🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

135. الرجل يضرب الرجل فلا يزال مريضا حتى يموت
اس آدمی کا بیان جس نے آدمی کو ضرب لگائی پس وہ شخص مسلسل مریض رہ کر وفات پا گیا
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 28199 ترقیم الشثری: -- 29433
٢٩٤٣٣ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا جرير عن مغيرة (عن) (١) الحارث في الرجل يضرب الرجل قال: إذا شهدت الشهود انه ضربه فلم يزل مريضا من ضربه حتى مات الزمته الدية، فإن كان عامدا فالقود، وإن كان خطا فالدية على العاقلة.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ط]: (بن).
حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ حضرت حارث نے اس آدمی کے بارے میں جس نے کسی آدمی کو مارا۔ آپ نے فرمایا: جب گواہ گواہی دے دیں اس بات کی کہ اس شخص نے اسے مارا اور اس کی مار کی وجہ سے وہ مسلسل بیمار رہا پھر اس کی موت ہوگئی فرمایا: میں اس پر دیت لازم کروں گا پس اگر تو اس نے جان بوجھ کر مارا تھا تو قصاص ہوگا اور اگر غلطی ہوا تو اس صورت میں خاندان والوں پر دیت لازم ہوگی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 29433]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29433، ترقيم محمد عوامة 28199)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 28200 ترقیم الشثری: -- 29434
٢٩٤٣٤ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابو اسامة عن هشام عن الحسن في الرجل يضرب الرجل فلا يزال مضنى (١) على فراشه حتى يموت، قال: فيه القود.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) أي: مثقلًا بالمرض، انظر: تاج العروس ٣٨/ ٤٧٣.
حضرت ہشام فرماتے ہیں کہ حضرت حسن بصری نے ارشاد فرمایا: ایک آدمی نے جب دوسرے آدمی کو مارا پس وہ مسلسل بستر پر بیمار پڑا رہا یہاں تک کہ اس کی وفات ہوگئی تو اس میں قصاص لازم ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 29434]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29434، ترقيم محمد عوامة 28200)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 28201 ترقیم الشثری: -- 29435
٢٩٤٣٥ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا الاعمش عن تميم بن سلمة قال: شهد رجلان عند شريح على رجل فقالا: نشهد ان هذا صرع هذا، فلم يزل يعصره (بمرفقه) (١) حتى مات، فقال شريح: (تشهدان) (٢) انه قتله؟ ⦗٢٠٢⦘ (فقالا: نشهد انه صرعه، فلم يزل يعصره بمرفقه حتى مات، قال: تشهدان انه قتله) (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [هـ].
(٢) في [أ]: (تشهدوا)، وفي [هـ]: (تشهدون)، وفي [أ، ط]: (تشهد).
(٣) سقط من: [أ، ح، ط، هـ].

حضرت تمیم بن سلمہ فرماتے ہیں کہ دو آدمیوں نے حضرت شریح کے سامنے ایک آدمی کے خلاف گواہی دی پس ان دونوں نے کہا ہم گواہی دیتے ہیں کہ اس شخص نے اس کو پچھاڑا پس مسلسل اسے اپنی کہنی سے اسے دباتا رہا یہاں تک کہ وہ شخص مرگیا حضرت شریح نے پوچھا: کیا تم دونوں اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ اس نے اسے قتل کیا ہے؟ ان دونوں نے جوا ب دیا ہم دونوں گواہی دیتے ہیں کہ اس شخص نے اسے پچھاڑا اور مسلسل اپنی کہنی سے اسے دباتا رہا یہاں تک کہ وہ مرگیا آپ نے پوچھا: کیا تم دونوں اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ ا س نے اسے قتل کیا ہے؟ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 29435]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29435، ترقيم محمد عوامة 28201)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 28202 ترقیم الشثری: -- 29436
٢٩٤٣٦ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا محمد بن بكر عن ابن جريج قال: اخبرني ابن شهاب ان عمر بن الخطاب اوطا في زمانه رجل من جهينة (١) [ (رجلا) (٢) من بني غفار (او رجل) (٣) من بني غفار (رجلا) (٤) من جهينة، فادعى اهله انه مات من ذلك] (٥) ، فاحلفهم عمر خمسين رجلا منهم من المدعين، فابوا ان يحلفوا، وابى المدعي عليهم ان يحلفوا، فقضى عمر فيها بشطر الدية (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ط، م]: زيادة (و).
(٢) سقط من: [ك].
(٣) في [ط]: (ورجلًا).
(٤) في [ك]: (رجل).
(٥) سقط من: [جـ].
(٦) منقطع؛ الزهري لم يدرك عمر.

حضرت ابن شہاب فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب کے زمانے میں قبیلہ جھینہ کے ایک آدمی نے قبیلہ بنو غفار کے ایک شخص کو روند ڈالا یا راوی نے یوں فرمایا: کہ قبیلہ بنو غفار کے ایک شخص نے قبیلہ جہینہ کے آدمی کو روند ڈالا تو اس آدمی کے گھر والوں نے یہ دعویٰ کردیا کہ اس وجہ سے مرا ہے تو حضرت عمر نے مدعیوں کے پچاس آدمیوں کو قسم اٹھانے کے لیے کہا۔ ان لوگوں نے قسم اٹھانے سے انکار کردیا اور جن لوگوں کے خلاف دعویٰ کیا گیا تھا ان لوگوں نے بھی قسم اٹھانے سے انکار کردیا تو حضرت عمر نے اس بارے میں نصف دیت کا فیصلہ فرمایا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 29436]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29436، ترقيم محمد عوامة 28202)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 28203 ترقیم الشثری: -- 29437
٢٩٤٣٧ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا محمد بن بكر عن ابن جريج قال: اخبرني (حسن) (١) بن مسلم ان امة عضت إصبعا لمولى لبني زيد فطمر (٢) فيها فمات، فاعترفت الجارية بعضتها إياه، فقضى فيها محمر بن عبد العزيز بان يحلف (بنو) (٣) زيد خمسين يمينا (ترد) (٤) عليهم الايمان (لمات) (٥) من عضتها ثم (الامة) (٦) لهم، وإلا فلا حق لهم، فابوا ان يحلفوا.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (الحسن).
(٢) أي: ورم.
(٣) في [أ، ح، ط، هـ]: (بني).
(٤) في [هـ]: (تردد).
(٥) في [أ، ب، ط]: (لما مات).
(٦) في [م]: بياض، وسقط من: [أ، ب، جـ، ط، ك].

حضرت حسن بن مسلم فرماتے ہیں کہ ایک باندی نے بنو زید کے آزاد کردہ غلام کی انگلی کو کاٹا جس سے وہ ورم آلود ہوگئی پھر اس شخص کی وفات ہوگئی اور باندی نے بھی اس کی انگلی کے کاٹنے کا اعتراف کیا اس بارے میں حضرت عمر بن عبدالعزیز نے یہ فیصلہ فرمایا کہ بنو زید والے پچاس قسمیں اٹھائیں گے اس طور پر کہ ان پر قسم کو لوٹایا جائے گا وہ شخص ان باندی کے کاٹنے کی وجہ سے مرا ہے پھر باندی ان کو مل جائے گی ورنہ ان کو کوئی حق نہیں ملے گا پس ان لوگوں نے قسم اٹھانے سے انکار کردیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 29437]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29437، ترقيم محمد عوامة 28203)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں