صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
76. باب مَا يَقُولُ إِذَا قَفَلَ مِنْ سَفَرٍ الْحَجِّ وَغَيْرِهِ:
باب: جب حج وغیرہ کے سفر سے واپس لوٹے تو کیا دعائیں پڑھے۔
ترقیم عبدالباقی: 1344 ترقیم شاملہ: -- 3278
حدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا أَبُو أُسَامَةَ ، حدثنا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ . ح وحدثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، وَاللَّفْظُ لَهُ، حدثنا يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَفَلَ مِنَ الْجُيُوشِ، أَوِ السَّرَايَا، أَوِ الْحَجِّ، أَوِ الْعُمْرَةِ، إِذَا أَوْفَى عَلَى ثَنِيَّةٍ، أَوْ فَدْفَدٍ، كَبَّرَ ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ: " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، آيِبُونَ، تَائِبُونَ، عَابِدُونَ، سَاجِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ، صَدَقَ اللَّهُ وَعْدَهُ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ، وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ "،
عبیداللہ نے نافع سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بڑے لشکروں یا چھوٹے دستوں (کی مہموں) سے یا حج یا عمرے سے لوٹتے تو جب آپ کسی گھاٹی یا اونچی جگہ پر چڑھتے، تین مرتبہ اللہ اکبر کہتے، پھر فرماتے: «لا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير، آيبون تائبون عابدون ساجدون لربنا حامدون، صدق الله وعده ونصر عبده وهزم الأحزاب وحده» اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، سارا اختیار اسی کا ہے۔ حمد اسی کے لیے ہے اور وہی ہر چیز پر قادر ہے۔ ہم لوٹنے والے، توبہ کرنے والے، عبادت کرنے والے، سجدہ کرنے والے، اپنے رب کی تعریف کرنے والے ہیں، اللہ نے اپنا وعدہ سچا کیا، اپنے بندے کی مدد کی اور تنہا اسی نے تمام جماعتوں کو شکست دی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3278]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1344
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1344 ترقیم شاملہ: -- 3279
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حدثنا إِسْمَاعِيل يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ . ح وحدثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حدثنا معنَ ، عَنْ مَالِكٍ . ح وحدثنا ابْنُ رَافِعٍ ، حدثنا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ ، كُلُّهُمْ عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ إِلَّا حَدِيثَ أَيُّوبَ، فَإِنَّ فِيهِ التَّكْبِيرَ مَرَّتَيْنِ.
ایوب، امام مالک رحمہ اللہ اور ضحاک سب نے نافع سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند حدیث بیان کی، سوائے ایوب کی حدیث کے، اس میں تکبیر دو مرتبہ ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3279]
امام صاحب مذکورہ بالا روایت اپنے مختلف اساتذہ سے بیان کرتے ہیں، ان میں ایک کی روایت میں تکبیر دو دفعہ کہنے کا ذکر ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3279]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1344
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1345 ترقیم شاملہ: -- 3280
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حدثنا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ: قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ : أَقْبَلْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا، وَأَبُو طَلْحَةَ، وَصَفِيَّةُ رَدِيفَتُهُ عَلَى نَاقَتِهِ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِظَهْرِ الْمَدِينَةِ، قَالَ: " آيِبُونَ، تَائِبُونَ، عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ "، فَلَمْ يَزَلْ يَقُولُ ذَلِكَ حَتَّى قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ،
اسماعیل بن علیہ نے ہمیں یحییٰ بن ابی اسحاق سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اور حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں (سفر سے) واپس آئے اور حضرت صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا آپ کی اونٹنی پر آپ کے پیچھے (سوار) تھیں۔ جب ہم مدینہ کے بالائی حصے میں تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «آيبون تائبون عابدون لربنا حامدون» ہم لوٹنے والے، توبہ کرنے والے، عبادت کرنے والے، اپنے رب کی تعریف کرنے والے ہیں۔ آپ مسلسل یہی بات کہتے رہے یہاں تک کہ ہم مدینہ آگئے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3280]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم یعنی میں اور ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ واپس آ رہے تھے، اور حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھیں، حتی کہ جب ہم مدینہ کی سرزمین کی پشت پر پہنچے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ الفاظ کہنے شروع کر دئیے: ”لوٹنے والے، توبہ کرنے والے، عبادت کرنے والے، اور اپنے رب کی تعریف کرنے والے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہی الفاظ بار بار کہتے رہے یہاں تک کہ ہم مدینہ پہنچ گئے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3280]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1345
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1345 ترقیم شاملہ: -- 3281
وحدثنا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، حدثنا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، حدثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ.
بشر بن مفضل نے ہمیں حدیث بیان کی، (کہا:) ہمیں یحییٰ بن ابی اسحاق نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3281]
امام صاحب اپنے ایک اور استاد سے یہی روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3281]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1345
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة