مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
15. من كره أن يتأكل بالقرآن
جو شخص نا پسند کرتا ہے کہ قرآن کے ذریعے سے کھائے
ترقیم عوامۃ: 30621 ترقیم الشثری: -- 31993
٣١٩٩٣ - حدثنا وكيع عن سفيان عن واقد عن (زاذان) (١) قال: من قرا القرآن ليتاكل به الناس لقي الله وليس على وجهه مزعة لحم.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (زاذار).
حضرت واقد فرماتے ہیں کہ حضرت زاذان نے ارشاد فرمایا؛ جو شخص قرآن پڑھے تاکہ اس کی وجہ سے لوگوں سے کھائے قیامت کے دن وہ اللہ سے ایسی حالت میں ملے گا کہ اس کے چہرے پر گوشت کا ٹکڑا بھی نہیں ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 31993]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31993، ترقيم محمد عوامة 30621)
ترقیم عوامۃ: 30622 ترقیم الشثری: -- 31994
٣١٩٩٤ - حدثنا وكيع عن يزيد بن إبراهيم عن الحسن قال: قال عمر: اقراوا القرآن وسلوا الله به، قبل ان (يقراه) (١) قوم (يسالون) (٢) الناس به (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (يقرأ).
(٢) في [ك]: (يسلون).
(٣) منقطع؛ الحسن لم يسمع من عمر.
حضرت حسن فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے ارشاد فرمایا: قرآن پڑھو اور اس کے ذریعہ اللہ سے سوال کرو قبل اس کہ کچھ لوگ قرآن پڑھیں گے اور اس کے ذریعہ لوگوں سے سوال کریں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 31994]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31994، ترقيم محمد عوامة 30622)
ترقیم عوامۃ: 30623 ترقیم الشثری: -- 31995
٣١٩٩٥ - حدثنا إسماعيل بن علية عن الجريري عن ابي نضرة عن ابي فراس قال: قال عمر: قد اتى علي زمان وانا احسب من قرا القرآن يريد به (١) الله، فقد ⦗٤١٣⦘ خيل لي الآن باخرة اني ارى قوما قد قراوه يريدون به الناس، فاريدوا الله بقراءتكم، واريدوا الله باعمالكم (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ح، هـ]: زيادة (وجه)، وفي [ط]: (وجهه)
(٢) مجهول؛ لجهالة أبي فراس، أخرجه أحمد (٢٨٦)، والحاكم ٤/ ٤٨٥، والضياء (١١٦)، وأبو يعلى (١٩٦)، والبيهقي ٩/ ٤٢، والمزي ٣٤/ ١٨٤، وابن عساكر ٤٤/ ٢٧٨.
حضرت ابو فراس فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے ارشاد فرمایا: مجھ پر ایک زمانہ گزرا ہے کہ میں نے گمان کیا کہ ایک شخص نے قرآن پڑھا اللہ کی رضا مندی کے لیے تحقیق مجھے ابھی خیال آیا اخیر میں میں نے کچھ لوگوں کو دیکھا جنہوں نے قرآن پڑھا اور اس کے ذریعہ لوگوں کا ارادہ کیا۔ پس تم لوگ اپنے پڑھنے کے ذریعہ اللہ کو راضی کرو۔ اور اپنے اعمال کے ذریعے اللہ کو راضی کرو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 31995]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31995، ترقيم محمد عوامة 30623)
ترقیم عوامۃ: 30624 ترقیم الشثری: -- 31996
٣١٩٩٦ - حدثنا الزبيري محمد بن عبد الله عن سفيان عن الاعمش عن خيثمة عن الحسن عن عمران بن حصين قال: سمعت رسول الله ﷺ يقول:"من قرا القرآن فليسال الله به فإنه سيجئ قوم يقراون القرآن يسالون الناس به" (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) ضعيف منقطع؛ الحسن لم يسمع من عمران، وخيثمة ضعيف، أخرجه أحمد (١٩٩٤٤)، والترمذي (٢٩١٧)، والطبراني ١٨/ (٣٧٤)، والبيهقي في شعب الإيمان (٢٦٢٨)، والآجري في أخلاق أهل القرآن (٤١)، والبغوي (١١٨٣)، وسعيد بن منصور ١/ ١٨٧، (ت: الحميد) والبزار (٣٥٥٣)، والعقيلي ٢/ ٢٩.
حضرت عمران بن حصین فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یوں فرماتے ہوئے سنا ہے: جو شخص قرآن پڑھے تو اس کو چاہیے کہ وہ اس کے ذریعہ اللہ سے مانگے۔ عنقریب کچھ ایسے لوگ آئیں گے جو قرآن پڑھیں گے اور اس کے ذریعہ لوگوں سے سوال کریں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 31996]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31996، ترقيم محمد عوامة 30624)
ترقیم عوامۃ: 30625 ترقیم الشثری: -- 31997
٣١٩٩٧ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن هشام عن الحسن قال: قال عمر: اقراوا القرآن واطلبوا به ما (عند الله) (١) قبل ان يقراه اقوام يطلبون به ما عند الناس (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، ط، هـ]: (عنده).
(٢) منقطع؛ الحسن لا يروي عن عمر.
حضرت حسن فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے ارشاد فرمایا: قرآن پڑھو اور اس کے ذریعہ وہ چیز طلب کرو جو اللہ کے پاس ہے، قبل اس کہ کچھ لوگ قرآن کی تلاوت کریں گے اور اس کے ذریعہ وہ چیز طلب کریں گے جو لوگوں کے پاس ہوگی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 31997]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31997، ترقيم محمد عوامة 30625)
ترقیم عوامۃ: 30626 ترقیم الشثری: -- 31998
٣١٩٩٨ - حدثنا وكيع عن سفيان عن محمد بن المنكدر قال: قال رسول الله ﷺ:"اقراوا القرآن وسلوا الله به فإنه سيقراه اقوام يقيمونه إقامة القدح يتعجلونه ولا يتاجلونه" (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) مرسل؛ محمد بن المنكدر تابعي، أخرجه عبد الرزاق (٦٠٣٤)، والبيهقي في شعب الإيمان (٢٦٤١)، وأخرجه متصلًا من حديث جابر كل من أحمد (١٤٨٥٥)، وأبو داود (٨٣٠)، والبغوي (٦٠٩)، والبيهقي في الشعب (٢٦٤٢)، وأبو يعلى (٢١٩٧).
حضرت محمد بن منکدر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قرآن کی تلاوت کرو اور اس کے ذریعہ اللہ سے مانگو اس لیے کہ عنقریب کچھ لوگ اس کی تلاوت کریں گے جو اس کے حروف کو جوئے کے تیر کی طرح سیدھا کرکے پڑھیں گے وہ جلدی کریں گے اور مہلت نہیں دیں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 31998]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31998، ترقيم محمد عوامة 30626)
ترقیم عوامۃ: 30627 ترقیم الشثری: -- 31999
٣١٩٩٩ - حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا عبد الله بن الوليد قال: اخبرني عمر ابن ايوب قال: اخبرني ابو إياس معاوية بن قرة قال: كنت نازلا على عمرو بن النعمان بن مقرن، فلما حضر رمضان جاءه رجل بالفي درهم من قبل مصعب بن الزبير فقال: إن الامير يقرئك السلام (ويقول) (١) : إنا (لم) (٢) ندع قارئا شريفا إلا وقد وصل إليه منا معروف فاستعن (بهذين) (٣) على نفقة شهرك هذا، فقال (عمرو) (٤) : اقرا على الامير السلام وقيل له: (إنا) (٥) والله ما قرانا القرآن نريد به الدنيا، (ورده) (٦) عليه.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب، ط].
(٢) في [أ، ب، ط، هـ]: (لن).
(٣) في [ك]: (بهاتين).
(٤) في [جـ، ك]: (عمر).
(٥) سقط من: [هـ].
(٦) في [أ، ط، هـ]: (ورد).
حضرت ابو ایاس معاویہ بن قرہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عمرو بن نعمان بن مقرن کے ہاں مہمان تھا، پس جب رمضان کا مہینہ آیا تو حضرت مصعب بن زبیر کی طرف سے ایک آدمی دو ہزار درہم لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا: بیشک امیر نے آپ کو سلام کہا ہے اور فرمایا ہے: یقینا ہم نے کسی بھی نیک پڑھنے والے کو نہیں چھوڑا مگر یہ کہ اس کو ہماری طرف سے کچھ مال مل گیا۔ پس آپ ان روپوں کو اس مہینہ کے خرچ میں استعمال کیجئے۔ تو حضرت عمرو نے فرمایا: امیر کو سلام کہیے گا اور ان سے کہنا: بیشک اللہ کی قسم ہم قرآن کو دنیا کی غرض سے نہیں پڑھتے۔ اور آپ نے یہ ہدیہ واپس بھیج دیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 31999]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31999، ترقيم محمد عوامة 30627)