مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
31. من كره أن يقول: المفصل
جو شخص ناپسند کرے قرآن کو یوں کہنا: مفصل
ترقیم عوامۃ: 30718 ترقیم الشثری: -- 32091
٣٢٠٩١ - حدثنا ابو اسامة عن عبيد الله عن نافع عن ابن عمر كره ان يقول: المفصل ويقول: القرآن كله مفصل ولكن قولوا: قصار القرآن (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح.
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما ناپسند کرتے تھے: قرآن کی سورتوں کو مفصل کہنا: اور فرماتے تھے: قرآن مجید سارا مفصل و واضح ہے۔ لیکن تم یوں کہا کرو قرآن کی چھوٹی سورتیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 32091]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32091، ترقيم محمد عوامة 30718)
ترقیم عوامۃ: 30719 ترقیم الشثری: -- 32092
٣٢٠٩٢ - حدثنا ابو اسامة عن (عمر) (١) بن حمزة عن سالم عن ابن عمر قال: سالني عمر: كم معك من القرآن؟ قلت: عشر سور، فقال لعبيد الله بن عمر: كم معك من القرآن؟ قال: سورة، قال عبد الله: فلم (ينهنا ولم يامرنا) (٢) غير انه قال: (فإن) (٣) كنتم (متعلمين) (٤) منه بشيء، فعليكم بهذا المفصل فإنه احفظ (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ح، ز، ط، هـ]: (عمرو).
(٢) في [ك]: (فلم يأمرنا ولم ينهانا).
(٣) في [أ، ط، هـ]: (وإن).
(٤) في [جـ]: (متعلين).
(٥) ضعيف؛ لضعف عمر بن حمزة.
حضرت سالم فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا: مجھ سے حضرت عمر نے پوچھا: تمہیں کتنا قرآن یاد ہے؟ میں نے کہا: ایک سورت، حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں: پھر نہ انہوں نے ہمیں کسی کا م کا حکم دیا اور نہ ہی کسی کام سے منع کیا سوائے اس بات کے کہ انہوں نے کہا: پس اگر تم قرآن میں سے کچھ سیکھو تو تم پر یہ مفصل سورتیں لازم ہیں۔ اس لیے کہ یہ زیادہ محفوظ رہتی ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 32092]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32092، ترقيم محمد عوامة 30719)
ترقیم عوامۃ: 30720 ترقیم الشثری: -- 32093
٣٢٠٩٣ - [حدثنا حفص عن عاصم عن ابن سيرين قال: لا تقل سورة قصيرة ولا سورة خفيفة، قال: فكيف اقول؟ قال: قل: سورة كبيرة فإن الله ﵎ قال: ﴿ولقد يسرنا القرآن للذكر فهل من مدكر﴾ [القمر: ١٧] ، ولا تقل: خفيفة، فإن الله قال: ﴿إنا سنلقي عليك قولا ثقيلا﴾] (١) [المدثر: ٥] .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط الخبر من: [أ، ح، ط، هـ].
حضرت عاصم فرماتے ہیں کہ حضرت ابن سیرین نے ارشاد فرمایا: تم یوں مت کہو: چھوٹی سورت اور نہ ہی یوں کہو: ہلکی سورت۔ راوی کہتے ہیں: میں نے پوچھا: پھر میں کیسے کہوں؟ آپ نے فرمایا: ایسے کہو! آسان سورت۔ اس لیے کہ اللہ نے ارشاد فرمایا: اور بلاشبہ ہم نے آسان بنادیا اس قرآن کو نصیحت کے لیے، سو کیا ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا؟ اور ایسے بھی مت کہو؟ ہلکی سورت: اس لیے کہ اللہ نے فرمایا ہے: ہم نازل کرنے والے ہیں تم پر ایک بھاری کلام۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 32093]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32093، ترقيم محمد عوامة 30720)
ترقیم عوامۃ: 30721 ترقیم الشثری: -- 32094
٣٢٠٩٤ - حدثنا حفص عن عاصم عن ابي العالية ذكر نحوه، إلا انه خالفه في بعض الكلام.
حضرت عاصم فرماتے ہیں کہ حضرت ابو العالیہ نے بھی ما قبل جیسا مضمون ذکر کیا، مگر یہ کہ کلام میں کچھ اختلاف کیا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 32094]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32094، ترقيم محمد عوامة 30721)