مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
3. ما قالوا فيما يخبر به الرجل من الرؤيا
وہ روایات جو اسلاف سے منقول ہیں ان خوابوں کے بارے میں جن کو کسی کے سامنے بیان نہیں کرنا چاہیے
ترقیم عوامۃ: 31112 ترقیم الشثری: -- 32494
٣٢٤٩٤ - حدثنا سفيان بن عيينة عن ابي الزبير عن جابر (قال: جاء) (١) رجل إلى النبي ﷺ فقال: إني رايت كان عنقي ضربت، قال:"لم يخبو احدكم بلعب الشيطان (به) (٢) " (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ]: (قال: قال رجل).
(٢) سقطة في: [ط].
(٣) صحيح؛ أخرجه مسلم (٢٢٦٨)، وأحمد (١٤٢٩٣).
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا کہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ گویا میری گردن اڑا دی گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی اپنے ساتھ شیطان کے کھیلنے کو کیوں بیان کرتا ہے؟ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الرؤيا/حدیث: 32494]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32494، ترقيم محمد عوامة 31112)
ترقیم عوامۃ: 31113 ترقیم الشثری: -- 32495
٣٢٤٩٥ - حدثنا وكيع قال حدثنا الاعمش عن ابي سفيان عن جابر قال: جاء رجل إلى النبي ﷺ فقال: يا رسول الله (رايت في المنام) (١) كان راسي قطع، قال: ⦗٦٨⦘ فضحك النبي ﷺ (و) (٢) قال:"إذا لعب الشيطان باحدكم (في منامه) (٣) فلا يحدث به الناس" (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب، ط].
(٢) (الواو) سقطة في: [ط].
(٣) سقطة في: [أ، ب، جـ، ط]
(٤) حسن؛ أبو سفيان صدوق، أخرجه مسلم (٢٢٦٨)، وأحمد (١٤٣٨٣).
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے خواب میں کچھ یوں دیکھا ہے کہ میرا سر کاٹ دیا گیا، راوی فرماتے ہیں کہ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہنسے اور فرمایا جب تم میں سے کسی کے ساتھ شیطان خواب میں کھیلے تو وہ اس کو لوگوں کے سامنے بیان نہ کرے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الرؤيا/حدیث: 32495]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32495، ترقيم محمد عوامة 31113)
ترقیم عوامۃ: 31114 ترقیم الشثری: -- 32496
٣٢٤٩٦ - حدثنا محمد بن عبد الله الاسدي عن عمر بن سعيد بن ابي (الحسين) (١) قال: حدثني عطاء بن ابي رباح عن ابي هريرة قال: جاء رجل (إلى) (٢) النبي ﷺ فقال: إني رايت في المنام كان راسي (ضربت) (٣) فرايته بيدي هذه، قال: فقال (٤) رسول الله ﷺ:"يعمد الشيطان إلى احدكم فيتهول (له) (٥) ثم يغدو فيخبر الناس" (٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، ط]: (الحسن).
(٢) سقط من: [هـ].
(٣) في [هـ]: (ضرب).
(٤) في [ط، هـ]: زيادة (له).
(٥) سقط من: [ط].
(٦) صحيح؛ أخرجه أحمد (٨٧٦٣)، وابن ماجه (٣٩١١)، والنسائي في عمل اليوم والليلة (٩١٣).
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا کہ میں نے خواب دیکھا کہ میرا سر کاٹ دیا گیا ہے اور پھر میں نے اپنا سر اپنے اس ہاتھ میں رکھا ہوا دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ شیطان تم میں سے کسی کے پاس خوفناک شکل میں آتا ہے اور اسے خوف میں مبتلا کرتا ہے، اور پھر وہ آدمی صبح کے وقت یہ بات لوگوں کو بتانا شروع کردیتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الرؤيا/حدیث: 32496]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32496، ترقيم محمد عوامة 31114)
ترقیم عوامۃ: 31115 ترقیم الشثری: -- 32497
٣٢٤٩٧ - حدثنا (١) معاوية بن هشام عن سفيان (عن) (٢) ابي إسحاق عن حارثة ابن مضرب ان رجلا راى رؤيا من صلى الليلة في المسجد دخل الجنة فخرج عبد الله بن مسعود وهو يقول: اخرجوا (لا تغتروا) (٣) ، فإنما هي نفخة شيطان (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ط، هـ]: زيادة (أبو).
(٢) سقط من: [ك].
(٣) في [أ، جـ، ط، ك]: (لا تغذبوا)، وفي حاشية [ب]: (تغتروا).
(٤) صحيح.
حضرت حارثہ بن مضرّب نقل کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے خواب میں دیکھا کہ جس شخص نے آج رات مسجد میں نماز پڑھی وہ جنت میں داخل ہوگا، یہ سن کر حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ یہ فرماتے ہوئے نکلے کہ نکل جاؤ، دھوکہ نہ کھاؤ، کیونکہ یہ شیطانی وسوسہ ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الرؤيا/حدیث: 32497]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32497، ترقيم محمد عوامة 31115)