مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
10. ما يدعو به الرجل إذا خرج من منزله؟
جب آدمی اپنے گھر سے نکلے تو کیا دعا کرے؟
ترقیم عوامۃ: 29810 ترقیم الشثری: -- 31161
٣١١٦١ - حدثنا (عبيدة) (١) بن حميد عن منصور عن الشعبي قال: (قالت) (٢) : ام سلمة: كان النبي ﷺ إذا خرج قال:"اللهم إني اعوذ بك (من) (٣) (ان) (٤) ازل او (ا) (٥) ضل او اظلم (او اظلم) (٦) ، او اجهل او يجهل علي" (٧) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ط]: (عبدة).
(٢) في [ط، ك]: (قلت).
(٣) سقط من: [جـ، ك].
(٤) في [ك]: (بان).
(٥) سقط من: [ط].
(٦) سقط من: [أ، ب، ط].
(٧) منقطع، الشعبي لم يسمع من أم سلمة، أخرجه أحمد (٢٦٦١٦)، وأبو داود (٥٥٩٤)، والترمذي (٣٤٢٧)، والنسائي ٨/ ٢٦٨، والحاكم ١/ ٥١٩، وابن ماجه (٣٨٨٤)، والحميدي (٣٠٣)، وابن السني (١٧٦)، وعبد بن حميد (١٥٣٦)، والطيالسي (١٦٠٧)، والقضاعي (١٤٦٩)، وأبو نعيم في الحلية ٨/ ١٢٥، والطبراني ٢٣/ (٧٢٧)، والبيهقي ٥/ ٢٥١، والخطيب ١١/ ١٤١.
حضرت ام سلمہ فرماتی ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر سے نکلتے تھے تو یوں دعا فرماتے: اے اللہ! میں آپ کی پناہ چاہتا ہوں اس بات سے کہ میں لغزش کروں یا میں گمرا ہ ہوں، یا میں کسی پر ظلم کروں یا مجھ پر کوئی ظلم کرے، یا میں کسی کو ناواقف رکھوں یا کوئی مجھے ناواقف بنائے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31161]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31161، ترقيم محمد عوامة 29810)
ترقیم عوامۃ: 29811 ترقیم الشثری: -- 31162
٣١١٦٢ - حدثنا وكيع عن سفيان عن منصور عن الشعبي عن ام سلمة عن النبي ﷺ بنحو منه (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) منقطع؛ الشعبي لم يسمع من أم سلمة، وانظر: ما قبله.
حضرت ام سلمہ سے اس سند کے ساتھ بی، ماقبل حدیث جیسا مضمون مروی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31162]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31162، ترقيم محمد عوامة 29811)
ترقیم عوامۃ: 29812 ترقیم الشثری: -- 31163
٣١١٦٣ - حدثنا وكيع عن فضيل بن مرزوق عن عطية عن ابي سعيد قال: من قال إذا خرج إلى الصلاة: اللهم إني اسالك بحق السائلين عليك، وبحق ممشاي هذا، لم (اخرجه) (١) اشرا ولا بطرا ولا رياء ولا سمعة، (خرجته) (٢) ابتغاء مرضاتك ⦗١٢٤⦘ واتقاء سخطك، اسالك ان تنقذني من النار وان تغفر لي ذنوبي، إنه لا يغفر الذنوب إلا انت، (إلا) (٣) اقبل الله عليه بوجهه حتى ينصرف ووكل به سبعون الف ملك يستغفرون له (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ح، ط، هـ]: (أخرج).
(٢) في [أ، جـ، ط، ك]: (خرجتهم)، وفي [هـ]: (خرجت).
(٣) سقط من: [هـ].
(٤) ضعيف؛ عطية بن سعد العوفي ضعيف، أخرجه مرفوعًا أحمد (١١١٥٦)، وابن ماجه (٧٧٨)، وابن السني (٨٤)، والطبراني في الدعاء (٤٢١)، وابن الجعد (٢٠٣٢)، وابن خزيمة في التوحيد (١٤)، والبيهقي في الدعوات (٦٥).
حضرت ابو سعید فرماتے ہیں کہ جب کوئی شخص نماز کے لیے جائے اور یہ دعا پڑھے: اے اللہ! میں آپ سے اس حق کے ساتھ سوال کرتا ہوں جو مانگنے والوں کا آپ پر ہے، اور اپنے اس چلنے کے حق کے ساتھ، میں نہیں نکلا غرور کرتے ہوئے اور نہ ہی اکڑ کر چلتے ہوئے، اور نہ ہی ریاکاری کے لیے، اور نہ ہی شہرت حاصل کرنے کے لیے، میں تو آپ کی رضا کی چاہت میں نکلا ہوں، اور آپ کی ناراضگی سے بچنے کے لیے، اور میں آپ سے سوال کرتاہوں کہ آپ مجھے جہنم سے بچا لیں اور آپ میرے گناہوں کی بخشش فرما دیجیے، یقینا آپ کے سوا کوئی بھی گناہوں کی بخشش کرنے والا نہیں ہے، تو اللہ تعالیٰ اپنے چہرے کے ساتھ اس بندے کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں یہاں تک کہ وہ لوٹ آئے، اور اللہ تعالیٰ ستر ہزار فرشتوں کی ذمہ داری لگا دیتے ہیں وہ اس شخص کے لیے استغفار کرتے رہتے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31163]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31163، ترقيم محمد عوامة 29812)
ترقیم عوامۃ: 29813 ترقیم الشثری: -- 31164
٣١١٦٤ - حدثنا ابن نمير عن الاعمش عن مجاهد عن ابن (ضمرة) (١) عن كعب قال: إذا خرج الرجل من منزله (استقبلته الشياطين) (٢) فإذا قال: بسم الله، قالت الملائكة، هديت، وإذا قال: توكلت على الله، قالت: كفيت، وإذا قال: لا حول ولا قوة إلا بالله، قالت: حفظت، فتقول الشياطين بعضها لبعض: ما سبيلكم على من كفي وهدي و (حفظ) (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (صمرة).
(٢) في [أ، ط، هـ]: (استقبله الشيطان).
(٣) في [ط]: (وحفظهم).
حضرت کعب فرماتے ہیں کہ جب آدمی اپنے گھر سے نکلتا ہے تو بہت سارے شیاطین اس کا استقبال کرتے ہیں، پس جب وہ کہتا ہے: میں اللہ کا نام لے کر گھر سے نکلا، فرشتے کہتے ہیں: تجھے ہدایت دی گئی، اور جب وہ آدمی کہتا ہے: میں اللہ پر بھروسہ کرتا ہوں، فرشتے کہتے ہیں: تیری کفایت کی گئی ہے، اور جب وہ آدمی کہتا ہے: گناہوں سے بچنے اور عبادت کرنے کی طاقت اللہ ہی کی طرف سے ہے، فرشتے کہتے ہیں: تیری حفاظت کی گئی ہے۔ پس پھر شیاطین ایک دوسرے سے کہتے ہیں: تم لوگ کیسے اس شخص پر سرکشی کرسکتے ہو جس کی کفایت کی گئی ہو، اور جس کو ہدایت دی گئی ہو، اور جس کی حفاظت کی گئی ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31164]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31164، ترقيم محمد عوامة 29813)
ترقیم عوامۃ: 29814 ترقیم الشثری: -- 31165
٣١١٦٥ - حدثنا غندر عن شعبة عن منصور عن مجاهد عن عبد الله بن ضمرة عن كعب الاحبار قال: إذا خرج من بيته فقال: بسم الله، توكلت على الله، (و) (١) (لا حول و) (٢) لا قوة إلا بالله، بلغت الشياطين بعضهم بعضا قالوا: هذا عبد قد هدي وحفظ وكفي فلا سبيل لكم عليه فيتصدعون عنه.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ب].
(٢) سقط من: [أ، ب، ط، هـ].
حضرت کعب احبار فرماتے ہیں کہ جب کوئی شخص اپنے گھر سے نکلتا ہے اور یہ کلمات کہتا ہے: میں اللہ کا نام لے کر گھر سے نکلا، اور میں نے اللہ پر ہی بھروسہ کیا، اور گناہوں سے بچنے اور نیکی کرنے کی طاقت اللہ ہی کی طرف سے ہے تو شیاطین ایک دوسرے سے ملتے ہیں اور کہتے ہیں: اس شخص کو ہدایت دی گئی ہے۔ اور اس کی حفاظت کی گئی ہے، اور اس کی کفایت کی گئی ہے، پس تمہیں اس پر کوئی تسلط حاصل نہیں ہے، پھر وہ اس بندے سے دور ہو کر بھاگ جاتے ہیں اور اس سے باز رہتے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31165]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31165، ترقيم محمد عوامة 29814)