مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
60. ما يقول الرجل إذا تطيره
جب آدمی کوئی بُرا شگون لے تو یہ کلمات کہے
ترقیم عوامۃ: 30157 ترقیم الشثری: -- 31519
٣١٥١٩ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن حبيب عن عروة بن عامر قال: سئل رسول الله ﷺ عن الطيرة فقال:"اصدقها الفال ولا ترد مسلما، فإذا رايتم من الطيرة شيئا تكرهونه فقولوا: اللهم لا ياتي بالحسنات إلا انت، ولا يذهب بالسيئات إلا انت، ولا حول ولا قوة إلا بالله" (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) مرسل، عروة تابعي، والحديث أخرجه أبو داود (٣٩١٩)، وابن السني في عمل اليوم والليلة (٢٩٣)، وابن قانع ٢/ ٢٦٢، والبيهقي ٨/ ١٣٩، وفي الدعوات (٥٠٠)، والخطيب في تالي تلخيص المتشابه (٧٦)، وعبد الرزاق (١٩٥١٢).
حضرت عروہ بن عامر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا گیا بد شگونی کے بارے میں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس میں سب سے سچی بات نیک فال ہے۔ وہ کسی مسلمان کو رد نہیں کرتی، پس جب تم کسی چیز سے بد شگونی لو جو تمہیں ناپسند ہو تو یہ کلمات پڑھ لیا کرو: اے اللہ! تیرے سوا کوئی اچھائی نہیں لاسکتا، اور تیرے سوا کوئی برائی بھی نہیں لاسکتا اور گناہوں سے بچنے کی طاقت اور نیکی کے کرنے کی قوت صرف اللہ کی مدد سے ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31519]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31519، ترقيم محمد عوامة 30157)
ترقیم عوامۃ: 30158 ترقیم الشثری: -- 31520
٣١٥٢٠ - حدثنا وكيع قال: حدثنا (سفيان) (١) عن حبيب عن عروة بن عامر قال: سئل رسول الله ﷺ عن الطيرة ثم ذكر مثل حديث ابي معاوية إلا انه قال:"ولا حول ولا قوة إلا بك" (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في النسخ: (الأعمش)، وتقدم الخبر ٩/ ٣٩ برقم [٢٨٠٨٣]، كما ورد في الأدب للمؤلف (١٦٢)، وفيها: (سفيان).
(٢) مرسل؛ عروة تابعي، أخرجه أبو داود (٣٩١٩)، وابن الأثير في أسد الغابة ٤/ ٣١.
حضرت عروہ بن عامر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بد شگونی کے متعلق سوال کیا گیا۔ پھر راوی نے ابو معاویہ کی طرح ہی حدیث کو ذکر کیا مگر یہ کلمات ذکر کیے، گناہوں سے بچنے کی طاقت اور نیکی کرنے کی قوت صرف اللہ کی مدد سے ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31520]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31520، ترقيم محمد عوامة 30158)
ترقیم عوامۃ: 30159 ترقیم الشثری: -- 31521
٣١٥٢١ - حدثنا وكيع عن اسامة بن زيد عن نافع بن جبير قال: قال: كعب لعبد الله بن (عمرو) (١) : هل تطير؟ قال: نعم قال: فما تقول؟ قال: اقول: اللهم لا طير إلا طيرك، ولا خير إلا خيرك، ولا رب غيرك، قال: انت افقه العرب (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (عمر).
(٢) صحيح.
حضرت نافع بن جبیر فرماتے ہیں کہ حضرت کعب نے حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ کیا تم بد شگونی لیتے ہو؟ انہوں نے فرمایا: جی ہاں! انہوں نے پوچھا: تم کیا دعا پڑھتے ہو؟ ابن عمر رضی اللہ عنہما و نے فرمایا: اے اللہ! کوئی بد شگونی نہیں مگر تیری طرف سے اور کوئی بھلائی نہیں ہے مگر تیری طرف سے اور تیرے علاوہ کوئی پالنے والا نہیں ہے، تو حضرت کعب نے فرمایا: آپ تو عرب کے سب سے بڑے فقیہ ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31521]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31521، ترقيم محمد عوامة 30159)