🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

33. من كره أن يفسر القرآن
جو ناپسند کرے اس بات کو کہ قرآن کی تفسیر بیان کی جائے
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30723 ترقیم الشثری: -- 32096
٣٢٠٩٦ - حدثنا يزيد بن هارون قال: اخبرنا ابن عون عن ابن سيرين قال: سالت عبيدة عن آية (في) (١) كتاب الله، فقال: عليك بتقوى الله والسداد فقد ذهب ⦗٤٤٦⦘ الذين كانوا (يعلمون) (٢) فيم انزل القرآن.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، ك]: (من).
(٢) في [أ، ب، جـ، ط، ك]: (يعملون).

حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبیدہ سے کتاب اللہ کی ایک آیت کے متعلق پوچھا؟ تو آپ نے فرمایا: تجھ پر لازم ہے اللہ سے ڈرنا اور راست روی، بلاشبہ چلے گئے وہ لوگ جو جانتے تھے کہ کس بارے میں قرآن نازل ہوا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 32096]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32096، ترقيم محمد عوامة 30723)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30724 ترقیم الشثری: -- 32097
٣٢٠٩٧ - حدثنا غندر عن شعبة عن عمرو بن مرة قال: سال رجل سعيد بن المسيب عن آية من القرآن فقال: لا تسالني عن القرآن وسل عنه من يزعم انه لا يخفى عليه منه شيء -يعني عكرمة.
حضرت عمرو بن مرہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت سعید بن المسیب سے قرآن کی ایک آیت کے متعلق سوال کیا؟ تو آپ نے فرمایا: مجھ سے قرآن کے بارے میں سوال نہ کرو بلکہ اس سے پوچھو جو دعویٰ کرتا ہے کہ اس پر قرآن کی کوئی چیز مخفی نہیں ہے۔ یعنی حضرت عکرمہ سے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 32097]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32097، ترقيم محمد عوامة 30724)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30725 ترقیم الشثری: -- 32098
٣٢٠٩٨ - حدثنا وكيع عن عبد الاعلى عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال: من قال في القرآن بغير علم فليتبوا مقعده من النار (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) ضعيف؛ لضعف عبد الأعلى، وقد ورد مرفوعًا أخرجه أحمد (٢٠٦٩) من طريق وكيع عن سفيان عن عبد الأعلى، وأخرجه الترمذي (٢٩٥٠)، والنسائي (٨٠٨٤)، وأبو يعلى (٢٣٣٨)، والقضاعي في مسند الشهاب (٥٥٤)، وابن جرير في التفسير ١/ ٣٤، والبغوي في شرح السنة (١١٨)، والطحاوي في شرح المشكل ١/ ٣٥٨، والطبراني (١٢٣٩٢)، والخطيب في الجامع (١٥٨٤)، وابن عساكر ٥١/ ٩٤.
حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا: جو شخص قرآن کے بارے میں بغیر علم کے رائے زنی کرے پس اس کو چاہیے کہ وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 32098]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32098، ترقيم محمد عوامة 30725)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30726 ترقیم الشثری: -- 32099
٣٢٠٩٩ - حدثنا وكيع عن سفيان عن مغيرة قال: كان إبراهيم يكره ان يتكلم في القرآن.
حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم ناپسند کرتے تھے کہ وہ قرآن کے بارے میں کچھ رائے زنی کریں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 32099]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32099، ترقيم محمد عوامة 30726)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30727 ترقیم الشثری: -- 32100
٣٢١٠٠ - حدثنا علي بن (مسهر) (١) عن الحسن بن عمرو عن الشعبي قال: ادركت اصحاب (عبد الله) (٢) واصحاب (علي) (٣) وليس هم لشيء من العلم اكره منهم (لتفسير) (٤) القرآن.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ك]: (فهر).
(٢) في [ك]: (علي).
(٣) في [ك]: (عبد اللَّه).
(٤) في [أ، ب، ط]: (كتفسير).

امام شعبی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے شاگردوں کو پایا اس حال میں کہ ان کے نزدیک علم میں قرآن کی تفسیر بیان کرنا سب سے زیادہ ناپسندیدہ تھا۔ شعبی نے فرمایا: اور حضرت ابوبکر فرمایا کرتے تھے: کون سا آسمان مجھ پر سایہ کرے گا، اور کون سی زمین مجھے پناہ دے گی۔ جب میں قرآن کے بارے میں ایسی بات کہوں جس کا مجھے علم نہیں؟! [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 32100]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32100، ترقيم محمد عوامة 30727)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 32101
٣٢١٠١ - قال: وكان ابو بكر يقول: اي سماء تظلني واي ارض تقلني إذا قلت في كتاب الله ما لا اعلم (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) منقطع؛ الشعبي لم يدرك أبا بكر، أخرجه الطبري (٧٩، ٧٨)، وأبو عبيد في فضائل القرآن (٨٤٢)، والخطيب في الجامع (١٥٨٥)، وابن حزم في الأحكام ٢/ ٢١٣، والبيهقي في الشعب (٢٢٧٨)، وسعيد ابن منصور في التفسير (٣٩)، ومسدد كما في المطالب (٣٥١٢)، وسيأتي ١٠/ ٥١٣.
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32101، ترقيم محمد عوامة ---)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30728 ترقیم الشثری: -- 32102
٣٢١٠٢ - حدثنا الفضل بن دكين قال: حدثني عبد الله بن حبيب بن ابي ثابت قال: سالت طاوسا عن تفسير هذه الآية: ﴿شهادة بينكم إذا حضر احدكم الموت﴾ [المائدة: ١٠٦] : فاراد ان يبطش حتى قيل هذا ابن حبيب - (كراهية) (١) لتفسير القرآن.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ط]: (كراهته).
حضرت عبد اللہ بن حبیب بن ابی ثابت فرماتے ہیں: میں نے حضرت طاو وس سے اس آیت: گواہی کا (ضابطہ) تمہارے درمیان جب تم میں سے کسی کی موت آپہنچے،؟ کی تفسیر کے متعلق پوچھا؟ سو انہوں نے حملہ کرنے کا ارادہ کیا یہاں تک کہ انہیں کہا گیا: یہ ابن حبیب ہیں۔ قرآن کی تفسیر بیان کرنے کو ناپسند کرنے کی وجہ سے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 32102]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32102، ترقيم محمد عوامة 30728)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30729 ترقیم الشثری: -- 32103
٣٢١٠٣ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (اخبرنا) (١) حميد عن انس ان عمر قال: على المنبر: ﴿ (وفاكهة) (٢) وابا﴾ [عبس: ٣١] ، ثم (قال) (٣) : هذه الفاكهة قد عرفناها فما الاب؟ ثم رجع إلى نفسه فقال: إن هذا لهو التكلف، يا عمر (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ك]: (أنبأنا).
(٢) في [جـ، ك]: (فاكهة).
(٣) تكررت في: [جـ، ك].
(٤) صحيح.

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے منبر پر آیت تلاوت فرمائی۔ (اور پھل اور چارے)۔ پھر فرمایا: یہ پھل تو ہم پہچانتے ہیں۔ پس اَبًّا کیا ہے؟ پھر اپنے نفس کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: اے عمر! یقینا یہ تو تکلف ہے!۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 32103]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32103، ترقيم محمد عوامة 30729)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30730 ترقیم الشثری: -- 32104
٣٢١٠٤ - حدثنا وكيع عن إسرائيل عن جابر عن عامر قال: كتب رجل مصحفا وكتب عند كل آية تفسيرها، فدعا به عمر فقرضه بالمقراضين (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) منقطع ضعيف؛ عامر الشعبي لم يدرك عمر، وجابر الجعفي ضعيف.
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ حضرت عامر نے ارشاد فرمایا: ایک آدمی نے قرآن لکھا اور ہر آیت کے ساتھ اس کی تفسیر بھی لکھی۔ پس حضرت عمر نے اس کو منگوایا۔ پھر اس کو قینچی کے ساتھ کاٹ دیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 32104]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32104، ترقيم محمد عوامة 30730)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30731 ترقیم الشثری: -- 32105
٣٢١٠٥ - حدثنا محمد بن عبيد عن العوام بن حوشب عن إبراهيم التيمي ان ابا بكر سئل عن: ﴿وفاكهة وابا﴾ فقال: اي سماء تظلني واي ارض تقلني، إذا قلت في كتاب الله ما لا اعلم (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) منقطع؛ إبراهيم التيمي لم يدرك أبا بكر، وسبق تخريجه ١٠/ ٥١٢ برقم [٣٢١٠١].
حضرت ابراہم التیمی فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر سے اس آیت (اور پھل اور چارے) کے متعلق سوال کیا گیا؟ تو آپ نے فرمایا: کون سا آسمان مجھے سایہ دے گا؟ اور کون سی زمین مجھے پناہ دے گی۔ جب میں کتاب اللہ کے بارے میں وہ بات کہوں جس کا مجھے علم نہیں؟!۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 32105]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32105، ترقيم محمد عوامة 30731)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں