🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

16. في التمسك بالقرآن
قرآن کو مضبوطی سے تھامنے کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30628 ترقیم الشثری: -- 32000
٣٢٠٠٠ - حدثنا ابو خالد الاحمر عن عبد الحميد بن جعفر عن سعيد بن ابي سعيد عن ابي شريح الخزاعي قال: خرج علينا رسول الله ﷺ فقال:" (ابشروا) (١) ابشروا، اليس تشهدون ان لا إله إلا الله واني رسول الله؟" قالوا: نعم قال:"فإن هذا القرآن سبب (طرفه) (٢) بيد الله، (وطرفه) (٣) بايديكم، فتمسكوا به، فإنكم لن ⦗٤١٥⦘ تضلوا ولن تهلكوا بعده ابدا" (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ب]، وفي [ط]: (أبشرو وبشروا).
(٢) في [جـ]: (طرقه).
(٣) في [جـ]: (طرقه).
(٤) حسن؛ أبو خالد صدوق، أخرجه ابن حبان (١٢٢)، وعبد بن حميد (٤٨٣)، وابن أبي عاصم في الآحاد (٢٣٠٢)، والطبراني ٢٢/ (٤٩١)، وابن نصر كما في مختصر قيام الليل ص ٧٨، والخطيب في الفقيه والمتفقه ١/ ١٩٥، والبيهقي في شعب الإيمان (١٩٤٢).

حضرت ابو شریح الخزاعی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: خوشخبری سنو، خوشخبری سنو، کیا تم لوگ گواہی نہیں دیتے اس بات کی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں؟ صحابہ نے عرض کیا: جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یقینا یہ قرآن رسی ہے۔ جس کا ایک سرا اللہ کے ہاتھ میں ہے اور ایک سرا تمہارے ہاتھوں میں ہے، پس تم اس کو مضبوطی سے تھام لو۔ بیشک تم اس کے بعد ہرگز نہ گمراہ ہو گے اور نہ ہی کبھی ہلاک ہو گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 32000]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32000، ترقيم محمد عوامة 30628)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30629 ترقیم الشثری: -- 32001
٣٢٠٠١ - حدثنا حسين بن علي عن حمزة الزيات عن ابي المختار (الطائي) (١) عن ابن اخي الحارث الاعور عن الحارث عن علي قال: سمعت رسول الله ﷺ يقول:"كتاب الله (فيه) (٢) خبر ما قبلكم ونبا ما بعدكم وحكم ما بينكم، هو الفصل ليس بالهزل، هو الذي لا تزيغ به الاهواء، ولا (يشبع) (٣) منه العلماء، ولا يخلق عن كثرة رد، ولا تنقضي عجائبه، هو الذي من تركه من جبار قصمه الله، ومن ابتغى الهدى في غيره اضله الله، هو حبل الله المتين وهو الذكر الحكيم، وهو الصراط المستقيم، هو الذي من عمل به اجر، ومن حكم به عدل، ومن دعا إليه (دعا) (٤) إلى صراط مستقيم، خذها إليك يا اعور" (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، ط، ك]: (الصابي).
(٢) سقط من: [أ، جـ، ح، ط، ك].
(٣) في [أ، ب، ط]: (تشبع).
(٤) في [هـ]: (هدى).
(٥) مجهول، أخرجه أحمد (٧٠٤)، والترمذي (٢٩٠٦)، والبزار (٨٣٤)، وأبو يعلى (٣٦٧)، والدارمي (٣٣٣١)، والمزي ٣٤/ ٢٦٧، والخطيب في الفقيه والمتفقه ١/ ١٩٣، والسمرقندي في التفسير ٣/ ٢١٨، والبيهقي في شعب الإيمان (١٩٣٥).

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یوں فرماتے ہوئے سنا ہے کہ! کتاب اللہ میں تم سے پہلے لوگوں کی باتیں ہیں اور تم سے بعد والے لوگوں کی خبریں ہیں، اور تمہارے درمیان والے لوگوں کے لیے احکام ہیں۔ یہ حق و باطل کے درمیان فیصلہ ہے کوئی مذاق کی بات نہیں۔ اس کی وجہ سے نفس ٹیڑھا نہیں ہوتا۔ اور علماء کبھی اس سے سیر نہیں ہوسکتے اور بار بار پڑھے جانے سے یہ پرانا نہیں ہوتا۔ اور اس کے معانی کے اسرار و عجائبات کبھی ختم نہیں ہوتے۔ جو کوئی اس کو چھوڑ دیتا ہے بےرحمی کی وجہ سے تو خدا اس کو ٹکڑے ٹکڑے کردیتا ہے۔ اور جو کوئی اس کے علاوہ کسی اور چیز میں ہدایت کو تلاش کرتا ہے تو اللہ اسے گمراہ کردیتا ہے۔ یہ اللہ کی مضبوط رسی ہے۔ اور یہ نعمت اور حکمت سے بھرپور ہے۔ اور یہ سیدھا راستہ ہے۔ جو کوئی اس پر عمل کرتا ہے وہ اجر پاتا ہے، اور جو اس کے ذریعہ فیصلہ کرتا ہے وہ انصاف کرتا ہے۔ اور جو شخص اس کی طرف بلاتا ہے وہ سیدھے راستے کی طرف بلاتا ہے۔ اے اعور اس کو مضبوطی سے پکڑ لو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 32001]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32001، ترقيم محمد عوامة 30629)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30630 ترقیم الشثری: -- 32002
٣٢٠٠٢ - حدثنا ابو معاوية (عن) (١) الهجري عن ابي الاحوص عن عبد الله قال: قال رسول الله ﷺ:"إن هذا القرآن مادبة الله فتعلموا (٢) مادبة الله ما استطعتم، ⦗٤١٦⦘ إن هذا القرآن (٣) حبل الله، وهو النور البين، والشفاء النافع، عصمة لمن تمسك به ونجاة لمن تبعه لا يعوج فيقوم، ولا يزيغ فيستعتب، ولا تنقضي عجائبه ولا يخلق من كثرة الرد" (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ط، هـ].
(٢) زاد في [هـ]: (من).
(٣) زاد في [هـ]: (هو).
(٤) ضعيف؛ أخرجه الحاكم ١/ ٥٥٥، والمروزي في قيام الليل ٨/ (٧٠)، والخطيب في الجامع لأخلاق الراوي ١/ ١٠٧، والبيهقي في الشعب (١٩٣٣)، وورد موقوفًا أخرجه الدارمي ٢/ ٣٠٨ (٣٣١٥)، وسعيد بن منصور ٢ (٧)، وعبد الرزاق (٦٠١٧)، والفريابي في فضائل القرآن (٥٩)، وأبو نعيم في الحلية ١/ ١٣٠، والطبراني ٩/ (٨٦٤٦).

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ قرآن اللہ کا دسترخوان ہے، پس تم اپنی طاقت کے بقدر اللہ کے دسترخوان سے سیکھو۔ یہ قرآن اللہ کی رسی ہے، اور یہ واضح اور روشن نور ہے، اور شفا دینے والا اور نفع پہنچانے والا ہے، حفاظت کا ذریعہ ہے اس شخص کے لیے جو اسے مضبوطی سے پکڑلے، اور نجات کا ذریعہ ہے اس شخص کے لیے جو اس کی تعلیمات کی پیروی کرے، یہ ٹیڑھا نہیں ہوتا کہ اسے سیدھا کیا جائے، یہ عیب دار نہیں ہوتا کہ اس کا عیب دور کیا جائے اور اس کے معانی کے عجائبات کبھی ختم نہیں ہوتے۔ اور بار بار پڑھے جانے سے یہ پرانا نہیں ہوتا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 32002]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32002، ترقيم محمد عوامة 30630)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30631 ترقیم الشثری: -- 32003
٣٢٠٠٣ - حدثنا ابن نمير قال: حدثنا ابان بن إسحاق قال: حدثني رجل من بجيلة قال: خرج جندب البجلي في سفر له قال: فخرج معه ناس من قومه، حتى إذا كانوا بالمكان الذي يودع بعضهم بعضا، قال: اي قوم، عليكم بتقوى الله، عليكم بهذا القرآن فالزموه على ما كان من جهد وفاقة، فإنه نور بالليل المظلم وهدى بالنهار (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) مجهول؛ لإبهام الرجل البجلي.
قبیلہ بجیلہ کے ایک شخص فرماتے ہیں کہ حضرت جندب بَجَلی ایک سفر میں تشریف لے گئے۔ راوی کہتے ہیں کہ ان کی قوم کے بھی کچھ لوگ ان کے ساتھ تھے۔ یہاں تک کہ وہ ایسی جگہ میں پہنچے کہ بعض لوگ بعض کو الوداع کہنے لگے۔ آپ نے فرمایا: اے لوگو! اللہ سے ڈرنے کو لازم پکڑ لو۔ یہ قرآن لازم ہے تم پر کہ اس کو لازم پکڑو۔ وہ شخص جو تکلیف اور فاقہ میں ہے یہ قرآن اس کے لیے اندھیری رات میں روشنی کا ذریعہ ہے اور عین ہدایت کا ذریعہ ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 32003]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32003، ترقيم محمد عوامة 30631)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30632 ترقیم الشثری: -- 32004
٣٢٠٠٤ - حدثنا ابو الاحوص عن زيد بن جبير قال: قال (لي ابو) (١) (البختري) (٢) الطائي: اتبع هذا القرآن، فإنه يهديك.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ك]، وفي [جـ]: (أبي أبو).
(٢) في [هـ]: (البحتري).

حضرت زید بن جبیر فرماتے ہیں کہ حضرت ابو بختری الطائی نے مجھ سے فرمایا: اس قرآن کی پیروی کرو بیشک یہ تمہیں ہدایت دے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 32004]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32004، ترقيم محمد عوامة 30632)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30633 ترقیم الشثری: -- 32005
٣٢٠٠٥ - حدثنا عبد الرحمن بن محمد المحاربي عن هارون بن عنترة عن عبد الرحمن بن الاسود عن ابيه قال: قال عبد الله: إن هذه القلوب اوعية، فاشغلوها بالقرآن، ولا تشغلوها بغيره (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح.
حضرت اسود فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: بیشک یہ دل خالی برتن ہیں پس تم ان کو قرآن کے ساتھ مصروف رکھو اور اس کے علاوہ کسی چیز میں مصروف مت کرو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 32005]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32005، ترقيم محمد عوامة 30633)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30634 ترقیم الشثری: -- 32006
٣٢٠٠٦ - حدثنا غندر عن شعبة عن عبد الملك بن ميسرة (عن ابي الاحوص) (١) قال: قال عبد الله: إن هذا (القرآن) (٢) مادبة (الله) (٣) من دخل فيه فهو آمن (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ح، ط، هـ].
(٢) سقط من: [ك].
(٣) سقط من: [أ، ح، هـ].
(٤) صحيح.

حضرت ابو الاحوص فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: بیشک یہ قرآن اللہ کا دسترخوان ہے جو شخص اس دعوت میں داخل ہوگیا پس وہ محفوظ و مامون ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 32006]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32006، ترقيم محمد عوامة 30634)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30635 ترقیم الشثری: -- 32007
٣٢٠٠٧ - حدثنا ابن إدريس عن ليث عن (١) شهاب قال: قال عمر: تعلموا كتاب الله، تعرفوا به، واعملوا به تكونوا من اهله.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، هـ]: زيادة (ابن)، وانظر: التاريخ الكبير ٤/ ٢٣٥، والجرح والتعديل ٤/ ٣٦١، وميزان الاعتدال ٣/ ٣٨٩، وشهاب هذا مجهول.
حضرت شھاب فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے ارشاد فرمایا: تم کتاب اللہ کو سیکھو اس کے ذریعہ پہچانے جاؤ گے، اور اس پر عمل کرو گے تو اس کے اہل میں سے بن جاؤ گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 32007]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32007، ترقيم محمد عوامة 30635)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30636 ترقیم الشثری: -- 32008
٣٢٠٠٨ - حدثنا غندر عن شعبة عن زياد بن مخراق عن ابي إياس عن ابي كنانة عن ابي موسى انه قال: إن هذا القرآن كائن لكم (ذكرا) (١) ، (و) (٢) كائن لكم اجرا (او) (٣) كائن عليكم وزرا، فاتبعوا القرآن ولا يتبعكم القرآن فإنه من يتبع القرآن يهبط به على رياض الجنة، ومن يتبعه القرآن (يزخ) (٤) في قفاه فيقذفه في جهنم (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، هـ]: (ذكرى).
(٢) في [جـ]: (أو).
(٣) في [ط، ك]: (و).
(٤) أي: يدفع، وفي [ط]: (يروح)، وفي [جـ]: (يزج).
(٥) مجهول؛ لجهالة أبي كنانة، أخرجه الدارمي (٣٣٢٨)، وسعيد بن منصور ٢/ (٨)، والخطيب ١٣/ ٨٥.

حضرت ابو کنانہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو موسیٰ نے ارشاد فرمایا: بیشک یہ قرآن تمہارے لیے نصیحت ہے یا تمہارے لیے باعث اجر ہے یا تم پر بوجھ ہے، پس تم قرآن کی پیروی کرو اور قرآن تمہارے پیچھے نہ لگے۔ اس لیے کہ جو قرآن کی پیروی کرتا ہے تو وہ اس کی وجہ سے جنت کے باغات میں داخل ہوجاتا ہے، اور جس شخص کے پیچھے قرآن لگتا ہے۔ تو وہ اسے گردن کے پچھلے حصہ سے دھکیلتا ہے اور اس کو جہنم میں پھینک دیتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 32008]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32008، ترقيم محمد عوامة 30636)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30637 ترقیم الشثری: -- 32009
٣٢٠٠٩ - حدثنا (كثير) (١) بن هشام عن جعفر بن برقان قال: حدثنا الاخنس ابن ابي الاخنس عن زبيد المرادي قال: شهدت ابن مسعود (وقام) (٢) خطيبا فقال: الزموا القرآن وتمسكوا به، حتى جعل يقبض على يديه (جميعا) (٣) كانه آخذ (بسبب) (٤) شيء (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (كبير).
(٢) في [أ، ط، هـ]: (قام).
(٣) في [أ، هـ]: (صفًا).
(٤) سقط من: [ك].
(٥) مجهول؛ لجهالة الأخنس وزبيد.

حضرت زبید المرادی فرماتے ہیں کہ میں حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔ آپ نے فرمایا: لوگو! قرآن کو لازم پکڑو اور اس کے مضبوطی سے تھام لو، یہاں تک کہ آپ نے اپنے ہاتھ دبوچ لیا گویا کہ آپ نے رسی کو پکڑا ہوا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 32009]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32009، ترقيم محمد عوامة 30637)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں