مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
224. في الرجل ينقطع (شسعه) فيسترجع
اس شخص کا بیان جس کے چپل کا تسمہ ٹوٹ جائے تو وہ اِنا للہ وانا الیہ راجعون پڑھتا ہو
ترقیم عوامۃ: 27183 ترقیم الشثری: -- 28351
٢٨٣٥١ - حدثنا ابو اسامة قال: حدثنا سفيان (بن) (١) دينار التمار عن عون بن عبد الله قال: كان عبد الله يمشي مع (ناس من) (٢) اصحابه ذات يوم فانقطع شسع نعله فاسترجع، فقال له بعض القوم: يا ابا عبد الرحمن تسترجع على سير؟ قال: ما بي إلا ان تكون السيور (كثيرة) (٣) ولكنها مصيبة (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، جـ، ح، ز، ط، هـ]: (عن).
(٢) سقط من: [أ، ح، ط، هـ].
(٣) في [هـ]: (كثير).
(٤) منقطع؛ عون لم يسمع من ابن مسعود.
حضرت عون بن عبد اللہ فرماتے ہیں کہ ایک دن حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اپنے اصحاب میں سے چند لوگوں کے ساتھ چل رہے تھے کہ آپ کی جوتی کا تسمہ ٹوٹ گیا۔ اس پر آپ نے انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھا۔ لوگوں میں سے کسی نے آپ سے کہا: اے ابو عبد الرحمن! آپ ایک تسمہ پر انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: مجھے افسوس نہیں کیونکہ تسمہ تو بہت ہیں لیکن یہ مصیبت ہی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الأدب/حدیث: 28351]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28351، ترقيم محمد عوامة 27183)
ترقیم عوامۃ: 27184 ترقیم الشثری: -- 28352
٢٨٣٥٢ - حدثنا وكيع عن سفيان عن ابي إسحاق عن عبد الله بن خليفة عن عمر بن الخطاب انه انقطع شسعه فاسترجع وقال: كل ما (ساءك) (١) مصيبة (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ح، ط]: (ساء)، وفي [هـ]: (ساء فهو).
(٢) مجهول؛ لجهالة عبد اللَّه بن خليفة، أخرجه هناد (٤٢٣)، وابن سعد (٦/ ١٢١)، وعبد اللَّه بن أحمد في زوائد الزهد (ص ٢١٦)، والبيهقي في شعب الإيمان (٩٦٩٤).
حضرت عبد اللہ بن خلیفہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب کی جوتی کا تسمہ ٹوٹ گاہ تو آپ نے انا اللہ وانا الیہ راجعون پڑھی۔ اور فرمایا: ہر وہ چیز جو تمہیں بری معلوم ہو وہ مصیبت و تکلیف ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الأدب/حدیث: 28352]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28352، ترقيم محمد عوامة 27184)
ترقیم عوامۃ: 27185 ترقیم الشثری: -- 28353
٢٨٣٥٣ - حدثنا عبيد الله بن موسى قال: اخبرنا شيبان عن منصور عن مجاهد عن سعيد بن المسيب قال: انقطع قبال عمر فقال: إنا لله وإنا إليه راجعون، فقالوا: ⦗٥٢١⦘ يا امير المؤمنين؛ افي قبال نعلك؟ قال: نعم، كل شيء اصاب المؤمن يكرهه فهو مصيبه (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح.
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ حضرت سعید بن مسیب نے ارشاد فرمایا: حضرت عمر کی جوتی کا تسمہ ٹوٹ گیا، اس پر آپ نے انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھی۔ لوگوں نے کہا: اے امیر المؤمنین! کیا جوتی کا تسمہ ٹوٹنے کی صورت میں بھی؟ آپ نے فرمایا: جی ہاں۔ ہر وہ چزہ جو مومن کو تکلیف پہنچائے اور وہ اسے برا سمجھے تو یہ مصیبت ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الأدب/حدیث: 28353]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28353، ترقيم محمد عوامة 27185)