مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
39. في الجلاجل للصبيان
بچوں کے لئے گھونگرو کے بارے میں
ترقیم عوامۃ: 25443 ترقیم الشثری: -- 26561
٢٦٥٦١ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن محمد بن عجلان سمع عامر ابن عبد الله بن الزبير قال: (حدثتني) (١) ريحانة: ان اهلها ارسلوها ومعها صبي عليه اجراس فقال: اخبري اهلك ان هذا يتبعه الشيطان (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (حدثني).
(٢) مجهول؛ ريحانة مجهولة، أخرجه أبو داود (٤٢٣٠)، وقد ذكر ابن حجر في الإصابة ٧/ ٦٦٢ ريحانة هذه في القسم الثالث.
حضرت ریحانہ بیان کرتی ہیں کہ ان کے گھر والوں نے انہیں اور ان کے ہمراہ ایک بچے کو بھیجا جس پر گھنٹیاں تھیں۔ تو انہوں نے فرمایا: تم اپنے گھرو الوں کو بتادو کہ ان کے پیچھے شیطان ہوتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب اللباس/حدیث: 26561]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26561، ترقيم محمد عوامة 25443)
ترقیم عوامۃ: 25444 ترقیم الشثری: -- 26562
٢٦٥٦٢ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن ابن (ابي) (١) نجيح (عن مجاهد) (٢) قال: اتيت عبد الرحمن بن ابي ليلى ومعي تبر فقال: (اتريد) (٣) ان ⦗٢٠⦘ (تحلي) (٤) به مصحفا؟ قلت: لا، قال: (لتحلي) (٥) به سيفا؟ قال: قلت: (احلي) (٦) به ابنتي قال: هل عسيت ان تجعلها اجراسا، فإنها تكره (٧) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ز].
(٢) سقط من: [جـ].
(٣) في [أ، جـ، ح]: (تريد).
(٤) في [جـ]: (تحل).
(٥) في [جـ]: (تحل)، وفي [ح]: (تحلى).
(٦) في [جـ]: (أحل).
(٧) صحيح.
حضرت مجاہد سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ کے پاس حاضر ہوا۔ جبکہ میرے پاس پتری تھی۔ انہوں نے پوچھا: کیا تم اس کے ذریعہ مصحف شریف کو مزین کرنا چاہتے ہو؟ میں نے کہا: نہیں۔ پھر انہوں نے پوچھا: کیا تم اس کے ذریعہ تلوار کو مُحلّٰی کرنا چاہتے ہو؟ راوی کہتے ہیں۔ میں نے کہا: میں اس کے ذریعہ اپنی بچی کا زیور بنانا چاہتا ہوں۔ آپ نے فرمایا۔ کیا تم اس کے ذریعہ گھنٹیاں بنانا چاہتے ہو؟ یہ تو مکروہ ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب اللباس/حدیث: 26562]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26562، ترقيم محمد عوامة 25444)
ترقیم عوامۃ: 25445 ترقیم الشثری: -- 26563
٢٦٥٦٣ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابن إدريس عن شعبة عن (عبد الله) (١) بن حنش قال: رايت (ابن) (٢) عمر واتي بصبي عليه اوضاح، فجعل يهازله (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، جـ، ح، ز، ط، هـ]: (عبد الرحمن)، وانظر: العيال لابن أبي الدنيا (٢٤٥)، والثقات ٥/ ٥٥، والجرح والتعديل ٥/ ٣٩.
(٢) في [هـ]: (أبي).
(٣) صحيح؛ عبد اللَّه بن حنش هو الأودي الكوفي، وثقه ابن معين وسفيان، وقال أبو حاتم: "لا بأس به".
حضرت عبد اللہ بن حنش سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ ان کے پاس ایک بچہ لایا گیا جس کو پازیب پہنایا ہوا تھا۔ تو آپ نے اس سے مذاق کرنا شروع کردیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب اللباس/حدیث: 26563]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26563، ترقيم محمد عوامة 25445)
ترقیم عوامۃ: 25446 ترقیم الشثری: -- 26564
٢٦٥٦٤ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا حفص عن ليث عن مجاهد قال: ادخلت على عائشة صبية عليها جلاجل فقالت: مالي اراك (منفرة) (١) الملائكة اخرجوها عني (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ز]: (منقرة).
(٢) ضعيف؛ لضعف ليث.
حضرت مجاہد سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک بچی آئی جس نے گھونگھرو پہنے ہوئے تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: مجھے کیا ہوا کہ میں تمہیں فرشتوں کو نفرت دلانے والی دیکھ رہی ہوں۔ اس کو میرے پاس سے نکال دو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب اللباس/حدیث: 26564]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26564، ترقيم محمد عوامة 25446)
ترقیم عوامۃ: 25447 ترقیم الشثری: -- 26565
٢٦٥٦٥ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ازهر عن ابن عون قال: نبئت ان محمدا كان يقطع الجلاجل التي تكون على الصبيان.
حضرت ابن عون سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ مجھے یہ بات بتائی گئی کہ حضرت محمد ان گھونگروں کو کاٹ دیتے تھے جو بچوں کو پہنائے ہوتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب اللباس/حدیث: 26565]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26565، ترقيم محمد عوامة 25447)
ترقیم عوامۃ: 25448 ترقیم الشثری: -- 26566
٢٦٥٦٦ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا جرير عن مغيرة قال: (حلى) (١) إبراهيم بنتين له صغيرتين جلاجل من ذهب (يصوتن) (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (حل).
(٢) في [أ، ح]: (يصرين)، وفي [هـ]: (بصرين).
حضرت مغیر ہ سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابراہیم نے اپنی دو چھوٹی بیٹیوں کو آواز کرنے والے گھونگرو پہنائے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب اللباس/حدیث: 26566]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26566، ترقيم محمد عوامة 25448)
ترقیم عوامۃ: 25449 ترقیم الشثری: -- 26567
٢٦٥٦٧ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا اصحابنا عن حفص عن طلحة بن يحيى قال: دخلت على عمر بن عبد العزيز فرايت ابنتين له، وعليهما اوضاح.
حضرت طلحہ بن یحییٰ سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت عمر بن عبد العزیز کے پاس گیا تو میں نے ان کی دو بیٹیاں دیکھیں۔ دونوں نے پازیب پہنے ہوئے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب اللباس/حدیث: 26567]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26567، ترقيم محمد عوامة 25449)