مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
156. في الرجل يقول للرجل: زنيت وأنت مشرك
اس آدمی کے بیان میں جو آدمی کو یوں کہے: تو نے زنا کیا تھا اس حال میں کہ تو مشرک تھا
ترقیم عوامۃ: 29552 ترقیم الشثری: -- 30887
٣٠٨٨٧ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا غندر عن شعبة عن الحكم في الرجل يقول للرجل: زنيت وانت مشرك؟ قال: لا (يحد) (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (يجلد).
حضرت حضرت شعبہ فرماتے ہیں کہ حضرت حکم سے اس آدمی کے بارے میں مروی ہے جو آدمی کو یوں کہہ دے: تو نے زنا کیا اس حال میں کہ تو مشرک تھا۔ آپ نے فرمایا: اس پر حد نہیں لگائی جائے گی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 30887]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30887، ترقيم محمد عوامة 29552)
ترقیم عوامۃ: 29553 ترقیم الشثری: -- 30888
٣٠٨٨٨ - [حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان انه قال: إذا قال: زنيت وانت مشرك، يقام عليه الحد] (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط الخبر من: [جـ].
حضرت وکیع فرماتے ہیں کہ حضرت سفیان نے ارشاد فرمایا: جب یوں کہے: تو نے زنا کیا تھا اس حال میں کہ تو مشرک تھا۔ تو اس پر حد قائم کی جائے گی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 30888]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30888، ترقيم محمد عوامة 29553)
ترقیم عوامۃ: 29554 ترقیم الشثری: -- 30889
٣٠٨٨٩ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا سهل بن يوسف عن عمرو عن الحسن في الكافر يزني فيقام عليه الحد، ثم يسلم، فيقذفه رجل ويقول: إنما عنيت زناه الذي كان في كفره، قال: يقام على قاذفه الحد.
حضرت عمرو فرماتے ہیں کہ حضرت حسن بصری سے اس کافر کے بارے میں مروی ہے جو زنا کرے اور اس پر حد قائم کردی جائے پھر وہ اسلام لے آئے، پھر کوئی آدمی اس پر تہمت لگائے اور یوں کہے: بیشک میں نے اس کا وہ زنا مراد لیا ہے جو اس نے کافر ہونے کی حالت میں کیا تھا۔ آپ نے فرمایا: اس پر تہمت لگانے والے پر حد قائم کی جائے گی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 30889]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30889، ترقيم محمد عوامة 29554)
ترقیم عوامۃ: 29555 ترقیم الشثری: -- 30890
٣٠٨٩٠ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا معن بن عيسى عن ابن ابي ذئب قال: سالت الزهري عن امراة زنت وهي يهودية او نصرانية او مجوسية، ثم اسلمت فقذفها رجل، فقال ابن شهاب: ليس على من قذفها حد، ولكن (ينكل) (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: بياض.
حضرت ابن ابی ذئب فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت زھری سے ایک عورت کے متعلق سوال کیا جس نے زنا کیا تھا درآنحالیکہ وہ یہودی یا عیسائی یا آتش پرست تھی پھر وہ اسلام لے آئی۔ سو کسی آدمی نے اس پر تہمت لگا دی تو اس کا کیا حکم ہے؟ تو حضرت ابن شہاب نے فرمایا اس عورت پر تہمت لگانے والے پر حد جاری نہیں ہوگی لیکن اسے عبرتناک سزا دی جائے گی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 30890]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30890، ترقيم محمد عوامة 29555)