مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
65. في مسألة العبد لربه وأنه لا يخيبه
بندے کا اپنے رب سے سوال کرنے کا بیان وہ اسے نامراد نہیں کرتا
ترقیم عوامۃ: 30171 ترقیم الشثری: -- 31533
٣١٥٣٣ - حدثنا معاذ بن معاذ عن التيمي عن ابي عثمان عن سلمان قال: إن ⦗٢٦٥⦘ الله يستحيي ان يبسط إليه عبده يديه يساله بهما خيرا فيردهما خائبتين (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرجه أحمد (٢٣٧٦٥)، وفي الزهد ص ١٥١، والحاكم ١/ ٦٧٥، والخطيب في تاريخ بغداد ٧/ ٤٣٢، وقد ورد مرفوعًا، أخرجه أبو داود (١٤٨٨)، والترمذي (٣٥٥٦)، وابن ماجه (٣٨٦٥)، وابن حبان (٨٧٦).
حضرت ابو عثمان فرماتے ہیں کہ حضرت سلمان نے ارشاد فرمایا: یقینا اللہ شرم کرتے ہیں اس بات سے کہ اس کا بندہ اس کی طرف ہاتھ پھیلائے۔ اور وہ ان ہاتھوں کے ساتھ بھلائی کا سوال کرے پھر اس کا رب ان کو نامراد لوٹا دے!۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31533]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31533، ترقيم محمد عوامة 30171)
ترقیم عوامۃ: 30172 ترقیم الشثری: -- 31534
٣١٥٣٤ - حدثنا جرير عن منصور عن ابي إسحاق عن (الاغر) (١) ابي مسلم يشهد (به) (٢) على ابي هريرة وابي سعيد الخدري (قالا) (٣) : قال رسول الله ﷺ:"إن الله يمهل حتى يذهب ثلث (الليل) (٤) ثم ينزل إلى (السماء) (٥) الدنيا فيقول: هل من مستغفر؟ هل من تائب؟ هل من داع؟ هل من سائل؟ حتى ينفجر الفجر" (٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط، ك]: (الأعرابي).
(٢) سقط من: [أ، ط، هـ].
(٣) في [أ، ح، ط، هـ]: (قال).
(٤) سقط من: [جـ].
(٥) في [ط، هـ]: (سماء).
(٦) صحيح؛ أخرجه مسلم (٧٥٨)، وأحمد (١١٨٩٢)، وبنحوه من حديث أبي هريرة عند البخاري (١١٤٥).
حضرت ابوہریرہ اور حضرت ابو سعید خدری فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یقینا اللہ مہلت دیتے ہیں یہاں تک کہ رات کا تہائی حصہ گزر جاتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر نازل ہوتے ہیں، اور یوں فرماتے ہیں: ہے کوئی مغفرت چاہنے والا؟ ہے کوئی توبہ کرنے والا؟ ہے کوئی دعا کرنے والا؟ ہے کوئی مانگنے والا؟ یہاں تک کہ فجر طلوع ہوجاتی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31534]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31534، ترقيم محمد عوامة 30172)
ترقیم عوامۃ: 30173 ترقیم الشثری: -- 31535
٣١٥٣٥ - حدثنا عبد الرحمن بن محمد المحاربي عن ليث عن شهر عن عبد الرحمن بن (غنم) (١) عن ابي ذر قال: قال رسول الله ﷺ:"يقول الله: يا عبادي كلكم مذنب إلا من عافيته، فاستغفروني اغفر لكم، ومن علم اني ذو قدرة على ان اغفر له غفرت له ولا ابالي، يا عبادي كلكم ضال إلا من هديته ⦗٢٦٦⦘ فاستهدوني اهدكم، يا عبادي كلكم فقير إلا من (اغنيته) (٢) (فاسالوني) (٣) اعطكم" (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ك]: (نعم).
(٢) في [ك]: (أغنيت).
(٣) في [ك]: (فسلوني).
(٤) ضعيف؛ ليث ضعيف، أخرجه أحمد (٢١٤٠٥)، والترمذي (٢٤٩٥)، والبزار (٤٠٥١)، وابن فضيل في الدعاء (١٣٠)، وهناد في الزهد (٩٠٥)، وبنحوه أخرجه مسلم (٢٥٧٧)، وابن ماجه (٤٢٥٧).
حضرت ابوذر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ فرماتے ہیں! اے میرے بندو! تم سب گناہ گار ہو مگر وہ جس کو میں نے عافیت بخشی۔ پس تم مجھ سے مغفرت مانگو میں تمہاری مغفرت کر دوں گا۔ اور جو شخص جان لے کہ میں قدرت والا ہوں کہ میں اس کی مغفرت کرسکتا ہوں تو میں اس کی مغفرت کر دوں گا اور مجھے کوئی پروا نہیں ہوگی۔ اے میرے بندو! تم سب گمراہ ہو مگر جس کو میں نے ہدایت دی۔ پس تم مجھے سے ہدایت مانگو میں تمہیں ہدایت دوں گا۔ اے میرے بندو! تم سب فقیر ہو مگر جس کو میں نے غنی کیا۔ پس تم مجھ سے مانگو میں تمہیں عطا کروں گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31535]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31535، ترقيم محمد عوامة 30173)