🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

73. في قراءة النبي ﷺ (على غيره)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دوسرے پر پڑھنا
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30934 ترقیم الشثری: -- 32310
٣٢٣١٠ - حدثنا حفص عن الاعمش عن إبراهيم عن عبيدة عن عبد الله قال: قال لي رسول الله ﷺ:"اقرا علي القرآن"، فقلت: اقرا عليك وعليك انزل، قال:"إني اشتهي ان اسمعه من غيري"، قال: فقرات عليه النساء حتى بلغت (عليه) (١) : ﴿فكيف إذا جئنا من كل امة بشهيد وجئنا بك على هؤلاء شهيدا﴾ [النساء: ٤١] ، رفعت راسي (او) (٢) غمزني رجل إلى جنبي، فرفعت راسي فرايت عينيه تسيل (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [هـ].
(٢) في [ط]: (و).
(٣) صحيح؛ أخرجه البخاري (٤٥٨٢)، ومسلم (٨٠٠).

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا: مجھے قرآن سناؤ۔ میں نے عرض کیاً! میں آپ کو سناؤں، حالانکہ قرآن تو آپ ہی پر نازل ہوا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بلاشبہ میں چاہتا ہوں کہ میں اپنے علاوہ کسی اور سے قرآن سنوں۔ عبد اللہ فرماتے ہیں! پس میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے سورة نساء کی تلاوت فرمائی۔ یہاں تک کہ میں اس آیت پر پہنچا۔ (پھر کیا کیفیت ہوگی (ان لوگوں کی) جب لائیں گے ہم ہر امت میں سے ایک گواہ اور لائیں گے تمہیں (اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)!) ان پر بطور گواہ) میں نے اپنا سر اٹھایا یا ایک آدمی نے میرے پہلو کو ٹٹولا تو میں نے اپنا سر اٹھایا پس میں نے دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دونوں آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 32310]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32310، ترقيم محمد عوامة 30934)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30935 ترقیم الشثری: -- 32311
٣٢٣١١ - حدثنا ابن إدريس (عن حصين) (١) عن هلال بن يساف عن ⦗٥٠١⦘ ابي حيان عن عبد الله عن النبي ﷺ بنحو من حديث الاعمش (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [جـ].
(٢) مجهول، أبو حبان مجهول، أخرجه أحمد (٣٥٥٠)، وأبو يعلى (٥١٥٠).

حضرت عبد اللہ سے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 32311]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32311، ترقيم محمد عوامة 30935)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30936 ترقیم الشثری: -- 32312
٣٢٣١٢ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن عاصم عن (زر) (١) عن عبد الله ان النبي ﷺ قال له:"اقرا"، فافتتح سورة النساء حتى (إذا) (٢) بلغ إلى قوله تعالى: ﴿فكيف إذا جئنا من كل امة بشهيد وجئنا بك على هؤلاء شهيدا﴾ (٣) ، قال: فدمعت عينا النبي ﷺ (قال) (٤) :"حسبك" (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (ذر).
(٢) سقط من: [جـ، ك].
(٣) في [جـ، ك]: زيادة (الآية).
(٤) في [أ، ب، جـ، ك]: (وقال).
(٥) ضعيف؛ عاصم سيء الحفظ، أخرجه البخاري (٤٥٨٢)، ومسلم (٨٠٠).

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے کہا: پڑھو، پس میں نے سورة النساء شروع کردی یہاں تک کہ میں پہنچا اللہ کے اس قول تک (پھر کیا کیفیت ہوگی (ان لوگوں کی) جب لائیں گے ہم ہر امت میں سے ایک گواہ اور لائیں گے تمہیں (اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)!) ان پر بطور گواہ)۔ آپ فرماتے ہیں! پس نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دونوں آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کافی ہے تمہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 32312]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32312، ترقيم محمد عوامة 30936)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30937 ترقیم الشثری: -- 32313
٣٢٣١٣ - حدثنا ابن نمير عن الاجلح عن ابن ابزى عن ابيه قال: سمعت ابي بن كلعب يقول: قال رسول الله ﷺ:"امرت ان اعرض عليك القرآن"، (قلت) (١) : سماني لك (ربك) (٢) قال:"نعم (٣) "، فقال ابي: ﴿قل بفضل الله وبرحمته فبذلك (فليفرحوا) (٤) هو خير مما يجمعون﴾ (٥) [يونس: ٥٨] .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ك]: (قال).
(٢) سقط من: [أ، ح، ط، هـ].
(٣) في [ك]: زيادة (قال).
(٤) في المسند وسنن أبي داود: (فلتفرحوا).
(٥) حسن؛ الأجلح صدوق، أخرجه أحمد (٢١١٣٦)، وأبو داود (٣٩٨١)، والنسائي في الكبرى (٧٩٩٨)، والحاكم ٢/ ٢٤٥، والطيالسي (٥٤٥)، والبخاري في خلق أفعال العباد (٥٣٦)، وابن أبي عاصم في الآحاد (١٨٤٨)، وابن جرير في التفسير ١١/ ١٢٦، وأبو نعيم في الحلية ١/ ٢٥١، والضياء في الأوسط (١٧٠٠)، والمزي ١٢/ ١٤، والشاشي (١٤٣٨)، والبيهقي في شعب الإيمان (٢٥٩٤).

حضرت ابی ّ بن کعب فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تجھے قرآن سناؤں۔ ابی نے عرض کیا: کیا آپ کے رب نے میرا نام لیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں! تو حضرت ابی نے فرمایا اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے ہے سو اس پر چاہیے ان کو خوش ہونا۔ یہ بہتر ہے ان سب چیزوں سے جو یہ جمع کر رہے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 32313]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32313، ترقيم محمد عوامة 30937)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں