مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
34. من كره أن يقول: إذا قرأ القرآن ليس كذا
جو شخص قرآن پڑھے جانے کے وقت یوں کہنا نا پسند کرے! ایسا نہیں ہے
ترقیم عوامۃ: 30733 ترقیم الشثری: -- 32107
٣٢١٠٧ - حدثنا الثقفي عن شعيب قال: كان ابو العالية يقرئ الناس القرآن، فإذا اراد ان يغير (١) لم يقل: ليس كذا وكذا، ولكنه يقول: اقرا آية كذا.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، ك]: زيادة (على الرجل).
حضرت شعیب فرماتے ہیں کہ حضرت ابو العالیہ لوگوں کو قرآن پڑھایا کرتے تھے: پس جب وہ کسی شخص کی غلطی درست کرنے کا ارادہ کرتے تو یوں نہیں فرماتے: ایسے اور ایسے نہیں ہے۔ بلکہ وہ اس طرح فرماتے تھے: آیت کو ایسے پڑھو۔ پس میں نے یہ بات حضرت ابراہیم کے سامنے ذکر کی تو آپ نے فرمایا: میرا خیال ہے کہ تمہارے ساتھی نے یہ حدیث سنی ہے: جس شخص قرآن کے ایک حرف کا انکار کیا بلاشبہ اس نے پورے قرآن کا انکار کیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 32107]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32107، ترقيم محمد عوامة 30733)
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 32108
٣٢١٠٨ - فذكرته لإبراهيم فقال: اظن صاحبكم قد سمع انه من كفر بحرف منه فقد كفر به كله.
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32108، ترقيم محمد عوامة ---)
ترقیم عوامۃ: 30734 ترقیم الشثری: -- 32109
٣٢١٠٩ - حدثنا حفص عن الاعمش عن إبراهيم عن علقمة قال: امسكت على عبد الله في المصحف فقال: كيف رايت؟ قلت: قراتها كما هي في المصحف إلا حرف كذا قراته كذا وكذا (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح.
حضرت علقمہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو قرآن پڑھتے میں روکا تو آپ نے فرمایا: تیری رائے کے مطابق کیسے ہے؟ میں نے کہا: آپ نے پڑھا جیسے قرآن میں موجود ہے سوائے ایک حرف کے۔ آپ نے اس کو ایسے اور ایسے پڑھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 32109]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32109، ترقيم محمد عوامة 30734)
ترقیم عوامۃ: 30735 ترقیم الشثری: -- 32110
٣٢١١٠ - حدثنا وكيع قال: حدثنا الاعمش قال: كنت اقرا على إبراهيم فإذا مررت (بالحرف) (١) ينكره لم يقل لي: ليس كذا وكذا، ويقول: كان علقمة (يقراه) (٢) كذا وكذا.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (بحرف).
(٢) في [هـ]: (يقرأ).
حضرت اعمش فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابراہیم پر قرآن کی تلاوت کی۔ پس جب میں ایک حرف پر گزرا انہوں نے اس پر روک دیا۔ مجھے یوں نہیں کہا کہ ایسے اور ایسے نہیں ہے۔ بلکہ فرمایا: حضرت علقمہ اس آیت کو ایسے اور ایسے پڑھتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 32110]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32110، ترقيم محمد عوامة 30735)
ترقیم عوامۃ: 30736 ترقیم الشثری: -- 32111
٣٢١١١ - حدثنا إسحاق الازرق عن الاعمش قال (١) : قال لي إبراهيم: إن إبراهيم التيمي يزيد ان تقرئه قراءة عبد الله، قلت: لا استطيع، قال: بلى، (٢) فإنه قد اراد (ذاك) (٣) ، قال: فلما رايته (قد هوي ذلك) (٤) قلت: فيكون هذا بمحضر منك فنتذاكر حروف عبد الله، فقال: (اكفني) (٥) هذا، قلت: وما تكره من هذا، قال: اكره ان اقول (لشيء هو كذا، وليس) (٦) هو (هكذا) (٧) ، او اقول: فيها واو (وليس) (٨) فيها واو.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ك]: زيادة (قرأ كتب).
(٢) في [أ، ط، هـ]: زيادة (قال).
(٣) في [هـ]: (ذلك).
(٤) سقط من: [ط، هـ].
(٥) في [أ، ط، هـ]: (لا يكفي).
(٦) سقط من: [أ، ط، هـ].
(٧) في [أ، ب، ط، ك]: (كذا).
(٨) في [ط، هـ]: (ليس).
حضرت اعمش فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم نے مجھ سے فرمایا: بلاشبہ ابراہیم التیمی چاہ رہے ہیں کہ تم ان کو حضرت عبد اللہ کی قراءت پڑھا دو۔ میں نے کہا: میں طاقت نہیں رکھتا۔ انہوں نے فرمایا: کیوں نہیں، پس بیشک ان کا یہی ارادہ ہے، اعمش فرماتے ہیں: جب میں نے ان کو دیکھا کہ وہ یہی چاہ رہے ہیں تو میں نے کہا: ٹھیک ہے یہ آپ کی موجودگی میں ہوگا، تو ہم نے حضرت عبد اللہ کے حروف کا مذاکرہ کیا۔ تو آپ نے فرمایا: مجھے اتنا کافی ہے۔ میں نے کہا: آپ اس طرح ناپسند کیوں کرتے ہیں پڑھانا، آپ نے فرمایا: میں ناپسند کرتا ہوں کہ میں کسی آیت کے بارے میں کہوں: کہ وہ ایسے ہے تو وہ اس طرح نہ ہو یا میں کہوں: اس میں واؤ ہے، اور اس مں ں واؤ نہ ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 32111]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32111، ترقيم محمد عوامة 30736)
ترقیم عوامۃ: 30737 ترقیم الشثری: -- 32112
٣٢١١٢ - حدثنا حفص عن الاعمش عن إبراهيم قال: سال رجل ابن مسعود: ﴿والذين آمنوا واتبعتهم ذريتهم﴾ [الطور: ٢١] ، فجعل الرجل (يقول: ذرياتهم، فجعل الرجل) (١) يرددها ويرددها ولا يقول: ليس كذا (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب، ط، هـ].
(٢) منقطع؛ إبراهيم لم يدرك ابن مسعود.
حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت ابن مسعود سے اس آیت کا تلفظ پوچھا! اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور چلی ان کے نقش قدم پر ان کی اولاد۔ پس اس آدمی نے ذریاتھم کہنا شروع کردیا۔ پھر وہ بار بار اس لفظ کو دوہرا رہا تھا۔ اور آپ نے بھی نہیں فرمایا: کہ ایسے نہیں ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 32112]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32112، ترقيم محمد عوامة 30737)
ترقیم عوامۃ: 30738 ترقیم الشثری: -- 32113
٣٢١١٣ - حدثنا حفص عن الاعمش عن إبراهيم قال: إني لاكره ان اشهد عرض القرآن فاقول كذا وليس كذا.
حضرت اعمش فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم نے ارشاد فرمایا: میں ناپسند کرتا ہوں کہ میں قرآن کے معاملہ میں گواہی دوں پس میں کہوں! ایسا ہے، اور وہ ویسا نہ ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 32113]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32113، ترقيم محمد عوامة 30738)