🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

184. الرجل يجب عليه القتل فيدفع إلي الأولياء
اس آدمی کا بیان جس کو قتل کرنا ثابت ہوچکا پس ان کو اولیاء کے حوالہ کردیا جائے گا
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 28471 ترقیم الشثری: -- 29730
٢٩٧٣٠ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابو اسامة قال: حدثنا ابن جريج قال: اخبرني (عمرد) (١) ان (حيي) (٢) بن يعلى اخبره انه سمع يعلى يخبر ان رجلا اتى ⦗٢٧٥⦘ يعلى فقال له: (قاتلي) (٣) هذا (٤) ، فدفعه إليه يعلى فجدعوه بسيوفهم حتى (راوا) (٥) انهم قتلوه وبه رمق، فاخذه اهله فداووه حتى برا، فجاء يعلى فقال: (٦) او (لست) (٧) قد دفعت إليك (٨) ، فاخبره خبره، فدعاه يعلى فوجده قد (شلل) (٩) فحسبت جروحه فوجدوا فيه الدية، فقال له يعلى: إن شئت فادفع إليه ديته فاقتله، وإلا فدعه، فلحق بعمر (فاستادى) (١٠) على يعلى، فاتفق عمر وعلي على قضاء يعلى ان يدفع إليه الدية ويقتله، او يدعه فلا يقتله، وقال عمر ليعلى: إنك لقاض، ثم رده إلى عمله (١١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (عمرو).
(٢) في [أ، ط، هـ]: (حي)، وأكثر المراجع على (حيي)، انظر: التاريخ الكبير ١/ ٧٠ و ٣/ ٧٤، والجرح والتعديل ٥/ ٨ و ٧/ ٤٢ و ٧/ ٢٣٩، والثقات (٤/ ١٧٧)، وتعجيل المنفعة ١/ ١١٠ و ٢١١ و ٣٦٣)، وتهذيب الكمال ١٣/ ٢١٣.
(٣) سقط من: [أ، ط، هـ].
(٤) في [هـ]: زيادة (قاتلي أخي).
(٥) في [ط، ك، م]: (ربو)، وفي [هـ]: (رمو).
(٦) في [هـ]: زيادة (قاتل أخي فقال).
(٧) في [ط، هـ]: (ليس).
(٨) في [جـ]: زيادة (حاجتي).
(٩) تغير لون ثوبه بدم لا يغسل بالسهولة، وفي [ط، هـ]: (سلك).
(١٠) أي استعدى وطلب القضاء عليه، وفي [م]: (استادلها).
(١١) مجهول؛ لجهالة عمرد وحيي بن يعلى.

حضرت حیی بن یعلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت یعلی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور آپ سے کہا مجھے مارنے والا یہ شخص ہے تو حضرت یعلی رضی اللہ عنہ نے وہ آدمی اس کے حوالہ کردیا ان لوگوں نے اس کو اپنی تلواروں سے خوب مارا یہاں تک کہ وہ سمجھے کہ انہوں نے اس کو ماردیا ہے حالانکہ اس میں زندگی کی رمق باقی تھی پس اس کے گھر والوں نے اس کو لے لیا اور اس کا علاج کروایا یہاں تک کہ وہ تندرست ہوگیا۔ حضرت یعلی رضی اللہ عنہائے اور فرمایا: کیا میں نے اسے تمہارے حوالہ نہیں کردیا تھا؟ تو اس نے آپ کو اس کے بارے میں خبر دی حضرت یعلی رضی اللہ عنہ نے اس کو بلایا تو آپ کو اس کے جسم پر زخموں کے نشان پائے اور اس کے زخم سفید ہوچکے تھے پھر ان لوگوں نے اس میں دیت لینا چاہی تو حضرت یعلی رضی اللہ عنہ نے اس شخص سے کہا: اگر تو چاہے تو اس کو اس کی دیت ادا کردے اور اسے قتل کردے وگرنہ اس کو چھوڑ دو پس وہ شخص حضرت عمر سے ملا اور حضرت یعلی رضی اللہ عنہ کے خلاف آپ سے مدد چاہی لیکن حضرت عمر اور حضرت علی رضی اللہ عنہان دونوں حضرات نے حضرت یعلی رضی اللہ عنہ کے فیصلہ پر اتفاق کیا کہ اس بچنے والے کو پہلے دیت ادا کی جائے اور اس کو قتل کردیا جائے یا اس کو چھوڑ دو اور قتل مت کرو۔ اور حضرت عمر نے حضرت یعلی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: یقینا تم تو قاضی ہو پھر آپ نے ان کو ان کے کام کی طرف واپس لوٹا دیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 29730]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29730، ترقيم محمد عوامة 28471)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں