مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
226. الرجل يقدم بأمان فيقتله المسلم
اس آدمی کا بیان جو امان طلب کر کے آیا اور کسی مسلمان نے اسے قتل کردیا
ترقیم عوامۃ: 28606 ترقیم الشثری: -- 29879
٢٩٨٧٩ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابن مبارك عن (معمر) (١) (عن زياد بن مسلم) (٢) ان رجل من اهل الهند قدم بامان (عدن) (٣) فقتله رجل من المسلمين باخيه، فكتب في ذلك إلى عمر بن عبد العزيز فكتب: ان لا تقتله، وخذ منه الدية فابعث بها إلى ورثته، وامر به فسجن.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، ط، ك، م]: (مغيرة).
(٢) سقط من النسخ واثبته مما سيأتي برقم (١٢/ ٤٦٤) والخبر أخرجه سعيد بن منصور (٢٨٢٦)، والبيهقي (٩/ ٩٤)، وبنحوه عبد الرزاق (١٨٥١٩)، وانظر: التاريخ الكبير (٣/ ٣٧١)، والجرح والتعديل (٣/ ٥٤٦)، والثقات (٦/ ٣٢٩).
(٣) سقط من [أ، هـ، ط]؛ وعدن مدينة باليمين.
حضرت معمر فرماتے ہیں کہ حضرت زیاد بن مسلم نے ارشاد فرمایا: ہندوستان کا ایک آدمی امن لیکر عدن آیا تو مسلمانوں میں سے ایک شخص نے اپنے بھائی کی وجہ سے اسے قتل کردیا سو اس بارے میں حضرت عمر بن عبدالعزیر کو خط لکھا گیا تو آپ نے جواب لکھا: کہ اس کو قتل مت کرو اس سے دیت لے کر وہ دیت اس مقتول کے ورثاء کو بھیج دو اور آپ کے حکم سے اسے قید کردیا گیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 29879]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29879، ترقيم محمد عوامة 28606)
ترقیم عوامۃ: 28607 ترقیم الشثری: -- 29880
٢٩٨٨٠ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن (يوسف بن) (١) يعقوب ان رجلا من المشركين قتل رجلا من المسلمين ثم دخل بامان، فقتله اخوه، فقضى عليه عمر بن عبد العزيز بالدية وجعله عليه في ماله، وحبسه في السجن، وبعث بديته إلى ورثته من اهل الحرب.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من [ط].
حضرت یوسف بن یعقوب فرماتے ہیں کہ مشرکین میں سے ایک شخص نے مسلمانوں کے ایک آدمی کو قتل کردیا پھر وہ شخص امان لے کر داخل ہوا تو اس مسلمان کے بھائی نے اس کو قتل کردیا سو اس کے خلاف حضرت عمر بن عبدالعزیر نے دیت کی ادائیگی کا فیصلہ فرمایا: اور آپ نے اس دیت کا بوجھ اس کے مال میں ڈالا اور اسے جیل میں قید کردیا اور وہ دیت مقتول کے اہل حرب میں موجود ورثاء کو بھیج دی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 29880]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29880، ترقيم محمد عوامة 28607)
ترقیم عوامۃ: 28608 ترقیم الشثری: -- 29881
٢٩٨٨١ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا الثقفي عن حبيب المعلم عن الحسن ان رجلا من المشركين حج، فلما رجع صادرا لقيه رجل من المسلمين فقتله، (فامره) (١) النبي ﷺ ان تؤدى ديته إلى اهله (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ط، هـ]: (فأمر).
(٢) مرسل؛ الحسن تابعي، أخرجه أبو داود في المراسيل (٣٦٧).
حضرت حسن بصری فرماتے ہیں کہ ایک مشرک آدمی نے حج کیا پس جب وہ حج کر کے واپس لوٹا تو اس سے ایک مسلمان آدمی ملا جس نے اسے قتل کردیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس شخص کو حکم دیا کہ وہ اس کے ورثاء کو اس کی دیت ادا کرے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 29881]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29881، ترقيم محمد عوامة 28608)
ترقیم عوامۃ: 28609 ترقیم الشثری: -- 29882
٢٩٨٨٢ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابو داود عن ابي حرة عن الحسن في قوم ⦗٣١٥⦘ لقوا (العدو) (١) فاستاجلوهم خمسة ايام فقتل بينهم قتيل، قال: على المسلمين (ديته) (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (عدوًا).
(٢) في [جـ]: (دية).
حضرت ابو حرہ فرماتے ہیں کہ حضرت حسن بصری سے ایسے افراد کے بارے میں مروی ہے جو دشمنوں سے ملے پس انہوں نے ان سے پانچ دن کی مہلت مانگی سو ان کے درمیان ایک شخص کو قتل کردیا گیا۔ آپ نے فرمایا: مسلمانوں پر اس کی دیت لازم ہوگی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 29882]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29882، ترقيم محمد عوامة 28609)