مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
44. في الرجل يقذف الرجل (فيقام) عليه الحد ثم يقذفه أيضا
اس آدمی کے بیان میں جو آدمی پر تہمت لگاتا ہے پس اس پر حد قائم کردی جاتی ہے پھر بھی وہ اس پر تہمت لگا تا ہے
ترقیم عوامۃ: 28952 ترقیم الشثری: -- 30251
٣٠٢٥١ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا عبدة عن سعيد عن قتادة عن الحسن قال: إذا قذف الرجل (الرجل) (١) اقيم عليه الحد، فإن (اعاد) (٢) عليه القذف فلا حد عليه إلا ان يحدث له (قذفا) (٣) آخر.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ط، هـ].
(٢) في [ط]: (عاد).
(٣) في [ط، هـ]: (قذف).
حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ حضرت حسن بصری نے ارشاد فرمایا: جب ایک شخص نے آدمی پر تہمت لگائی تو اس پر حدقذف قائم کردی جائے گی۔ پس اگر وہ دوبارہ اس پر تہمت لگائے تو اس پر حد قذف جاری نہیں ہوگی۔ مگر یہ کہ وہ ایک دوسری تہمت نئے سرے سے اس پر لگائے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 30251]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30251، ترقيم محمد عوامة 28952)
ترقیم عوامۃ: 28953 ترقیم الشثری: -- 30252
٣٠٢٥٢ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابن علية عن عيينة بن عبد الرحمن عن ابيه ان عمر لما امر بابي بكرة واصحابه فجلدوا، فعاد ابو بكرة فقال: زنى المغيرة فاراد عمر ⦗٣٩٥⦘ ان يجلده، فقال (علي: علام) (١) تجلده؟ وهل قال: إلا ما قد قال، فتركه (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب]: (له علي)، وفي [أ، ك، هـ]: (علي: على ما).
(٢) منقطع؛ عبد الرحمن لم يدرك عمر.
حضرت عبدالرحمن فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے جب حضرت ابو بکرہ اور ان کے ساتھیوں کے متعلق حکم دیا تو ان کو کوڑے مارے گئے پھر حضرت ابو بکرہ نے دوبارہ کہا: مغیرہ نے زنا کیا ہے۔ تو حضرت عمر نے ان کو کوڑے مارنے کا ارادہ کیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے آپ سے فرمایا: کس بات پر آپ اسے کوڑے ماریں گے؟ کیا انہوں نے جو کہنا تھا وہ کہہ نہیں چکے! تو آپ نے ان کو چھوڑ دیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 30252]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30252، ترقيم محمد عوامة 28953)
ترقیم عوامۃ: 28954 ترقیم الشثری: -- 30253
٣٠٢٥٣ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة عن حجاج عن فضيل عن إبراهيم في رجل قذف رجلا فجلد، ثم قذفه (ايضا، قال: لا يجلد) (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [هـ].
حضرت فضیل فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم سے ایسے شخص کے بارے میں مروی ہے جس نے ایک آدمی پر تہمت لگائی پس اسے کوڑے مارے گئے پھر بھی وہ اس پر تہمت لگاتا ہے۔ آپ نے فرمایا: اسے کوڑے نہیں مارے جائیں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 30253]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30253، ترقيم محمد عوامة 28954)