مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
16. ما رخص للرجل يدعو به في سجوده؟
آدمی کو سجدے میں جن دعائوں کی رخصت دی گئی ہے
ترقیم عوامۃ: 29841 ترقیم الشثری: -- 31192
٣١١٩٢ - حدثنا ابو الاحوص عن سعيد بن مسروق عن سلمة بن كهيل عن ابي (رشدين) (١) كريب مولى ابن عباس قال: قال ابن عباس: بت عند خالتي ميمونة فسمعت النبي ﷺ يقول في سجوده:"اللهم اجعل في قلبي نورا، وفي سمعي نورا، واجعل في بصري نورا، واجعل امامي نورا، واجعل خلفي نورا، واجعل من تحتي نورا، واعظم لي نورا" (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (راشد بن)، وفي [ك]: (رشدين بن).
(٢) صحيح؛ أخرجه البخاري (٦٣١٦)، ومسلم (٧٦٣).
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں میں نے ایک رات اپنی خالہ ام المؤمنین حضرت میمونہ کے پاس گزاری، پس میں نے سنا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سجدے میں یہ دعا فرما رہے تھے: اے اللہ! میرے دل میں نور کو ڈال دے، اور میرے کان میں نور ڈال دے، اور میری آنکھوں میں نور ڈال دے، اور میرے آگے نور عطا فرما اور میرے پیچھے نور عطا فرما، اور میرے نیچے سے نور ہی نور کر دے اور مجھ کو نور عظیم عطا کر دے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31192]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31192، ترقيم محمد عوامة 29841)
ترقیم عوامۃ: 29842 ترقیم الشثری: -- 31193
٣١١٩٣ - حدثنا ابو اسامة عن مسعر عن عاصم عن زر بن حبيش عن علي قال: من احب الكلم إلى الله ان يقول العبد وهو ساجد: ظلمت نفسي فاغفر لي (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) ضعيف؛ عاصم سيء الحفظ في روايته عن زر.
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اللہ کے نزدیک محبوب ترین کلمہ یہ ہے: کہ اس کا بندہ سجدہ کی حالت میں یہ کلمات کہے: میں نے اپنی جان پر ظلم کیا ہے پس تو میری بخشش فرما۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31193]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31193، ترقيم محمد عوامة 29842)
ترقیم عوامۃ: 29843 ترقیم الشثری: -- 31194
٣١١٩٤ - حدثنا (عبيدة) (١) بن حميد عن (ثوير بن) (٢) ابي فاختة عن مجاهد قال: قال ابو سعيد الخدري: ما وضع رجل جبهته لله ساجدا فقال: يا رب اغفر لي ⦗١٣٤⦘ - يا رب اغفر لي يا رب اغفر لي ثلاثا، إلا رفع راسه وقد غفر له (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (عبدة).
(٢) في [هـ]: (أيوب عن)، وفي [ك]: (ثور).
(٣) ضعيف منقطع؛ ثور ضعيف، ومجاهد لم يسمع من أبي سعيد.
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ حضرت ابو سعید خدری نے ارشاد فرمایا: جب کوئی آدمی سجدے کی حالت میں اپنی پیشانی اللہ کے سامنے جھکاتا ہے پھر تین مرتبہ یہ کلمات کہتا ہے: اے میرے پالنے والے! میری بخشش کردیجیے۔ اے میرے پالنے والے! میری بخشش کردیجیے۔ اے میرے پالنے والے! میری بخشش کردیجیے۔ پھر جب سجدہ سے وہ اپنا سر اٹھاتا ہے تو اس کی مغفرت کردی جاتی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31194]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31194، ترقيم محمد عوامة 29843)
ترقیم عوامۃ: 29844 ترقیم الشثری: -- 31195
٣١١٩٥ - حدثنا ابو اسامة عن مسعر عن عاصم قال: كان ابو وائل يقول وهو ساجد: رب إن تعف عني تعف عن طول منك، وإن تعذبني تعذبني غير ظالم ولا مسبوق، ثم يبكي.
حضرت عاصم فرماتے ہیں: کہ حضرت ابو وائل سجدے کی حالت میں یوں دعا فرماتے تھے: اے میرے مالک! اگر آپ مجھے معاف کریں گے تو یہ معاف کرنا آپ کی مہربانی سے ہوگا اور اگر مجھے عذاب دیں گے تو عذاب دینے میں آپ نہ تو ظلم کرنے والے ہوں گے اور نہ ہی حد سے بڑھا ہوا عذاب دیں گے، پھر حضرت ابو وائل رونے لگتے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31195]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31195، ترقيم محمد عوامة 29844)
ترقیم عوامۃ: 29845 ترقیم الشثری: -- 31196
٣١١٩٦ - حدثنا ابن فضيل عن محمد بن (سعد) (١) الانصاري قال: (حدثنا) (٢) عبد الله بن (يزيد) (٣) بن ربيعة الدمشقي قال: قال ابو الدرداء: ادلجت ذات ليلة (إلى) (٤) المسجد، فلما دخلت مررت على رجل (وهو) (٥) ساجد وهو يقول: اللهم إني خائف مستجير فاجرني من عذابك، وسائل فقير فارزقني من فضلك، لا (بريء) (٦) (من ذنب) (٧) فاعتذر، ولا ذو قوة فانتصر، ولكن مذنب مستغفر، (قال) (٨) : فاصبح ابو الدرداء يعلمهن اصحابه (اعجابا) (٩) (بهن) (١٠) (١١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، ط، ك]: (سعيد).
(٢) في [ك]: (أخبرنا).
(٣) في [أ، ب، جـ، ط، ك]: (زيد).
(٤) في [أ، ب، ط]: (في).
(٥) سقط من: [هـ].
(٦) سقط من: [أ، جـ، ح، ز، ط، هـ].
(٧) في [هـ]: (مذنب)، وانظر: الأثر في كتاب الزهد ١٣/ ٣١٢ من المصنف.
(٨) سقط من: [أ، ب، جـ، ط، ك].
(٩) سقط من: [أ، ب، ط].
(١٠) في [جـ، ك]: (بها).
(١١) مجهول؛ لجهالة عبد اللَّه بن يزيد بن ربيعة، أخرجه أبو نعيم في الحلية ١/ ٢٢٤، وابن فضيل في الدعاء (٤٧).
حضرت عبد اللہ بن یزید دمشقی فرماتے ہیں کہ حضرت ابو الدرداء نے ارشاد فرمایا: میں ایک رات مسجد میں داخل ہوا، جب میں داخل ہوگیا تو میرا گزر ایک آدمی پر ہوا جو سجدے کی حالت میں یہ دعا کر رہا تھا: اے اللہ! میں ڈرنے والا، پناہ مانگنے والا ہوں پس آپ مجھے اپنے عذاب سے پناہ دیجیے، اور میں سوالی، بھیک مانگنے والا ہوں آپ اپنی مہربانی سے مجھے رزق عطا فرما دیجیے، اور میں گناہوں سے بری نہیں ہوں آپ میرا عذر قبول فرما لیجیے، اور نہ ہی میں طاقت والا ہوں آپ ظالموں سے میری حفاظت فرما دیجیے، لیکن میں گناہ کر کے معافی مانگنے والا ہوں پھر حضرت ابو الدرداء یہ دعا اپنے شاگردوں کو سکھلانا شروع کردی پسند آنے کی وجہ سے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31196]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31196، ترقيم محمد عوامة 29845)
ترقیم عوامۃ: 29846 ترقیم الشثری: -- 31197
٣١١٩٧ - حدثنا ابن فضيل عن عبد الرحمن بن إسحاق عن محارب بن دثار عن ابن عمر قال: إذا سجد احدكم فليقل: رب إني ظلمت نفسي فاغفر لي (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) ضعيف؛ لضعف عبد الرحمن بن إسحاق.
حضرت محارب بن دثار فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص سجدہ کیا کرے تو وہ یہ کلمات کہے: اے میرے رب! میں نے اپنی جان سے ظلم کیا ہے تو میری مغفرت فرما۔ حضرت محارب فرماتے ہیں: کیونکہ آدمی اس حالت میں اللہ کے سب سے زیادہ قریب ہوتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31197]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31197، ترقيم محمد عوامة 29846)
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 31198
٣١١٩٨ - قال محارب؛ فإنه اقرب ما يكون إلى الله ﷿.
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31198، ترقيم محمد عوامة ---)
ترقیم عوامۃ: 29847 ترقیم الشثری: -- 31199
٣١١٩٩ - حدثنا عبيدة بن حميد عن منصور عن إبراهيم عن عائشة قالت: طلبت رسول الله رشل ليلة فلم اجده قالت: فظننت انه اتى بعض جواريه او نسائه، قالت: فرايته وهو ساجد وهو يقول:"اللهم اغفر لي ما اسررت وما اعلنت" (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) منقطع؛ إبراهيم لم يسمع من عائشة، وأخرجه أحمد (٢٥١٤٠)، والنسائي ٢/ ٢٢٠، وإسحاق (١٦٠١)، والمروزي كما في مختصر قيام الليل ص ٧٩، والطيالسي (١٤١٢)، والحاكم ١/ ٢٢١.
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تلاش کیا تو میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نہ پاس کی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: مجھے گمان ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی کسی باندی یا بیوی کے پاس نہ چلے گئے ہوں، فرماتی ہیں کہ پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سجدے کی حالت میں پا لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعا پڑھ رہے تھے: اے اللہ! میری مغفرت فرما ان کاموں سے جو میں نے چھپ کر کیے ہوں یا اعلانیہ کیے ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31199]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31199، ترقيم محمد عوامة 29847)