🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

53. ما يدعى (به) للمريض إذا دخل عليه
جب مریض پر داخل ہوا جائے تو یوں دعا پڑھی جائے
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30102 ترقیم الشثری: -- 31462
٣١٤٦٢ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن مسلم عن مسروق عن عائشة قالت: كان رسول الله ﷺ يعوذ بهذه الكلمات:"اذهب الباس، رب الناس، واشف انت الشافي لا شفاء، إلا شفاؤك، شفاء لا يغادر سقما"، قالت: فلما ثقل رسول الله ﷺ في مرضه الذي مات فيه اخذت بيده فجعلت (امسحها واقولها) (١) ، قالت: فنزع يده من يدي وقال:"اللهم الحقني (بالرفيق) (٢) "، قالت: فكان هذا ⦗٢٣٥⦘ آخر ما سمعت من كلامه (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ط]: (أمسحهما وأقولهما).
(٢) في [أ، ب، جـ، ط، ك]: (بالرفيع)، وفي [أ، ب]: (لعله الرفيق)، وكذلك حاشية [ط]، وتقدم في المصنف ٧/ ٤٠٣ برقم [٢٥١١٦] بلفظ: (بالرفيق)، وهو كذلك في مصادر التخريج.
(٣) صحيح؛ أخرجه ابن ماجه (١٦١٩) من طريق المؤلف، وأخرجه من طريق أبي معاوية أحمد (٢٤٢٢٨)، وابن سعد ٢/ ٢١٠، وأخرجه من طريق المؤلف بإسناد آخر البخاري (٥٧٤٣)، ومسلم (٢١٩١).

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کلمات کے ذریعہ تعویذ (دم) کرتے تھے۔ لوگوں کے رب تکلیف کو دور فرما۔ تو شفا دے اور تو ہی شفا دینے والا ہے، تیری شفا کے سوا کوئی شفا نہیں ہے ایسی شفا دے کہ کوئی بیماری باقی نہ رہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مرض بڑھ گیا جس مرض میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات ہوئی تھی تو میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہاتھ پکڑتی، پس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ کو ہی آپ کے جسم پر پھیرتی رہتی تھیں اور یہ دعا پڑھتی رہتی تھی: فرماتی ہیں: کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ میرے ہاتھ سے چھڑایا اور یہ دعا پڑھی: اے اللہ! تو مجھے معاف فرما۔ مجھے رفیق سے ملا دے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں! یہ آخری بات تھی جو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کلام سے سنی تھی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31462]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31462، ترقيم محمد عوامة 30102)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30103 ترقیم الشثری: -- 31463
٣١٤٦٣ - حدثنا جرير عن منصور عن ابي الضحى عن مسروق عن عائشة عن النبي ﷺ بمثل حديث ابي معاوية إلا انه لم يقل فلما ثقل (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرجه البخاري (٥٧٥٠)، ومسلم (٢١٩١).
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی ما قبل والی روایت اس سند کے ساتھ بھی مروی ہے مگر اس سند میں فلما ثقل کا لفظ نہیں ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31463]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31463، ترقيم محمد عوامة 30103)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30104 ترقیم الشثری: -- 31464
٣١٤٦٤ - حدثنا يحيى بن سعيد عن سفيان عن الاعمش عن ابي الضحى عن مسروق عن عائشة ان النبي ﷺ (كان) (١) يقول للمريض:"اذهب الباس رب الناس واشف انت الشافي لا شفاء إلا شفاؤك (شفاء) (٢) لا يغادر سقما" (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ط، هـ].
(٢) سقط من: [أ، ب، جـ، ط، ك].
(٣) صحيح؛ أخرجه مسلم (٢١٩١)، وأحمد (٢٤٨٣٨)، وأصله عند البخاري (٥٧٥٠).

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ یقینا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مریض کے لیے یوں دعا فرمایا کرتے تھے۔ لوگوں کے رب! تکلیف کو دور فرما۔ تو شفا دے تو ہی شفا دینے والا ہے، تیری شفاء کے علاوہ کوئی شفاء نہیں ہے، ایسی شفا دے کہ کوئی بیماری باقی نہ رہے۔ حضرت سفیان فرماتے ہیں کہ میں نے یہ حدیث حضرت منصور کے سامنے ذکر کی تو انہوں نے یہ حدیث مذکورہ سند سے بھی بیان کی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31464]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31464، ترقيم محمد عوامة 30104)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 31465
٣١٤٦٥ - قال سفيان: فذكرته لمنصور فحدثني عن إبراهيم عن مسروق عن عائشة عن النبي ﷺ بمثله (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرجه البخاري (٥٧٥٠)، ومسلم (٢١٩١).
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31465، ترقيم محمد عوامة ---)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30105 ترقیم الشثری: -- 31466
٣١٤٦٦ - حدثنا ابو الاحوص عن ابي إسحاق عن الحارث عن علي قال: كان رسول الله ﷺ إذا دخل على مريض قال:"اذهب الباس، رب الناس، واشف انت الشافي لا شافي إلا انت" (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) ضعيف؛ لضعف الحارث، أخرجه أحمد (٥٦٥)، والترمذي (٣٥٦٥)، والبزار (٨٤٧)، وعبد بن حميد (٦٦)، والطبراني في الدعاء في المرض (٥٢)، وابن أبي الدنيا (٣١٢٣٤).
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کسی مریض پر داخل ہوتے تو یوں دعا پڑھتے: لوگوں کے رب! تکلیف کو دور فرما۔ تو شفا دے تو ہی شفا دینے والا ہے، تیرے سوا کوئی شفا دینے والا نہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31466]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31466، ترقيم محمد عوامة 30105)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30106 ترقیم الشثری: -- 31467
٣١٤٦٧ - حدثنا سفيان بن عيينة عن عبد ربه عن (عمرة) (١) عن عائشة ان رسول الله ﷺ كان مما يقول (للمريض) (٢) ببزاقه باصبعه:"بسم الله: (تربة) (٣) ارضنا بريقة بعضنا يشفى سقيمنا بإذن ربنا" (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (عمرو).
(٢) في [جـ، ك]: (للمرضى).
(٣) في [ك]: (بتربة).
(٤) صحيح؛ أخرجه البخاري (٥٧٤٦)، ومسلم (٢١٩٤).

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے لعاب مبارک کو انگلی پر لگا کر مریض کے لیے یوں دعا کرتے تھے: اللہ کے نام کے ساتھ، ہماری زمین کی مٹی اور ہم میں بعض کے لعاب کے ذریعہ ہمارے مریض کو شفا دی جائے ہمارے رب کی اجازت سے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31467]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31467، ترقيم محمد عوامة 30106)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30107 ترقیم الشثری: -- 31468
٣١٤٦٨ - حدثنا وكيع عن سفيان عن عاصم بن عبيد الله عن زياد بن (ثويب) (١) عن ابي هريرة قال: دخل علي رسول الله ﷺ وانا اشتكي فقال:"الا ارقيك برقية علمنيها جبريل: بسم الله ارقيك، والله يشفيك، من كل ارب يؤذيك، ومن شر النفاثات في العقد، ومن شر حاسد إذا حسد" (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (لويب).
(٢) مجهول؛ لجهالة زياد بن ثويب، أخرجه أحمد (٩٧٥٧)، وابن ماجه (٣٥٢٤)، والنسائي في الكبرى (١٠٨٤١)، والحاكم ٢/ ٥٤١، والطبراني في الدعاء (١٠٩٦)، والمزي ٩/ ٤٣٨، وذكره البخاري في التاريخ ٣/ ٣٤٦.

حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھ پر داخل ہوئے اس حال میں کہ میں تکلیف میں تھا۔ پھر فرمانے لگے: کیا میں تمہیں دم نہ کروں جو دم مجھے حضرت جبرائیل نے سکھایا ہے! اللہ کے نام کے ساتھ میں تجھے دم کرتا ہوں اور اللہ ہی تجھے شفا دے ہر اس عضو سے جو تجھے تکلیف دے اور گرہوں میں پھونکنے والیوں کے شر سے، اور حسد کرنے والے کے شر سے جب وہ حسد کرے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31468]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31468، ترقيم محمد عوامة 30107)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30108 ترقیم الشثری: -- 31469
٣١٤٦٩ - حدثنا عبد الرحيم بن (سليمان) (١) عن حجاج عن المنهال بن عمرو عن عبد الله بن الحارث عن ابن عباس ان رسول الله ﷺ قال:"من دخل على مريض لم تحضر وفاته فقال: اسال الله رب العرش العظيم ان يشفيك سبع مرات شفي" (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (سلمان).
(٢) منقطع حكمًا؛ حجاج مدلس، أخرجه أحمد (٢١٣٨)، وعبد بن حميد (٧١٨)، والبخاري في الأدب المفرد (٥٣٦)، والنسائي في عمل اليوم والليلة (١٠٤٤)، وابن حبان (٢٩٧٥)، والحاكم ٤/ ٢١٣، والطبراني في الدعاء (١١١٤).

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص کسی ایسے مریض کے پاس جائے جس کی موت قریب نہ ہو تو وہ سات مرتبہ یہ کلمات پڑھ لے: مں فاللہ سے سوال کرتا ہوں جو عظمت والا ہے، عرش عظیم کا رب ہے کہ وہ تجھے شفا دے، تو اس مریض کو شفا دی جائے گی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31469]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31469، ترقيم محمد عوامة 30108)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30109 ترقیم الشثری: -- 31470
٣١٤٧٠ - (١) حدثنا زيد بن الحباب عن عبد الرحمن بن ثوبان قال: اخبرني عمير ابن هانئ قال: سمعت جنادة بن ابي امية يقول: سمعت عبادة بن الصامت يحدث عن رسول الله ﷺ ان جبريل رقاه وهو يوعك فقال:"بسم الله ارقيك، من كل داء يؤذيك، من كل حاسد إذا حسد، ومن كل عين، واسم الله يشفيك" (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ك]: زيادة (حدثنا أبو بكر قال).
(٢) ضعيف؛ لضعف عبد الرحمن بن ثوبان، أخرجه أحمد (٢٢٧٦٠)، وابن ماجه (٣٥٢٧)، وابن حبان (٩٥٣)، والنسائي في عمل اليوم والليلة (١٠٠٤)، وعبد بن حميد (١٨٧)، والبزار (٢٦٨٤)، والشاشي (١٢٢٠)، والطبراني في الدعاء (١٠٨٩).

حضرت عبادہ بن الصامت، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوالہ سے بیان فرماتے ہیں: جبرائیل نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دم کیا اس حال میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سخت بخار میں مبتلا تھے، پس یہ کلمات پڑھے! اللہ کے نام کے ساتھ میں آپ کو دم کرتا ہوں، ہر اس بیماری سے جو آپ کو تکلیف پہنچائے، ہر حسد کرنے والے سے جب وہ حسد کرے اور ہر (بُری) آنکھ سے، اور اللہ کا نام ہی آپ کو شفا دے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31470]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31470، ترقيم محمد عوامة 30109)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30110 ترقیم الشثری: -- 31471
٣١٤٧١ - حدثنا محمد بن بشر العبدي حدثنا زكريا بن ابي زائدة حدثنا سماك عن محمد بن حاطب قال: تناولت قدرا لنا فاحترقت يدي فانطلقت (بي امي) (١) إلى رجل جالس في (الجبانة) (٢) فقالت له: يا رسول الله، فقال:" (لبيك) (٣) وسعديك"، ثم ادنتني منه فجعل ينفث ويتكلم لا ادري ما هو، فسالت امي بعد ذلك ما كان يقول: قالت: كان يقول:"اذهب الباس رب الناس واشف انت الشافي لا شافي إلا انت" (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ]: (بأمي).
(٢) في [ك]: (الجناة).
(٣) في [ك]: (بسك).
(٤) حسن؛ سماك صدوق، أخرجه أحمد (١٨٢٧٦)، والنسائي في الكبرى (١٠٨٦٤)، وابن حبان (٢٩٧٦)، والطيالسي (١١٩٤)، والطبراني ١٩/ (٥٤٠)، والبيهقي في الدلائل ٦/ ١٧٤، والبخاري في التاريخ الكبير ١/ ١٧، والحاكم ٤/ ٦٢.

حضرت محمد بن حاطب فرماتے ہیں کہ میں نے گرم ہانڈی پکڑ لی تو میرا ہاتھ جل گیا، پھر میری والدہ مجھے ایک آدمی کے پاس لے گئیں جو بلند جگہ میں بیٹھا تھا، میری والدہ نے ان کو کہا: اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! تو انہوں نے فرمایا: تم خوش بخت و خوش نصیب رہو فرماؤ پھر میری والدہ نے مجھے ان کے قریب کردیا، پس وہ پھونک مارتے تھے اور کچھ بولتے تھے، میں نہیں جان پا رہا تھا کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں، پھر بعد میں میں نے اپنی والدہ سے پوچھا کہ وہ کیا پڑھ رہے تھے؟ والدہ نے فرمایا: وہ یہ کلمات پڑھ رہے تھے: لوگوں کے رب! تکلیف کو دور فرما۔ تو شفا دے اور تو ہی شفا دینے والا ہے۔ تیرے سوا کوئی شفا دینے والا نہیں ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31471]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31471، ترقيم محمد عوامة 30110)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں