🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

67. بَابُ مَنْ أَسْمَعَ النَّاسَ تَكْبِيرَ الإِمَامِ:
باب: باب اس سے متعلق جو مقتدیوں کو امام کی تکبیر سنائے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 712
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" لَمَّا مَرِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَضَهُ الَّذِي مَاتَ فِيهِ أَتَاهُ بِلَالٌ يُوذِنُهُ بِالصَّلَاةِ، فَقَالَ: مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ، قُلْتُ: إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ أَسِيفٌ إِنْ يَقُمْ مَقَامَكَ يَبْكِي فَلَا يَقْدِرُ عَلَى الْقِرَاءَةِ، فَقَالَ: مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ، فَقُلْتُ: مِثْلَهُ، فَقَالَ: فِي الثَّالِثَةِ أَوِ الرَّابِعَةِ إِنَّكُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ، فَصَلَّى وَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهَادَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ يَخُطُّ بِرِجْلَيْهِ الْأَرْضَ، فَلَمَّا رَآهُ أَبُو بَكْرٍ ذَهَبَ يَتَأَخَّرُ فَأَشَارَ إِلَيْهِ أَنْ صَلِّ فَتَأَخَّرَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَقَعَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى جَنْبِهِ وَأَبُو بَكْرٍ يُسْمِعُ النَّاسَ التَّكْبِيرَ"، تَابَعَهُ مُحَاضِرٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ.
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبداللہ بن داؤد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اعمش نے ابراہیم نخعی سے بیان کیا، انہوں نے اسود سے، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ آپ نے بتلایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض الوفات میں بلال رضی اللہ عنہ نماز کی اطلاع دینے کے لیے حاضر خدمت ہوئے۔ آپ نے فرمایا کہ ابوبکر سے نماز پڑھانے کے لیے کہو۔ میں نے عرض کیا کہ ابوبکر کچے دل کے آدمی ہیں اگر آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو رو دیں گے اور قرآت نہ کر سکیں گے۔ آپ نے فرمایا کہ ابوبکر سے کہو وہ نماز پڑھائیں۔ میں نے وہی عذر پھر دہرایا۔ پھر آپ نے تیسری یا چوتھی مرتبہ فرمایا کہ تم لوگ تو بالکل صواحب یوسف کی طرح ہو۔ ابوبکر سے کہو کہ وہ نماز پڑھائیں۔ خیر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نماز شروع کرا دی۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (اپنا مزاج ذرا ہلکا پا کر) دو آدمیوں کا سہارا لیے ہوئے باہر تشریف لائے۔ گویا میری نظروں کے سامنے وہ منظر ہے کہ آپ کے قدم زمین پر نشان کر رہے تھے۔ ابوبکر آپ کو دیکھ کر پیچھے ہٹنے لگے۔ لیکن آپ نے اشارہ سے انہیں نماز پڑھانے کے لیے کہا۔ ابوبکر پیچھے ہٹ گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے بازو میں بیٹھے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ لوگوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تکبیر سنا رہے تھے۔ عبداللہ بن داؤد کے ساتھ اس حدیث کو محاضر نے بھی اعمش سے روایت کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَذَانِ/حدیث: 712]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مرضِ وفات میں مبتلا ہوئے تو آپ کے پاس حضرت بلال رضی اللہ عنہ نماز کی اطلاع دینے کے لیے آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دیں۔ میں نے عرض کیا کہ ابوبکر ایک نرم دل آدمی ہیں، اگر وہ آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو رونے لگیں گے اور قراءت پر قادر نہیں ہوں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوبکر سے کہو کہ وہ نماز پڑھائیں۔ میں نے پھر وہی عرض کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری یا چوتھی مرتبہ فرمایا: تم تو یوسف (علیہ السلام) والی عورتوں کی مثل ہو۔ ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ چنانچہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھانا شروع کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم دو آدمیوں کے سہارے باہر تشریف لائے، گویا میں اس وقت بھی آپ کی طرف دیکھ رہی ہوں کہ آپ کے دونوں پاؤں زمین پر گھسٹتے جاتے تھے۔ جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ کو دیکھا تو پیچھے ہٹنے لگے مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارے سے فرمایا کہ نماز پڑھاتے رہو لیکن حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کچھ پیچھے ہٹ گئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پہلو میں بیٹھ گئے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ لوگوں کو آپ کی تکبیرات سناتے تھے۔ محاضر نے امام اعمش سے روایت کرنے میں عبداللہ بن داود کی متابعت کی ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَذَانِ/حدیث: 712]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں