🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

4. ما قالوا فيها يخبره النبي ﷺ (من) الرؤيا
وہ روایات جو اسلاف سے منقول ہیں ان خوابوں کے بارے میں جو نبی کریمعلیہ السلام بیان فرما دیا کرتے تھے
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31116 ترقیم الشثری: -- 32498
٣٢٤٩٨ - حدثنا محمد بن بشر قال حدثنا محمد بن (عمرو عن) (١) ابي سلمة عن ابي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"رايت في يدي (سوارين) (٢) (من) (٣) ذهب فنفختهما (فاولتهما) (٤) هذين الكذابين: مسيلمة والعنسي" (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب]: (عمرو وعن).
(٢) في [جـ، ك]: (سواري).
(٣) في [ط]: (عن)، وسقطة في: [جـ، ك].
(٤) في [ك]: (فأولهما)، وفي [ط]: (فأدلتهما).
(٥) حسن؛ محمد بن عمرو بن علقمة صدوق، أخرجه البخاري (٤٣٧٥)، ومسلم (٢٢٧٤).

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے خواب میں اپنے ہاتھوں میں سونے کے کنگن دیکھے، پس میں نے ان پر پھونک دیا، ان کنگنوں کی تعبیر میں نے یہ لی کہ یہ دو جھوٹے ہیں۔ مسیلمہ اور عنسی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الرؤيا/حدیث: 32498]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32498، ترقيم محمد عوامة 31116)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31117 ترقیم الشثری: -- 32499
٣٢٤٩٩ - حدثنا ابن علية عن يونس عن الحسن قال: قال رسول الله ﷺ:"رايت (كان) (١) في يدي سوارين من ذهب فكرهتهما فنفختهما فذهبا: كسرى وقيصر" (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ك]: (كأنما)، وسقط من: [هـ].
(٢) مرسل؛ الحسن تابعي.

حضرت حسن سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ گویا میرے دونوں ہاتھوں میں سونے کے کنگن ہیں، مجھے وہ کنگن برے لگے تو میں نے ان پر پھونک دیا جس سے وہ اُڑ گئے، ایک کسریٰ اور ایک قیصر۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الرؤيا/حدیث: 32499]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32499، ترقيم محمد عوامة 31117)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31118 ترقیم الشثری: -- 32500
٣٢٥٠٠ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن مسلم قال: (اتى) (١) رجل إلى النبي ﷺ فقال: يا رسول الله، رايت رجلا يخرج من الارض، وعلى راسه رجل في يده مرزبة من حديد، كلما اخرج راسه ضرب راسه فيدخل في الارض ثم يخرج من مكان آخر فياتيه فيضرب راسه، (قال) (٢) :"ذاك ابو جهل بن هشام، لا يزال (يصنع) (٣) به ذلك إلى يوم القيامة" (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ]: (أنا).
(٢) في [جـ، ك]: (فقال).
(٣) في [ط]: (يضع).
(٤) مرسل؛ مسلم بن صبيح تابعي.

حضرت مسلم رحمہ اللہ روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے خواب میں ایک آدمی کو زمین سے نکلتے ہوئے دیکھا، اس کے سر پر ایک آدمی نگران تھا جس کے ہاتھ میں لوہے کا گرز تھا، جب بھی وہ زمین سے سر نکالتا وہ آدمی اس کے سر پر گرز مارتا جس سے وہ پھر زمین میں دھنس جاتا، پھر وہ دوسری جگہ سے نکلتا تو پھر وہ آدمی اس کے پاس آ کر اس کے سر پر گُرز مارتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ شخص ابو جھل بن ہشام ہے اس کے ساتھ قیامت تک یہی کیا جاتا رہے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الرؤيا/حدیث: 32500]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32500، ترقيم محمد عوامة 31118)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31119 ترقیم الشثری: -- 32501
٣٢٥٠١ - حدثنا عبد الله بن إدريس عن حصين عن عبد الرحمن بن ابي ليلى قال: قال رسول الله ﷺ (لابي بكر) (١) : (إني (رايت) (٢) يتبعني غنم سود يتبعها غنم (عفر) (٣) "، فقال ابو بكر: يا رسول الله، هذه العرب تتبعك تتبعها العجم، قال: قال رسول الله ﷺ:"كذلك عبرها الملك (٤) " (٥)

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، ك]: زيادة (لأبي بكر).
(٢) في [أ، ط، هـ]: (رأيتني).
(٣) في [جـ]: (عقر).
(٤) في [أ]: زيادة (السحر).
(٥) مرسل؛ عبد الرحمن بن أبي ليلى تابعي، أخرجه أبو نعيم في تاريخ أصبهان ١/ ٢٨، وأبوبكر الشافعي في الغيلانيات ١/ ٨٠ (٣١)، وأخرجه الثعلبي في التفسير من طريق رجل من الصحابة ٦/ ٣٠٩، وأخرجه الحاكم ٤/ ٣٩٥ من طريق أبي أيوب، وأخرجه الدولابي (٤٦) من حديث أبي بكر.

حضرت عبد الرحمن ابن ابی لیلیٰ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے پیچھے کالی بھیڑیں چل رہی ہیں اور ان کے پیچھے خاکی رنگ کی بھیڑیں ہیں، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا یارسول اللہ! یہ عرب ہیں جو آپ کی پیروی کریں گے اور ان کے پیچھے عجمی لوگ چلیں گے، راوی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ فرشتے نے بھی اس خواب کی یہی تعبیر بتائی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الرؤيا/حدیث: 32501]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32501، ترقيم محمد عوامة 31119)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31120 ترقیم الشثری: -- 32502
٣٢٥٠٢ - حدثنا ابن إدريس عن ابيه عن (الحر) (١) بن (الصياح) (٢) قال: قال رسول الله ﷺ:"كذلك عبرها الملك (بالسحر) " (٣) (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (أحمر).
(٢) في [أ، ب]: (وضاح)، وكذلك: [جـ، ك]، وفي [ط]: (وضاج).
(٣) سقطة في: [أ].
(٤) مرسل؛ الحر بن الصياح ليس صحابيًا.

حضرت حرّ بن صیاّح فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہی تعبیر فرشتے نے بھی صبح کے وقت بتائی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الرؤيا/حدیث: 32502]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32502، ترقيم محمد عوامة 31120)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31121 ترقیم الشثری: -- 32503
٣٢٥٠٣ - حدثنا يزيد قال اخبرنا سفيان بن حسين عن الزهري عن (عبيد الله) (١) بن عبد الله بن عتبة عن ابن عباس قال: جاء رجل إلى النبي ﷺ فقال: إني رايت ظلة (تنطف) (٢) سمنا وعسلا، وكان الناس ياخذون منها، فبين مستكثر ⦗٧١⦘ وبين مستقل وبين ذلك، وكان (سببا) (٣) دلى من السماء فجئت (فاخذت) (٤) به فعلوت، فاعلاك الله، ثم جاء رجل من بعدك فاخذ به (فعلا) (٥) فاعلاه الله، ثم جاء رجل من (بعدكما) (٦) فاخذ به (٧) فعلا فاعلاه الله، [ثم جاء رجل من بعدكم فاخذ به (فانقطع) (٨) به ثم وصل له فعلا (فاعلاه الله) (٩) ] (١٠) ، فقال ابو بكر: (ائذن لي يا رسول الله) (١١) فاعبرها، فاذن له فقال: اما الظلة فالإسلام واما السمن والعسل فالقرآن، واما السبب فما انت عليه، تعلو فيعليك الله، ثم يكون رجل من بعدك على منهاجك فيعلو فيعليه الله، ثم (يكون) (١٢) رجل من بعدكما فياخذ باخذكما فيعلو فيعليه الله، ثم يكون رجل من بعدكم على منهاجكم ثم يقطع به ثم يوصل له فيعلو فيعليه الله، قال: اصبت يا رسول الله؟ قال:" (اصبت) (١٣) واخطات"، قال: اقسمت يا رسول الله لتخبرني قال:" (لا) (١٤) تقسم" (١٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب]: (عبد اللَّه).
(٢) في [أ، ب]: (تنظف).
(٣) في [ك]: (سبيك).
(٤) في [ك]: (وأخذت).
(٥) في [ك]: (فعلا بي).
(٦) في [ك]: (بعدكم).
(٧) في [ك]: زيادة (ثم قطع به ثم وصل له).
(٨) في [جـ]: (ثم انقطع).
(٩) في [هـ]: (به).
(١٠) سقط ما بين المعكوفين من: [ك].
(١١) في [جـ، ك]: (يا رسول اللَّه ائذن لي).
(١٢) سقط من: [هـ].
(١٣) في [جـ]: (أصابت).
(١٤) سقط من: [ك].
(١٥) صحيح؛ أخرجه البخاري (٧٠٤٦)، ومسلم (٢٢٦٩).

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا میں نے ایک بادل دیکھا جس سے گھی اور شہد ٹپک رہا تھا اور لوگ اس میں سے لے رہے ہیں، پس بعض زیادہ لے رہے ہیں اور بعض کم، اس دوران آسمان سے ایک رسّی لٹکائی گئی پس آپ تشریف لائے اور آپ نے اس رسّی کو پکڑا اور اوپر چڑھ گئے۔ پس اللہ تعالیٰ آپ کو بلندیوں پر لے گئے، پھر آپ کے بعد ایک آدمی آئے انہوں نے بھی رسّی کو پکڑا اور چڑھنے لگے، پس اللہ تعالیٰ نے ان کو بھی بلندیوں پر پہنچا دیا، پھر آپ دونوں کے بعد ایک اور آدمی آئے انہوں نے رسّی کو پکڑا اور چڑھنے لگے، اللہ نے ان کو بھی اوپر پہنچا دیا، پھر آپ تینوں کے بعد ایک آدمی نے اس رسّی کو پکڑا تو وہ رسّی کاٹ دی گئی، پھر اس کو جوڑا گیا تو وہ آدمی بھی اوپر چڑھنے لگے اور اللہ نے ان کو بھی اوپر پہنچا دیا۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول 5! مجھے اجازت دیجیے کہ میں اس خواب کی تعبیر بیان کروں، آپ نے اس کی اجازت دے دی، انہوں نے فرمایا کہ بادل سے مراد اسلام ہے، اور گھی اور شہد سے مراد قرآن ہے، اور رسّی سے مراد وہ راستہ ہے جس پر آپ چل رہے ہیں اور بلندیوں پر چڑھتے چلے جا رہے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ آپ کو بلندیوں پر پہنچا دیں گے، پھر آپ کے بعد ایک آدمی آپ کے نقش قدم پر چلتا ہوا بلندیوں پر چڑھتا چلا جائے گا، پس اللہ تعالیٰ اس کو بھی اوپر پہنچا دیں گے، پھر ایک آدمی آپ دونوں کے بعد آپ کے نقش قدم پر چلے گا اور بلندی کی طرف جائے گا، اللہ تعالیٰ اس کو بھی اوپر پہنچا دیں گے، پھر آپ تینوں کے بعد ایک آدمی آپ کے نقش قدم پر چلے گا، پھر اس کے سامنے ایک رکاوٹ آئے گی، پھر وہ رکاوٹ ہٹ جائے گی، پس وہ بلندیوں کی طرف چلے گا، اور اللہ تعالیٰ اس کو بھی بلندی پر پہنچا دیں گے۔ اس کے بعد انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا میں نے صحیح تعبیر بیان کی؟ آپ نے فرمایا تم نے صحیح تعبیر بھی بیان کی اور غلطی بھی کی، انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! میں آپ کو قسم دیتا ہوں کہ آپ مجھے ضرور بتلائیں، آپ نے فرمایا قسم نہ دو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الرؤيا/حدیث: 32503]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32503، ترقيم محمد عوامة 31121)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31122 ترقیم الشثری: -- 32504
٣٢٥٠٤ - حدثنا قبيصة بن عقبة عن حماد بن سلمة عن علي بن زيد عن عبد الرحمن بن ابي بكرة عن ابيه قال: وفدنا مع زياد إلى معاوية فما اعجب بوفد (ما) (١) اعجب بنا (٢) فقال: يا ابا بكرة، (حدثنا) (٣) بشيء سمعته من رسول الله ﷺ قال: سمعت رسول الله ﷺ يقول -وكانت تعجبه الرؤبا الحسنة (يسال) (٤) عنها (فسمعته يقول) (٥) :"رايت ميزانا انزل من السماء فوزنت فيه انا وابو بكر فرجحت بابي بكر، ووزن ابو بكر وعمر فرجح ابو بكر، ثم وزن عمر وعثمان فرجح عمر بعثمان، ثم رفع الميزان إلى السماء"، فقال رسول الله ﷺ:"خلافة نبوة ثم يؤتي الله الملك من يشاء"، قال: (فزج) (٦) في (اقفيتنا) (٧) فاخرجنا (٨) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [هـ].
(٢) في [جـ، ك]: زيادة (قال).
(٣) في [هـ]: (حدثني).
(٤) في [جـ، ك]: (سئل).
(٥) في [أ، ط، هـ]: (فيقول).
(٦) في [هـ]: (فخرج).
(٧) في [أ، ط، هـ]: (أفنيتنا).
(٨) ضعيف؛ لضعف علي بن زيد بن جدعان، أخرجه أحمد (٢٠٥٠٢)، وأبو داود (٤٦٣٥)، والطيالسي (٨٦٦)، وأبو عبيد في غريب الحديث ٣/ ١٠٠، ويعقوب في المعرفة ٣/ ٣٥٥، وابن أبي عاصم في السنة (١١٣١)، والبزار (٣٦٥٢)، والطحاوي في شرح المشكل (٣٣٤٨)، والبيهقي في دلائل النبوة ٦/ ٣٤٢، وبنحوه أخرجه الترمذي (٢٢٨٧)، والنسائي في الكبرى (٨١٣٦)، والحاكم ٣/ ٧٠.

حضرت عبد الرحمن بن ابی بکرہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے فرمایا کہ ہم زیاد کے ساتھ ایک وفد کی شکل میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، وہ کسی وفد سے اتنے خوش نہیں ہوئے جتنا ہم سے خوش ہوئے، راوی فرماتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: اے ابو بکرہ! ہمیں کوئی ایسی بات بیان کیجئے جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو، انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا جبکہ آپ کو اچھے خواب پسند تھے جن کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا جاتا تھا، آپ فرما رہے تھے کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ آسمان سے ایک ترازو اتاری گئی، پس اس میں میرا اور ابوبکر کا وزن کیا گیا پس میں ابوبکر سے جھک گیا، پھر ابوبکر اور عمر کا وزن کیا گیا تو ابوبکر جھک گئے، پھر عمر اور عثمان کو تولا گیا تو عمر عثمان سے جھک گئے، پھر ترازو آسمان کی طرف اٹھا لیا گیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ خلافت اور نبوت ہے، اس کے بعد اللہ تعالیٰ جس کو چاہیں گے حکومت عطا فرمائیں گے، حضرت ابو بکرہ فرماتے ہیں کہ پھر ہمیں گدّی سے پکڑ کر نکال دیا گیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الرؤيا/حدیث: 32504]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32504، ترقيم محمد عوامة 31122)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31123 ترقیم الشثری: -- 32505
٣٢٥٠٥ - حدثنا عفان قال: حدثنا (وهيب) (١) قال: حدثني موسى بن عقبة قال: حدثني سالم عن رؤيا رسول الله ﷺ في وباء المدينة عن عبد الله بن عمر عن ⦗٧٣⦘ النبي ﷺ قال:"رايت امراة سوداء (ثائرة) (٢) الراس خرجت من المدينة حتى قذفت (بمهيعة) (٣) ، فاولت ان وباء المدينة نقل إلى مهيعة" (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط، هـ]: (وهب).
(٢) في [ط]: (ثابرة).
(٣) في [جـ، ك]: (مهيعة).
(٤) صحيح؛ أخرجه البخاري (٧٠٣٨)، وأحمد (٥٨٤٩).

حضرت موسیٰ بن عقبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے حضرت سالم رحمہ اللہ نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے واسطے سے مدینہ کی وباء کے بارے میں حضور 5 کا خواب بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے ایک کالے رنگ کی عورت کو دیکھا جس کے بال بکھرے ہوئے تھے کہ وہ مدینہ سے نکلی یہاں تک کہ مقام مہیعہ میں پہنچ کر ٹھہر گئی، میں نے اس کی تعبیر یہ لی کہ مدینہ کی وباء مہیعہ کی طرف منتقل کردی گئی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الرؤيا/حدیث: 32505]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32505، ترقيم محمد عوامة 31123)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31124 ترقیم الشثری: -- 32506
٣٢٥٠٦ - حدثنا ابو داود (١) عمر بن سعد عن (بدر) (٢) (بن) (٣) (عثمان) (٤) عن (عبيد الله) (٥) بن مروان عن ابي عائشة عن ابن عمر قال: خرج إلينا رسول الله ﷺ ذات غداة فقال:"رايت آنفا اني اعطيت الموازين والمقاليد، فاما المقاليد فهذه (المفاتيح) (٦) (واما الموازين فهي التي تزنون بها) (٧) ، فوضعت في كفة، ووضعت امتي في كفة، فرجحت بهم، (ثم جيء) (٨) بابي بكر فرجح، (ثم جيء بعمر فرجح) (٩) ، ثم جيء بعثمان فرجح"، (قال:"ثم) (١٠) رفعت"، قال: فقال له رجل: فاين نحن؟ قال:"حيث جعلتم انفسكم" (١١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، ط]: زيادة (عن).
(٢) في [جـ]: (زيد).
(٣) في [ط]: (عن).
(٤) في [ك]: (حسان)، وفي [أ، ب، جـ، ط]: (غسان).
(٥) في [ط]: (عبد اللَّه).
(٦) في [ط]: (مفاتح).
(٧) سقطة من: [أ، ب، جـ، ط].
(٨) في [أ، ط، هـ]: (فجيء).
(٩) سقطة من: [ب].
(١٠) في [ط]: (ثم قال).
(١١) مجهول؛ لجهالة أبي عائشة، وعبيد اللَّه بن مروان، أخرجه أحمد (٥٤٦٩)، وعبد بن حميد (٨٥٠)، وابن عساكر ٣٨/ ١١٦، وعبد اللَّه بن أحمد في زوائد فضائل الصحابة (٢٢٨)، والآجري في الشريعة (١٣٣٣)، وابن أبي عاصم في السنة (١١٣٨).

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ ایک صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف نکلے اور فرمایا کہ میں نے ابھی دیکھا ہے کہ مجھے ترازو اور کنجیاں دی گئی ہیں، کنجیاں تو یہی چابیاں ہیں، مجھے ایک پلڑے میں رکھا گیا اور میری امت کو ایک پلڑے میں رکھا گیا پس میں ان سے جھک گیا، پھر ابوبکر کو لایا گیا اور ان کا وزن کیا گیا تو وہ جھک گیا پھر عمر کو لایا گیا اور ان کا وزن کیا گیا وہ بھی جھک گئے، پھر عثمان کو لایا گیا اور ان کو تولا گیا تو وہ بھی جھک گئے، آپ نے فرمایا کہ پھر ترازو کو اٹھا لیا گیا۔ راوی فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے آپ سے عرض کیا کہ پھر ہم کہاں ہوں گے؟ آپ نے فرمایا کہ جس جگہ تم اپنے آپ کو رکھو گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الرؤيا/حدیث: 32506]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32506، ترقيم محمد عوامة 31124)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31125 ترقیم الشثری: -- 32507
٣٢٥٠٧ - حدثنا محمد بن (بشر) (١) قال: حدثنا (عبيد الله) (٢) بن عمر قال: حدثني ابو بكر بن سالم عن سالم بن عبد الله عن ابيه (ان) (٣) رسول الله (صلى الله) (٤) عليه وسلم قال:"رايت في النوم كاني انزع بدلو بكرة على قليب فجاء ابو بكر فنزع دلوا او دلوين فنزع نزعا ضعيفا والله يغفر له، ثم جاء عمر بن الخطاب (فاستقى) (٥) فاستحالت غربا، فلم ار عبقريا (من الناس) (٦) (يفري) (٧) (فريه) (٨) حتى روى الناس وضربوا (بعطن) (٩) " (١٠) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب]: (بشير).
(٢) في [ط]: (عبد اللَّه).
(٣) في [ك]: (قال: قال).
(٤) تكررت في: [ك].
(٥) في [هـ]: (فاستسقى).
(٦) سقط من: [أ، ح، ط، هـ].
(٧) في [ط]: (يقري).
(٨) في [ط]: (فريد).
(٩) في [هـ]: (العطن)، وفي [ط]: (بطعن).
(١٠) صحيح؛ أخرجه البخاري (٣٦٨٢)، ومسلم (٢٣٩٣).

حضرت سالم اپنے والد حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں ایک کنویں پر لگی چرخی کے ڈول کو کھینچ رہا ہوں، پس ابوبکر آئے اور انہوں نے ایک یا دو ڈول نکالے، پس انہوں نے کمزوری کے ساتھ کھینچا اور اللہ تعالیٰ ان کو معاف فرما دیں گے، پھر عمر بن خطاب آئے اور انہوں نے پانی نکالنا شروع کیا تو وہ ڈول بہت بڑے ڈول کی شکل اختیار کر گیا، میں نے کوئی ایسا زور آور شخص نہیں دیکھا جو ان جیسا عمدہ کام کرنے والا ہو، یہاں تک کہ لوگ سیراب ہوگئے اور اپنے اونٹوں کو پانی کے قریب ٹھہرانے لگے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الرؤيا/حدیث: 32507]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32507، ترقيم محمد عوامة 31125)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں