مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
52. ما يدعى به في الاستسقاء
حالت استسقاء میں مانگی جانے والی دعاکا بیان
ترقیم عوامۃ: 30099 ترقیم الشثری: -- 31459
٣١٤٥٩ - حدثنا وكيع عن سفيان عن مطرف عن الشعبي ان عمر خرج يستسقي فصعد المنبر فقال: ﴿استغفروا ربكم إنه كان غفارا (١٠) يرسل السماء عليكم مدرارا (١١) ويمددكم باموال وبنين ويجعل لكم جنات ويجعل لكم انهارا﴾ [نوح: ١٠ - ١٢] ، واستغفروا ربكم إنه وإن غفارا ثم نزل، فقيل له: يا امير المؤمنين لو استسقيت (فقال) (١) : لقد طلبت (بمجاديح) (٢) السماء التي يستنزل بها القطر (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ب].
(٢) في [أ، ب، ط]: (بمخارج).
(٣) منقطع؛ الشعبي لم يسمع من عمر.
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت عمر پانی کی طلبی کی دعا کے لیے نکلے اور منبر پر چڑھ کر یہ آیات پڑھیں: معافی مانگو اپنے رب سے، یقینا وہ بہت زیادہ معاف فرمانے والا ہے، وہ برسائے گا تم پر آسمان سے موسلا دھار بارش اور نوازے گا تمہیں مال و اولاد سے اور پیدا کرے گا تمہارے لیے باغ اور جاری کر دے گا تمہارے لیے نہریں، اور معافی مانگو اپنے رب سے، پھر آپ منبر سے نیچے اتر آئے۔ پس آپ سے کہا گیا: اے امیر المؤمنین! اگر آپ بارش بھی مانگتے تو اچھا ہوتا، تو آپ نے فرمایا: البتہ تحقیق میں نے آسمان کے نچھتر کے ذریعہ پانی طلب کیا ہے جس کے ذریعہ پانی کے قطرے اتارے جاتے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31459]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31459، ترقيم محمد عوامة 30099)
ترقیم عوامۃ: 30100 ترقیم الشثری: -- 31460
٣١٤٦٠ - حدثنا وكيع عن عيسى بن حفص عن عطاء بن ابي مروان عن ابيه قال: خرجنا مع عمر بن الخطاب نستسقي فما زاد على الاستغفار (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) حسن؛ أبو مروان صدوق.
حضرت ابو مروان اپنے والد کے واسطہ سے فرماتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت عمر بن خطاب کے ساتھ پانی طلبی کی دعا کے لیے نکلے، تو انہوں نے استغفار پر زیادتی نہیں کی، (استغفار کے علاوہ کوئی دعا نہیں کی) [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31460]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31460، ترقيم محمد عوامة 30100)
ترقیم عوامۃ: 30101 ترقیم الشثری: -- 31461
٣١٤٦١ - حدثنا وكيع عن مسعر عن زيد العمي عن ابي الصديق الناجي ان سليمان بن داود خرج بالناس يستسقي فمر على نملة مستلقية على قفاها رافعة قوائمها إلى السماء، وهي تقول: اللهم إنا خلق من خلقك، ليس (بنا) (١) غنى عن رزقك فإما ان تسقينا، وإما ان تهلكنا، فقال سليمان للناس: ارجعوا فقد سقيتم بدعوة غيركم.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط، هـ]: (لنا).
حضرت ابو الصدیق الناجی فرماتے ہیں کہ حضرت سلیمان بن داؤد لوگوں کو پانی طلبی کی دعا کرنے کے لیے لے کر نکلے، پس ان کا گزر ایک چیونٹی پر ہوا جو الٹی ہو کر چت لیٹی ہوئی تھی، اور اپنی ٹانگیں آسمان کی طرف کی ہوئی تھیں اور یہ دعا مانگ رہی تھی: اے اللہ! ہم بھی آپ کی مخلوق میں سے ایک مخلوق ہیں، ہم تیرے رزق سے بالکل بےنیاز نہیں ہیں، یا تو آپ ہمیں سیراب فرما دیں یا آپ ہمیں ہلاک کردیں۔ تو حضرت سلیمان نے لوگوں سے فرمایا: تم لوگ واپس لوٹ جاؤ! تمہیں دوسروں کی دعا سے سیراب کردیا جائے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31461]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31461، ترقيم محمد عوامة 30101)