🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

67. في السيوف المحلاة واتخاذها
مزین تلواروں کو استعمال کرنے کا حکم
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 25697 ترقیم الشثری: -- 26822
٢٦٨٢٢ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا إسرائيل عن جابر عن عامر قال: اخرج إلينا علي بن الحسين سيف رسول الله ﷺ فإذا قبيعته والحلقتان ⦗٨٠⦘ اللتان (فيهما) (١) الحمائل فضة، قال: فسالته فإذا هو قد نحل (٢) ، كان سيف منبه بن الحجاج السهمي اتخذه النبي ﷺ لنفسه يوم بدر، قال: واخرج إلينا درعه فإذا هي يمانية رقيقة ذات (زرافين) (٣) فإذا علقت بزرافينها (شمرت) (٤) ، وإذا ارسلت مست الارض (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ز]: (فيها).
(٢) أي: أهدي.
(٣) في [جـ]: (رزاقين)، والزرافين: حلقات الدرع، انظر: لسان العرب ١٣/ ١٩٧، وتاج العروس ٣٥/ ١٤٥.
(٤) في [أ، هـ]: (سمرت)، وفي [جـ]: (ثمرت).
(٥) منقطع ضعيف؛ جابر الجعفي ضعيف، علي بن الحسين لم يدرك زمن النبوة، وأخرجه ابن عساكر ٤/ ٢٢٢ في أخلاق النبي (٤١٥).

حضرت عامر سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ بن الحسین نے ہمیں جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تلوار نکال کر دکھائی تو اس میں ایک قبضہ اور دو کڑے تھے جن میں چاندی کی حمائل تھی۔ راوی کہتے ہیں۔ میں نے ان سے اس کے بارے میں پوچھا۔ تو وہ ہدیہ کی ہوئی معلوم ہوئی۔ یہ منبہ بن حجاج سہمی کی تلوار تھی۔ جس کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوہ بدر کے دن اپنے لیے لیا تھا۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر انہوں نے ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زرہ دکھائی وہ دو کڑیوں والی باریک یمنی زرہ تھی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب اللباس/حدیث: 26822]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26822، ترقيم محمد عوامة 25697)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 25698 ترقیم الشثری: -- 26823
٢٦٨٢٣ - (حدثنا ابو بكر) (١) قال: (حدثنا) (٢) ابو (نعيم) (٣) عن إسرائيل عن جابر عن ابي جعفر قال: لا باس ان يحلى السيف.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) ساقط من: [أ، جـ، ح، ز، ط].
(٢) ساقط من: [أ، جـ، ح، ز، ط].
(٣) في [ز]: (نعم).

حضرت ابو جعفر سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس بات میں کوئی حرج نہیں ہے کہ تلوار کو مزین کیا جائے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب اللباس/حدیث: 26823]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26823، ترقيم محمد عوامة 25698)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں