّوِيلِ نَحْوَ الْكَعْبَةِ، يَجْعَلُ الْمَسْجِدَ الَّذِي بُنِيَ، ثَمَّ يَسَارَ الْمَسْجِدِ الَّذِي بِطَرَفِ الْأَكَمَةِ، وَمُصَلَّى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْفَلَ مِنْهُ عَلَى الْأَكَمَةِ السَّوْدَاءِ، يَدَعُ مِنَ الْأَكَمَةِ عَشْرَةَ أَذْرُعٍ أَوْ نَحْوَهَا، ثُمَّ يُصَلِّي مُسْتَقْبِلَ الْفُرْضَتَيْنِ مِنَ الْجَبَلِ الطَّوِيلِ، الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَ الْكَعْبَةِ ".
موسیٰ بن عقبہ سے روایت ہے انہوں نے نافع سے روایت کی کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے انہیں بتایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کے رخ پر اس پہاڑ کی دونوں گھاٹیوں کو سامنے رکھا جو آپ کے اور لمبے پہاڑ کے درمیان تھا آپ اس مسجد کو جو وہاں بنائی گئی ہے ٹیلے کے کنارے والی مسجد کے بائیں ہاتھ رکھتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز پڑھنے کی جگہ اس مسجد سے نیچے کالے ٹیلے پر تھی ٹیلے سے تقریباً دس ہاتھ (جگہ) چھوڑتے پھر آپ لمبے پہاڑ کی دونوں گھاٹیوں کی جانب رخ کر کے نماز پڑھتے وہ پہاڑ جو تمہارے اور کعبہ کے درمیان پڑتا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3047]
حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نافع کو بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ کی طرف اس پہاڑ کی دونوں چوٹیوں کے درمیان رخ کیا، جو ان کے اور بڑے پہاڑ کے درمیان تھا، اور جو مسجد وہاں بنا دی گئی ہے، اس کو ٹیلے کے کنارے کی مسجد کے بائیں طرف کرتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی جگہ اس سے نیچے سیاہ ٹیلہ پر ہے، اس ٹیلہ سے کم و بیش دس ہاتھ چھوڑ کر، پھر طویل پہاڑ کی دو چوٹیوں کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے، جو تیرے اور کعبہ کے درمیان ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3047]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1260
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں